کراچی، لاہور، اسلام آباد اور راولپنڈی(اے ایف بی) تحریک لیبک پاکستان کی جانب سے جاری احتجاج بیشتر مقامات سے ختم ہوگیا ہے، جب کہ چند ایک مقامات پر پولیس اور مظاہرین میں جھڑپوں کی اطلاعات ہیں۔ تحریک لیبک پاکستان کے سربراہ علامہ سعد رضوی کی گرفتاری کے بعد سے اب تک ملک بھر کے بیشتر مقامات پر احتجاج اور دھرنے تیسرے روز میں داخل ہوگئے ہیں، تاہم پولیس حکام کے مطابق ملک کے بیشتر علاقوں سے احتجاج ختم کروا کرٹریفک بحال کرادی گئی ہے۔
راولپنڈی کے مختلف مقامات پر بھی ٹی ایل پی کے مظاہرین کا احتجاج اور دھرنے جاری ہیں، اور کئی مقامات پر پولیس اور مظاہرین کے مابین جھڑپوں سے متعدد افراد زخمی بھی ہوئے ہیں، لیاقت باغ چوک پر پولیس کی جانب سے آنسو گیس کی شدید شیلنگ کی گئی جب کہ مظاہرین بھی پولیس پر پتھراؤ کررہے ہیں، مری روڈ پر جھڑپوں کا سلسلہ وقفے وقفے سے جاری ہے، اور ایس ایچ او وارث خان یاسر محمود عباسی شدید زخمی ہوگئےجنہیں احتجاج میں شامل افراد نے طبی امداد کے اسپتال منتقل کیا۔
راولپنڈی میٹرو بس ٹریک میدان جنگ بن گیا ہے، اور رینجرز اور مظاہرین میں شدید جھڑپیں جاری ہیں، فورسز کی جانب سے شدید شیلنگ اور ربڑ کی گولیوں کا استعمال ہورہا ہے، رینجرز نے میٹرو ٹریک پر مظاہرین کو دونوں جانب سے گھیر کر لاٹھی چارج کیا، جس میں درجنوں افراد زخمی ہوگئے، رینجرز نے میٹرو ٹریک کا قبضہ حاصل کرکے متعدد افراد کو گرفتار لیا، جس کے بعد مری روڈ پر مظاہرین نے متعدد املاک کو آگ لگا دی، لیاقت باغ چوک کا کنٹرول 2 روز سے مظاہرین کے پاس تھا، جسے رینجرز نے خالی کرالیا اور مظاہرین کو منتشر کرنے کے بعد متعدد افراد کو گرفتار کرلیا گیا۔














