دبئی کا گولڈن ویزا حاصل کرنے کا انتہائی آسان طریقہ

دبئی ( اے ایف بی) متحدہ عرب امارات نے طویل مدتی ویزا سکیم کے تحت گولڈن ویزا کارڈ جاری کرنے کا فیصلہ کیا تھا جس..

دبئی ( اے ایف بی) متحدہ عرب امارات نے طویل مدتی ویزا سکیم کے تحت گولڈن ویزا کارڈ جاری کرنے کا فیصلہ کیا تھا جس کے تحت ویزہ ہولڈر کے پاس 10سال کا رہائشی پرمٹ ہوگا ، اگر آپ بھی 5یا 10سال کے اس گولڈن ویزے کے حصول کے خواہاں ہیں تو مندرجہ ذیل معلومات آپ ہی کے لیے ہیں۔ گولڈن ویزے کے حصول کا طریقہ انتہائی آسان ہے، اس کے لیے آن لائن درخواست بھی دی جا سکتی ہے، اس مقصد کے لیے آپ کو ویب سائٹ business.goldenvisa.aeپر ایک اکاﺅنٹ بنانا ہو گا، یہاں آپ اپنا ای میل ایڈریس دیں گے اور پاس ورڈ لگائیں گے، اس ای میل ایڈریس پر آپ کو ویری فکیشن کوڈ بھیجا جائے گا، جس کے ذریعے آپ اپنے اکاﺅنٹ کو ’ویری فائی‘ کریں گے اور اس کے بعد آن لائن فارم پُر کرنے کا مرحلہ شروع ہو جائے گا۔

اس آن لائن فارم میں آپ کو اپنی ذاتی معلومات مہیا کرنی ہوں گی اور ضروری دستاویزات اپ لوڈ کرنی ہوں گی، درخواست جمع کرانے کے بعد 30دن کے اندر آپ کو حتمی جواب سے آگاہ کیا جائے گا۔ رپورٹ کے مطابق دنیا بھر سے مختلف شعبوں میں پیشہ وارانہ قابلیت کے حامل افراداور طالب علم اس ویزے کے لیے درخواست دے سکتے ہیں۔ گولڈن ویزے کی اہلیت سے متعلق تمام شرائط مذکورہ ویب سائٹ پر بیان کی گئی ہیں، جو سرمایہ کارایک کروڑ درہم کی سرمایہ کاری کریں گے انہیں 10سال کے لیے گولڈن ویزا دیا جائے گا جبکہ مختلف شعبوں میں خصوصی مہارت رکھنے والوں کو پانچ سالہ ویزا ملے گا۔

درخواست دینے کے بعد آپ مجاز حکام سے ای میل ایڈریس visa@area2071.aeپر رابطہ کر سکتے ہیں۔ ویزے سے متعلق معاملات کے لیے فیڈرل اتھارٹی برائے شناخت و شہریت سے رابطے کے لیے contactus@ica.gov.aeپر ای میل کریں، اس کے علاوہ آپ فون نمبر97124955555+پر بھی رابطہ کر سکتے ہیں۔

About the Author

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

About the Author

Easy WordPress Websites Builder: Versatile Demos for Blogs, News, eCommerce and More – One-Click Import, No Coding! 1000+ Ready-made Templates for Stunning Newspaper, Magazine, Blog, and Publishing Websites.

BlockSpare — News, Magazine and Blog Addons for (Gutenberg) Block Editor

Search the Archives

Access over the years of investigative journalism and breaking reports