Month: April 2021

  • نجی تعلیمی اداروں کا 8 اپریل لانگ مارچ کے حوالے سے انتظامات مکمل،

    راولپنڈی (اے ایف بی ) 8 اپریل لانگ مارچ کے حوالے سے انتظامات مکمل، مرکزی کمیٹیاں تشکیل ،ایگزیکٹیو باڈی کے ممبران کی کثیر تعداد میں شرکت، انتظامی کمیٹی، رابطہ کمیٹی، مذاکراتی کمیٹی اور استقبالی کمیٹی کی تشکیل مکمل، ملک ابرار حسین مذاکراتی کمیٹی کے سربراہ، راجہ الیاس کیانی ڈپٹی سربراہ، ممبران میں اشرف ہراج، عرفان مظفرکیانی ،رانا سہیل ،سردار گل زبیر ،ملک حفیظ الرحمان و دیگر شامل ،انتظامی کمیٹی کا سربراہ رانا سہیل، فنانس کمیٹی کے سربراہ ملک حفیظ الرحمان جبکہ استقبالیہ کمیٹی کے سربراہ عرفان مظفر کیانی ہوں گے،

    ملک بھر کے قافلے 8 اپریل کو اسلام آباد پہنچیں گے، سکولز مالکان پرنسپلز اساتذہ طلباء تاجر تنظیمیں، سول سوسائٹی، وکلاء، ٹرانسپورٹرز نے شرکت کی مکمل یقین دہانی کرا میڈیا سے گفتگو کرتےمرکزی صدر ملک ابرارحسین ،اشرف ہراج ،صوبائی صدر پنجاب راجہ محمد الیاس کیانی ، رانا سہیل ،عرفان کیانی نے کہا کہ ہم نے لانگ مارچ کو زون لیول پر کمیٹیاں تشکیل دی گئی ہیں، لانگ مارچ کو ملک بھر سے کثیر تعداد میں شرکاء شامل ہوں گے،،

  • نجی تعلیمی اداروں کا 6 اپریل کو ڈی چوک اسلام آباد میں احتجاجی مارچ کا اعلان


    راولپنڈی (اے ایف بی ) راولپنڈی و اسلام آباد کی تمام تنظیموں پر مشتمل سپریم کونسل نے 6 اپریل کو ڈی چوک اسلام آباد میں احتجاجی مارچ کا اعلان کر دیا اور مختلف امور کی انجام دہی کے لیے کمیٹیاں تشکیل دے کر ورکنگ کرنے کی ہدایات جاری کردیں۔ہمیں حکومت کے کسی وعدے کا اعتبار نہیں رہا۔ اب سپریم کونسل نے متفقہ طور پر 6 اپریل کو ڈی چوک اسلام آباد میں احتجاجی مظاہرے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ اس مظاہرے میں ملک بھر کی سکولز تنظیموں کے علاوہ پیرینٹس، سول سوسائیٹی، پبلشرز، طلباء و طالبات، سٹیشنری مالکان، کینٹین کے مالکان،بک بائنڈرز ڈرائیور پک اینڈ ڈراپ، یونیفارم اور سکول بیگز بنانے والے بھی شریک ہونگے۔

    ۔ میڈیا کوارڈینٹر ابرار احمد خان کے مطابق سپریم کونسل کا ایک اجلاس سپریم کونسل کے کنوینئرڈاکٹر محمد افضل بابر کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں حافظ محمد بشارت،  چوہدری محمد طیب، چوہدری ناصر محمود، زعفران الہی، افتخار احمد، چوہدری ایاز، چوہدری عبیداللہ، زاہد بشیر ڈار،راجہ ارشد،  محمد آصف، ملک نسیم احمد، صابر رحمن بنگش، چوہدری عمران،انعام قریشی راجہ ارشد، عبدالوحید اور مظہر الاسلام شرکت کی۔ شرکاء اجلاس نے نجی تعلیمی اداروں کی بندش سے نجی شعبہ کو ہونے والے غیر معمو لی نقصان اور اس کے ساتھ روا رکھے جانے والا حکومتی رویہ پر انتہائی دکھ کا اظہار کیا۔   شرکاء نے اس بات پر اتفاق کیا کہ نجی تعلیمی ادارے تو ایک ماہ سے بند ہیں اب جو کورونا پھیل رہا ہے اس کا ذمہ دار کون ہے۔ اس کا واضع مطلب ہے کہ کورونا کے پھیلاؤ کا سبب نجی تعلیمی ادارے نہیں ہیں۔

     زعفران الہی کے کہا کہ حکومت کو چاہئے تھا کہ 15 مارچ کو پورے ملک میں دو ہفتوں کے لیے لاک ڈاؤن لگا دیتی اور اس وقت تک صورتحال کافی بہتر ہوتی۔ سپریم کونسل میں اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا کہ گزشتہ سال رمضان المبارک میں سکولوں کی بمدش کے باعث لاکھوں اساتذہ تنخواہوں سے محروم ہوگئے تھی اور ہم اس رمضان المبارک میں انھیں حالات کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ حکومتی وزراء  بیانات کی حد تک رہے اور صرف طفل تسلیاں دیتے رہے لیکن عملی طور پر کچھ نہ کیا۔ سپریم کونسل کے سامنے یہ بات بھی لائی گئی کہ تین ماہ قبل سپریم کونسل کے ممبران کی وفاقی وزیر شفقت محمود سے میٹنگ ہوئی جس میں انھوں نے واضع طور پر کہا تھا کہ نجی تعلیمی اداروں کے لیے ہم نے بلاسود آسان شرائط پر قرضوں کی فراہمی کا جامع پروگرام تیار کرلیا ہے۔ بس کابینہ سے منظوری لینی باقی ہے۔ اس کے بعد کابینہ نے بہت سے بل منظور کیئے مگر سکولوں کے لیے کسی پیکج پر کام نہ ہوسکا۔ 

  • نجی سکولوں کی آن لائن رجسٹریشن کا معاملہ, تاریخ میں توسیع

    لاہور(اےا یف بی)پنجاب بھر کے نجی سکولوں کی آن لائن رجسٹریشن کا معاملہ، پرائیوٹ سکولز ریگولیٹری اتھارٹی نے نجی سکولوں کی رجسٹریشن کیلئے تاریخ میں دو ہفتہ کی توسیع دے دی۔  پنجاب بھر کے نجی سکولوں کی آن لائن رجسٹریشن کی تاریخ میں توسیع کر دی گئی ۔تفصیلات کے مطابق پرائیویٹ سکولز ریگولیٹری اتھارٹی نے نجی سکولوں کی رجسٹریشن کیلئے تاریخ میں دو ہفتہ کی توسیع کی۔ اب نجی سکول مالکان 15 اپریل تک اپنی رجسٹریشن مفت کرواسکیں گے۔اس سے قبل مفت رجسٹریشن کیلئے 31 مارچ آخری تاریخ مقرر کی گئی تھی۔

     واضح رہے کہ صوبہ بھر میں ٹوٹل رجسٹرڈ سکولوں کی تعداد 9 ہزار سے زائد ہے۔ابھی تک رجسٹرڈ سکولوں میں 1000 ہائرسکینڈری اور 2800 ہائی سکول شامل ہیں۔دیگر سکولوں میں 3200 مڈل اور 1800 پرائمری شامل ہیں۔پرائیوٹ سکول رجسٹریشن اتھارٹی کے مطابق تاریخ میں توسیع کا فیصلہ کورونا کی صورتحال کے پیش نظر کیا گیا ہے۔ رجسٹریشن اتھارٹی کا کہنا ہے کہ 15 اپریل کے بعد غیر رجسٹرڈ سکولوں کیخلاف کاروائی کیجائے گی۔ رجسٹریشن نہ کروانے کی صورت میں متعلقہ سکول کو سیل کردیا جائے گا۔