لاہور(اے ایف بی) رکن پنجاب اسمبلی جگنو محسن نے باضابطہ طورپر ن لیگ میں شمولیت کا اعلان کردیا۔آزاد رکن پنجاب اسمبلی جگنو محسن کا حمزہ شہباز شریف کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہنا تھا کہ حمزہ شہباز اور انکے بڑوں کی شکر گزار ہوں ہمیشہ عزت دی۔شریف فیملی سے تعلق ہمارا بہت پرانا ہے ۔ میں آزاد حیثیت میں الیکشن لڑی اور اللہ تعالیٰ نے کامیابی سے نوازا۔ عطاء تارڑ سے رابطے میں رہیں اور میں نے بتایا کہ حکمران جماعت میں شمولیت اختیار نہیں کرنا چاہتی ۔ حلقے کے لوگوں کے کام کرنے ہیں اور تجویز دی گئی کہ آزاد حیثیت برقرار رکھیں۔ وقت آنے پر آپ سے بات کی جائے گی اور جب پچھلے سال اپوزیشن کے استعفوں کی بات کی گئی تو میں نے نواز شریف کو کہا کہ میرا استعفیٰ حاضر ہے ۔ جب کہیں گے تو استعفیٰ سپیکر کی میز پر ہوگا۔ حمزہ شہباز نے جگنو محسن کو پارٹی میں خوش آمدید کہتے ہوئے شکریہ ادا کیا۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے قائد حزب اختلاف پنجاب اسمبلی کا کہنا تھا کہ چار سال میں ایک بات سچی کی وہ تھی سونامی والی تباہی والی۔ہر طرف تباہی ہی تباہی دیکھنے کو مل رہی ہے۔ یہاں ایک دوسرے کی عزت اچھالنے کو اچھا سمجھا جاتا ہے۔ اسے شاباش ملتی ہے۔حمزہ شہباز نے مزید کہا کہ بندوق کے نشانے والی کون سی جمہوریت ہے۔ ہمارے تمام قائدین کو جیل میں ڈالا گیا۔این سی اے کی رپورٹ میں سب سامنے آ گیا۔قوم کو مہنگائی اور بے روزگاری کے علاوہ کچھ نہیں دیا اور اب مگرمچھ کے آنسو روتے ہیں۔سفارتی تعلقات کا مزاق بناتے ہیں۔ قومی اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد بھاری اکثریت سے کامیاب ہوگی۔یادرہے گذشتہ روز میاں نوازشریف نے آزاد رکن پنجاب اسمبلی جگنو محسن کو ٹیلی فون کیا تھا اور ن لیگ میں شمولیت کے لئے کہا گیا تھا۔
Month: April 2022
-
وزیراعظم عمران خان پر قاتلانہ حملے کا منصوبہ وفاقی وزیرکاانکشاف
اسلام آباد (اے ایف بی)وزیراعظم عمران خان پرقاتلانہ حملےکامنصوبہ سامنے آگیا ، جس کے بعد وزیراعظم کی سیکیورٹی میں اضافہ کردیا گیا ہے۔تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر اطلاعات فوادچوہدری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے بیان میں کہا کہ سیکیورٹی ایجنسیزنے رپورٹ کیا عمران خان پرقاتلانہ حملے کامنصوبہ سامنے آیا ہے حکومتی فیصلے کےمطابق وزیراعظم کی سیکیورٹی میں اضافہ کیا گیااس حوالے سے فواد چوہدری نے نجی ٹی وی سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ وزیراعظم پہلے بھی خاص سیکیورٹی پر توجہ نہیں دیتے تھے تاہم موجودہ حالات میں سیکیورٹی میں اضافہ انتہائی ضروری ہے۔وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ سنگین دھمکیوں کے بعد سیکیورٹی بڑھانے کا فیصلہ کیاگیاہے، وزیراعظم آج اپنی معمول کی مصروفیات جاری رکھیں گے۔انھوں نے بتایا کہ قاتلانہ حملے کامنصوبہ وفاقی ایجنسیوں کی طرف سے رپورٹ کیاگیا ہے، ایجنسیوں کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ انتہائی سنجیدہ ہے۔فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ اس بار جو تھریٹ ہے وہ ماضی کے برعکس زیادہ سنگین ہے، قاتلانہ حملےکی منصوبہ بندی موجودہ سیاسی صورتحال میں بہت سنگین ہے۔