اسلام آباد(اے ایف بی) نیب نے آغا سراج درانی کو سپریم کورٹ کے باہر سے گرفتار کرلیا۔ نیب نے اسپیکر سندھ اسمبلی اور رہنما پیپلزپارٹی آغا سراج درانی کو سپریم کورٹ کے احاطے سے گرفتار کرلیا۔ آغا سراج درانی سپریم کورٹ میں ضمانت کی درخواست کے حوالے سے پیش ہوئے تھے۔ تاہم عدالت نے ان کی ضمانت کی درخواست مسترد کردی تھی۔آغا سراج درانی اپنی درخواست مسترد ہونےکے بعد کافی دیر تک سپریم کورٹ کے اندر ہی موجود رہے اورباہر نہیں نکلے، جب کہ نیب کی ٹیم آغا سراج درانی کو گرفتار کر نے کیلئے سپریم کورٹ کے باہر موجود رہی، تاہم جیسے ہی وہ عدالت سے باہر آئے انہیں نیب کے اہلکاروں نے فوری گرفتار کرلیا۔
اسپیکر سندھ اسمبلی اور پیپلزپارٹی کے رہنما آغا سراج درانی کی ضمانت کی درخواست پر سپریم کورٹ میں کیس کی سماعت ہوئی، کیس کی سماعت جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی، جب کہ آغا سراج درانی ذاتی حیثیت سے عدالت میں پیش ہوئے۔جسٹس عمر عطا بندیال نے آغا سراج درانی کی ٹرائل کورٹ کے سامنے سرنڈر کرنے کی استدعا مسترد کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ ٹرائل کورٹ کے سامنے سرنڈر کرنے کا حکم نہیں دے سکتے، ہم نے قانون کے مطابق چلنا ہے۔ جسٹس سجاد علی شاہ نے ریمار کس دیئے کہ آپ پہلے نیب اتھارٹی کو سرنڈر کریں، سرنڈر کریں گے تو آپ کی درخواست ضمانت ٹیک اپ کر لیں گے۔ سپریم کورٹ نے آغا سراج درانی کی درخواست ضمانت آئندہ سماعت کے لیے فکس کردی۔
Author: irfantv1
-
نیب نے اسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی کو گرفتار کرلیا
-
اساتذہ کا پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے دھرنا، پولیس سے جھڑپ
اسلام آباد(اے ایف بی) آرڈیننس کے ذریعے اسلام آباد کے تعلیمی ادارے میونسپل کارپوریشن کے ماتحت کرنے پر اساتذہ تیسرے روز بھی سراپا احتجاج ہیں۔وفاقی دارالحکومت کے سرکاری تعلیمی اداروں میں تعلیمی سرگرمیاں معطل ہوئے تین روز گزر گئے۔ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے تحت آج تمام اسکولوں میں ہڑتال و بائیکاٹ کرتے ہوئے سیکڑوں اساتذہ و غیر تدریسی ملازمین پریس کلب کے سامنے پہنچ گئے۔
انہوں نے پریس کلب سے ڈی چوک تک ریلی نکالی اور ڈی چوک پر لگائی گئی خاردار تاریں اور رکاوٹیں ہٹا دیں۔ اس دوران پولیس اور اساتذہ میں ہاتھا پائی بھی ہوئی۔سیکڑوں ٹیچرز پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے پہنچ گئے اور دھرنا دے دیا۔ ٹیچرز کی جانب سے حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی گئی۔ مظاہرین نے کہا کہ مطالبات منظور ہونے تک احتجاج جاری رہے گا۔ -
سولہ ہزار سے زائد برطرف سرکاری ملازمین کو حکم امتناع پر بحال کرنے کی استدعا مسترد
اسلام آباد(اے ایف بی) سپریم کورٹ نے 16 ہزار سے زائد برطرف سرکاری ملازمین کو حکم امتناع پر بحال کرنے کی استدعا مسترد کردی۔سپریم کورٹ میں 16 ہزار برطرف سرکاری ملازمین کی بحالی کے کیس کی سماعت ہوئی۔ عدالت نے برطرف ملازمین کو حکم امتناع پر بحال کرنے کی اور فیصلے تک میڈیکل الاؤنس دینے کی استدعا بھی مسترد کردی۔جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہا کہ کوشش کرینگے روزانہ سماعت کرکے آئندہ ہفتے مختصر فیصلہ سنا دیں۔جسٹس سجاد علی شاہ نے ریمارکس دیے کہ حکومت خود ملازمین کی بحالی کیلئے عدالت آئی ہے، اگر ملازمین کو غلط نکالا گیا ہے تو حکومت بحال کرے، بعض اداروں نے ملازمین کے کنٹریکٹ ختم ہونے پر انہیں نکالا، کنٹریکٹ میں توسیع کا مطلب ہے ملازمین اس قابل نہیں تھے، کیا ایسے ملازمین کو قانون بنا کر زبردستی بحال کیا جا سکتا ہے؟، ایسے ملازمین کو بھی بحال کیا گیا جن کی اپیلیں سپریم کورٹ سے مسترد ہوچکی تھیں، عدالت نے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی اور آئین سے متصادم ہونے پر قانون کالعدم قرار دیا، جن کے کنٹریکٹ ختم ہو چکے تھے انہیں کیسے بارہ سال بعد بحال کیا گیا؟۔
جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ بارہ سال بعد برطرف ملازمین کی بحالی نئے امیدواروں کی حق تلفی ہے، ملازمت کیلئے اپلائی کرنا ہر شہری کا بنیادی حق ہے۔ جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہا کہ ملازمین کی بحالی اور مراعات دینے کیلئے قانون موجود ہے، کیا کام کیے بغیر کسی کو 12 سال کی تنخواہ دینے کا قانون بن سکتا ہے؟ملازمین کے وکیل وسیم سجاد نے کہا کہ لوگوں کی عمر زیادہ ہوچکی ان کے بچے اسکول جا رہے ہیں۔ جسٹس سجاد علی شاہ نے کہا کہ عدالت میں صرف قانون کی بات کریں، ریٹائر ملازمین کو ایک دن نوکری پر بلا کر تمام مراعات دی گئیں۔
جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہا کہ خلاف قانون ملازمین کی تعیناتی اور بحالی غیرآئینی ہوتی ہے، ممکن ہے کسی کو سیاسی انتقام کا نشانہ بھی بنایا گیا ہو، مخصوص افراد یا فرد واحد کیلئے بنائے قوانین ماضی میں بھی کالعدم ہوچکے۔جسٹس عمر عطاء بندیال کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بنچ نے مزید سماعت پیر تک ملتوی کر دی۔ جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہا کہ پیر سے روزانہ کی بنیاد پر سماعت ہوگی۔ -
بیان حلفی کیس؛ سابق چیف جج گلگت بلتستان رانا شمیم کا اسلام آباد ہائیکورٹ میں حیران کن بیان
اسلام آباد(اے ایف بی)سابق چیف جسٹس ثاقب نثار سے متعلق بیان حلفی کیس میں سابق چیف جج گلگت بلتستان رانا شمیم نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں حیران کن بیان دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اخبار کو کوئی بیان حلفی نہیں دیا، ان کا بیان سربمہر تھا جو پتہ نہیں کیسے افشا ہوگیا۔اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے سابق چیف جج گلگت بلتستان رانا شمیم کے بیان حلفی پر توہین عدالت کے کیس کی سماعت کی۔ سابق چیف جج گلگت بلتستان رانا شمیم ہائی کورٹ میں پیش ہوئے۔اخبار کے مالک نے شوکاز نوٹس پر ہائی کورٹ میں جواب جمع کراتے ہوئے کہا کہ جہاں تک متعلقہ خبر کی بات ہے، میں اپنے ایڈیٹر کی بات سے متفق ہوں، ایڈیٹر نے خبر کی اشاعت سے قبل بتایا کہ وہ مطمئن ہیں کہ فریقین کا موقف معلوم کیا گیا ہے، استدعا ہے کہ توہین عدالت کا شوکاز نوٹس واپس لیا جائے۔
ہائی کورٹ نے ریمارکس دیے کہ توہین عدالت سے متعلق اہم معیار ہم نے فردوس عاشق اعوان کیس میں طے کر دیے ، پچھلی سماعت پر بھی کہا تھا کہ یہ ہمارا بھی احتساب ہے ، آزادی اظہار رائے کو مدنظر رکھتے ہوئے کچھ ڈیوٹیز بھی ہیں۔عدالت نے رانا شمیم کو پانچ روز میں شوکاز نوٹس پر جواب جمع کرانے کا حکم دیا، تو رانا شمیم نے بارہ دسمبر کے بعد کا وقت دینے کی استدعا کرتے ہوئے کہا کہ ابھی وہ بیان حلفی بند ہے جسے میں نے خود بھی نہیں دیکھا۔ عدالت نے حیرت کا اظہار کیا کہ کیا آپ نے اپنا بیان حلفی نہیں دیکھا؟۔ جس پر رانا شمیم نے کہا کہ جو بیان حلفی اس عدالت میں جمع ہوا ہے وہ نہیں دیکھا۔چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ آپ نے تین سال بعد بیان حلفی دیا، آپ نے کسی مقصد کے لیے لندن میں دیا ہو گا ، یہ آپ کا بیان حلفی ہے یا نہیں وہی آپ نے جواب میں لکھنا ہے، مقصد کیا تھا بیان حلفی کا وہ آپ نے بتانا ہے ، نا صرف اس عدالت بلکہ تمام ججز کو آپ کے بیان حلفی نے مشکوک بنادیا ہے، یہ سنگین توہین عدالت ہے ، عدالت نے ماضی میں کوشش کی کہ عوام کا اعتماد عدلیہ پر بحال ہو، آپ بتائیں کہ بیان حلفی ہے یا نہیں۔
ثاقب نثار سے متعلق بیان حلفی دینے والے رانا شمیم نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں حیران کن بیان دیتے ہوئے کہا کہ میرا جو بیان حلفی اخبار میں چھپا وہ ابھی تک دیکھا بھی نہیں ، اخبار نے خبر چھاپنے کے بعد مجھ سے رابطہ کیا تھا، میرا بیان حلفی بند تھا پتہ نہیں کس نے ان کو دے دیا ، میں نے ان کو بیان حلفی کی کاپی نہیں دی۔چیف جسٹس نے کہا کہ اگر بیان حلفی سِیل تھا تو پھر اخبار کو یہ بیان حلفی کیسے ملا؟ ۔رانا شمیم نے جواب دیا کہ مجھے نہیں معلوم کہ جو بیان حلفی اخبار میں رپورٹ ہوا وہ کون سا ہے؟ میں پہلے اسے دیکھ لوں، بارہ دسمبر کے بعد کی تاریخ رکھ لیں تو میں کافی ایزی ہو جاؤں گا، اس سے پہلے کی ڈیٹ رکھی تو اوریجنل بیان حلفی نہیں آ سکے گا۔اٹارنی جنرل خالد جاوید خان نے عدالت سے کہا کہ پہلی دفعہ انہوں نے کہا ہے کہ انہوں نے یہ بیان حلفی کسی کو نہیں دیا تھا ، عدالت ان کو کہے کہ اصل بیان حلفی عدالت کے سامنے پیش کریں، یہ دس سال پہلے کی دستاویز نہیں دس نومبر کی ہے اور اس وجہ سے عدلیہ کے خلاف مہم چل رہی ہے، کس نے بیان حلفی لکھا وہ تو سامنے آئے، میری درخواست ہے کہ یہ ریکارڈ پر آجائے کہ یہ نہیں جانتے کہ بیان حلفی میں کیا تھا، رانا شمیم کو تین سال پہلے کا تو یاد تھا کہ کس نے کیا کہا تھا لیکن بیس دن پہلے کا بیاں حلفی یاد نہیں، جس شخص نے بیان حلفی دیا اسے یاد نہیں کہ بیان حلفی میں کیا لکھا ہے، اگر انہیں نہیں معلوم تو پھر یہ بیان حلفی کس نے تیار کروایا؟۔
چیف جسٹس نے کہا کہ اگر یہ مختلف بیان حلفی پیش کردیتے ہیں تو پھر تو اخبار پر بہت زیادہ ذمہ داری آجاتی ہے، رانا شمیم کے آج کے بیان نے مزید معاملہ الجھایا ہے۔ہائی کورٹ نے حکم دیا کہ رانا شمیم اوریجنل بیان حلفی کے ساتھ تحریری جواب داخل کریں۔ عدالت نے اخبار کے ایڈیٹر انچیف، ایڈیٹر اور ایڈیٹر انوسٹی گیشن کے جوابات عدالتی معاونین کو فراہم کرنے کی ہدایت بھی کی۔عدالت میں رانا شمیم کے بیان حلفی کی کاپی رانا شمیم کے پاس بھی موجود نا ہونے کا انکشاف ہوا۔ رانا شمیم نے کہا کہ کاپی برطانیہ میں ہی ہے، 7 دسمبر تک دستاویزات نہیں پہنچ سکتیں، لہذا میرا شوکاز پر جواب ہی آسکے گا، بیان حلفی کی دستاویز نہیں آسکے گی۔اٹارنی جنرل نے کہا کہ یہ دستاویز بھجوائیں ہم وزارت خارجہ سے پراسس کرا دیں گے۔عدالت نے سات دسمبر تک رانا شمیم کو اصل بیان حلفی اور شوکاز نوٹس کا جواب جمع کرانے کا حکم دیتے ہوئے سماعت ملتوی کردی۔ -
لاپتہ صحافی کے کیس میں شیریں مزاری اور سیکرٹری داخلہ طلب
اسلام آباد (اے ایف بی)اسلام آباد ہائی کورٹ نے لاپتہ صحافی و بلاگر کے کیس میں وزیر انسانی حقوق شیریں مزاری اور سیکرٹری داخلہ کو یکم دسمبر کو ذاتی حیثیت میں طلب کرلیا۔ہائی کورٹ میں صحافی و بلاگر مدثر نارو کی بازیابی کے کیس کی سماعت ہوئی۔ ایڈیشل اٹارنی جنرل قاسم ودود اور ڈپٹی اٹارنی جنرل سید طیب شاہ جبکہ درخواست گزار کی جانب سے وکیل ایمان مزاری عدالت کے سامنے پیش ہوئے۔
ایڈیشنل اٹارنی جنرل متاثرہ فیملی کی وزیراعظم اور کابینہ سے ملاقات کا وقت نہ بتا سکے جس پر چیف جسٹس اطہر من اللہ نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر ایک بڑے آدمی کا بیٹا غائب ہوتا تو ریاست کا رد عمل کچھ اور ہوتا، اس کورٹ نے صرف یہ آرڈر کیا کہ وزیراعظم اور کابینہ سے متاثرہ فیملی کی ملاقات کا وقت بتائیں، اگر کوئی شہری لاپتہ ہو جائے تو یہ انتہائی سنگین جرم ہے، یہ تو کوئی طریقہ نہیں کہ متاثرہ خاندان کمیشن کے پاس مارے مارے پھریں۔عدالت نے وفاقی وزیر انسانی حقوق شیریں مزاری اور سیکرٹری داخلہ کو یکم دسمبر کو ذاتی حیثیت میں طلب کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت یکم دسمبر تک ملتوی کردی۔ -
پاکستان آنے والے مسافروں کو 72 گھنٹے قبل پی سی آر ٹیسٹ کرانے کی شرط برقرار
کراچی(اے ایف بی) سول ایوی ایشن کا کہنا ہے کہ بیرونِ ملک سے پاکستان آنے والے مسافروں کو 72 گھنٹے قبل کورونا پی سی آر ٹیسٹ کرانے کی شرط برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ا کورونا وائرس کی نئی قسم آنے کے بعد سول ایوی ایشن نے بھی پاکستان آنے والی فلائٹس سے متعلق نیا سفری ہدایت نامہ جاری کردیا ہے، اور کورونا کی نئی لہر کی وجہ سے جنوبی افریقہ سمیت افریکا کے 6 ملکوں اور ہانگ کو کیٹگری سی فہرست میں شامل کرکے سفری پابندی عائد کردی ہے۔
سول ایوی ایشن کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ جنوبی افریقہ، ہانگ کانگ، موزمبیق، لیسوتھو، بوٹسوانہ، نمیبیا، ایسواتینی، کیٹگری سی میں شامل ہیں، اور سول ایوی ایشن اتھارٹی کی جانب سے کیٹگری سی میں شامل ممالک کی نئی فہرست جاری کردی گئی ہے،جس کے مطابق جنوبی افریقہ سمیت 7 ممالک کو کیٹگری سی میں شامل کرلیا گیا ہے، کیٹگری سی میں شامل مسافروں کی پاکستان آمد پر پابندی ہوگی، کیٹگری سی میں شامل مسافروں کو ایمرجنسی کی صورت میں واپسی کی اجازت این سی او سی کی کمیٹی دے گی۔
سول ایوی ایشن کا کہنا ہے کہ بیرونِ ملک سے پاکستان آنے والے مسافروں کو 72 گھنٹے قبل کورونا پی سی آر ٹیسٹ کرانے کی شرط برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، پاکستان پہنچنے پر مسافروں کا ایرپورٹ پر ریپد انٹیجن ٹیسٹ ہوگا، مثبت کورونا وائرس آنے پر مسافروں کو سرکاری قرنطینہ سینٹرز میں رکھا جائے گا -
غیر رجسٹرڈ سکولوں کو قانونی دائے میں لانے کےلئے سروے کرنے کا فیصلہ
راولپنڈی ( اے ایف بی)غیر رجسٹرڈ سکولوں کو قانون کے دائرے میں لانے کے لیے ضلع بھر میں سروے 30 دنوں میں مکمل کرنے کا ہدایت،پرائیویٹ ایجوکیشن پرووائیڈر رجسٹریشن اینڈ انفارمیشن سسٹم میں پائے جانے والے نقائص بارے آگاہ کرنے کے لئیے سیکرٹری تعلیم کو لیٹر لکھا جائے، سی ای او ایجوکیشن کو احکامات جاری کر دئیے گئے،ممبر ڈی آر اے عرفان مظفر کیانی کو ہدایت جاری کہ وہ آگاہی مہم کے تحت سیمینار منعقد کرآئیں، 419 نامکمل رجسٹریشن کیسز کے سکولز سربراہان کو پرائیویٹ ایجوکیشن پرووائیڈر رجسٹریشن اینڈ انفارمیشن سسٹم پر ڈیٹا مکمل کرنے کا پیغام جاری کریں، قواعد و ضوابط پورے کرنے والے نجی تعلیمی اداروں کے لیے آسانیاں پیدا کریں گے، اے ایس اے سکول جعلی رجسٹریشن کیس کی انکوائری رپورٹ فوری طلب ذمہ داران کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی،
ان خیالات کا ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ہیڈ کوارٹر محمد عبداﷲ محمود نے ڈسٹرکٹ رجسٹرنگ اتھارٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا،،اجلاس میں سیکرٹری اعظم کاشف، ممبران ناصر ولایت، ملک نعیم الحسن،عرفان مظفر کیانی،فوکل پرسن راجہ امجد اقبال،ملک اختر،ارشاد سلطان ملک، وقاص محمود بھی موجود تھے۔ انہوں نے کہا کہ اتھارٹی کا اجلاس ہر پندرہ دن بعد کے منعقد ہو گا، انہوں نے سیکرٹری اتھارٹی سی ای او ایجوکیشن اعظم کاشف کو ہدایات جاری کیں کہ مستقل رجسڑڈ سکولوں کی رجسٹریشن حکومت پنجاب کے حکم کے تحت ختم ہو چکی ہے ان اداروں کو غیر رجسٹرڈ قرار دیتے ہوئے شوکاز نوٹسز جاری کریں مزکورہ اداروں کو قواعد ضوابط کے تحت ڈسٹرکٹ رجسٹرنگ اتھارٹی سے رجوع کرنا ہو گا ت دیگر سخت کارروائی عمل میں لائی جائے -
مریم نواز کے انکشافات پر تحقیقات کیلئے کمیٹی قائم
اسلام آباد (ااے ایف بی)وفاقی وزیر اطلاعات فوادچوہدری نے مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز کے انکشافات پر تحقیقات کیلئے کمیٹی قائم کر دی۔تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر اطلاعات فوادچوہدری نے مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز کے انکشافات پر تحقیقات کیلئے کمیٹی قائم کر دی۔کمیٹی ن لیگ دور میں اشتہارات میں بے ضابطگیوں پرتحقیقات کرے گی اور من پسند صحافیوں اورمیڈیا گروپس کو نوازنے پررپورٹ مرتب کرے گی۔مریم نواز کی سرپرستی میں قائم میڈیاسیل کے ذریعے 9 ارب 62 کروڑ سے زائدخرچ کیےگئے ، میڈیا سیل سےپنجاب کی ایڈورٹائزمنٹ کنٹرول کرنے کے شواہد بھی سامنے آئے
تحقیقاتی کمیٹی سرکاری رقوم کے غیرقانونی استعمال کی تحقیقات کرکے بھی رپورٹ مرتب کرے گے۔یاد رہے تحریک انصاف نے مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز کے اشتہارات سے متعلق بیان کی تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئےسپریم کورٹ سے معاملے کے ازخود نوٹس کی بھی استدعا کی تھی۔اس سلسلے میں ں پارلیمانی سیکریٹری عالیہ حمزہ نے اسپیکرقومی اسمبلی اور وفاقی وزیراطلاعات کو خط لکھا ، جس میں عالیہ حمزہ نے چیئرمین قائمہ کمیٹی اطلاعات جاوید لطیف سے بھی تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا۔ -
سرکاری اور نجی اسکول، دفاتر ہفتے میں تین روز بند رکھنے کا اعلان
لاہور(اے ایف بی) پنجاب میں اسموگ اور بڑھتی آلودگی کے معاملے پر پنجاب حکومت نے ایکشن لے لیا۔پنجاب میں اسموگ اور بڑھتی آلودگی کے معاملے پر پنجاب حکومت نے ایکشن لیتے ہوئے لاہور کے سرکاری اور نجی اسکول ہفتے میں تین روز بند رہیں گے۔
نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ لاہور میں ہفتہ، اتوار اور پیر کو اسکول بند رہیں گے، 27 نومبر سے 15 جنوری تک نوٹیفکیشن پر عملدرآمد کیا جائے گا۔پنجاب حکومت کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق لاہور کے تمام نجی دفاتر ہفتے میں تین روز بند رہیں گے -
پنجاب لوکل گورنمنٹ ایکٹ کو اسمبلی سے جلد منظور کرایا جائے، وزیراعظم کی ہدایت
اسلام آباد(اے ایف بی) وزیراعظم عمران خان نے ہدایت دی ہے کہ پنجاب لوکل گورنمنٹ ایکٹ کو اسمبلی سے جلد منظور کرایا جائے، اور بلدیاتی انتخابات کے جلد انعقاد کے لئے قانونی کارروائی مکمل کی جائے۔ وزیراعظم عمران خان سے وزیر بلدیات پنجاب میاں محمود الرشید نے پرائم منسٹر ہاؤس اسلام آباد میں ملاقات کی، جس میں پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کے حوالے سے بات چیت ہوئی، وزیر بلدیات نے وزیراعظم کو بلدیاتی انتخابات کی تیاریوں کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی، اور لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2021 کے نمایاں خدوخال سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2021 کا مقصد نچلی سطح پر اختیارات کی منتقلی یقینی بنانا ہے، نئے ایکٹ کے ذریعے بلدیاتی اداروں کو زیادہ بااختیار بنایا جائے گا۔
محمود الرشید نے بتایا کہ لوکل گورنمنٹ کے مؤثر نظام سے عوام کے مسائل ان کی دہلیز پرحل ہوں گے، نیا لوکل گورنمنٹ سسٹم نچلی سطح پر عوام کے مسائل کے حل میں اہم کردار ادا کرے گا، اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی سے عوام کو بااختیار بنانا ہماری اولین ترجیح ہے۔اس موقع پر وزیراعظم عمران خان میاں محمود الرشید کو پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کے جلد انعقاد کا ٹاسک دیتے ہوئے کہا کہ پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کے جلد انعقاد کے لئے قانونی کارروائی مکمل کی جائے، پنجاب لوکل گورنمنٹ ایکٹ کو اسمبلی سے جلد منظور کرایا جائے۔ وزیراعظم نے انصاف صحت کارڈ اور احساس پروگرام کے متعلق تقریبات کے انعقاد کی بھی ہدایت کی۔