اسلام آباد(اے ایف بی)حکومت پاکستان اور کالعدم تحریک طالبان پاکستان(ٹی ٹی پی ) میں مکمل سیز فائر معاہدے پر آمادہ ہو گئے ۔ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات چوہدری فواد حسین نے باضابطہ اعلان کیا ہے کہ جو مذاکرات کالعدم تحریک طالبان پاکستان سے ہو رہے ہیں وہ پاکستان کے آئین اور قانون کے تحت ہوں گے، مذاکرات میں ریاست کی حاکمیت، ملکی سلامتی، متعلقہ علاقوں کے امن، معاشرتی اور اقتصادی استحکام کو ملحوظ خاطر رکھا جائے گا، مذاکرات میں متاثرہ علاقوں کے افراد کو قطعی طور پر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ان افراد کو اعتماد میں لیا جا رہا ہے،مذاکرات کی پیشرفت کو سامنے رکھتے ہوئے سیز فائر میں توسیع ہوتی جائے گی، مذاکرات میں افغانستان کی عبوری حکومت نے سہولت کار کا کردار ادا کیا ہے ۔
پیر کو پارلیمانی قومی سلامتی کمیٹی اجلاس کے بعد کالعدم تحریک طالبان پاکستان سے مذاکرات کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات چوہدری فواحسین نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے یکم اکتوبر 2021ء کو اپنے انٹرویو میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان سے مذاکرات کا تذکرہ کیا تھا، ان مذاکرات کی شروعات ہو چکی ہے ۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ ایک معاہدے کے تحت حکومت پاکستان اور کالعدم تحریک طالبان پاکستان مکمل سیز فائر پر آمادہ ہو چکے ہیں ،جو مذاکرات کالعدم تحریک طالبان پاکستان سے ہو رہے ہیں وہ پاکستان کے آئین اور قانون کے تحت ہوں گے، کوئی بھی حکومت پاکستان کے آئین د اور قانون سے باہر مذاکرات کر ہی نہیں سکتی ۔
چوہدری فواد حسین نے مزید کہا کہ ان مذاکرات میں ریاست کی حاکمیت، ملکی سلامتی، متعلقہ علاقوں کے امن، معاشرتی اور اقتصادی استحکام کو ملحوظ خاطر رکھا جائے گا، مذاکرات میں ان علاقوں کے متاثرہ افراد کو قطعی طور پر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، ان علاقوں کے افراد کو اعتماد میں لیا جا رہا ہے،مذاکرات کی پیشرفت کو سامنے رکھتے ہوئے سیز فائر میں توسیع ہوتی جائے گی ۔ وزیر اطلاعات نے کہا کہ مذاکرات میں افغانستان کی اتھارٹیز (عبوری حکومت) نے سہولت کار کا کردار ادا کیا ہے، یہ بات خوش آئند ہے کہ پاکستان کے یہ علاقے ایک طویل عرصے کے بعد مکمل امن
Leave a Reply