Blog

  • راولپنڈی کے شہریوں کیلئے خوشخبری ؛اورنج لائن میٹرو بس صدرمیٹرو روٹ کو بھی منسلک کرنے کی ہدایت

    راولپنڈی کے شہریوں کیلئے خوشخبری ؛اورنج لائن میٹرو بس صدرمیٹرو روٹ کو بھی منسلک کرنے کی ہدایت

    اسلام آباد(اے ایف بی)وزیراعظم محمدشہباز شریف نے ہدایت کی ہے کہ اورنج لائن میٹرو بس کے ساتھ راولپنڈی صدر اور اسلام آباد سیکرٹریٹ کی طرف سے میٹرو روٹ کو بھی منسلک کیا جائے، پشاور موڑ سے اسلام آباد ایئرپورٹ تک میٹرو روٹ کو منسلک کرنے کیلئے فیض احمد فیض سٹیشن پر جنکشن پیر تک تیار اور نئے روٹ سے منسلک ہو جائے گا۔ جمعرات کو وزیراعظم میڈیا آفس سے جاری بیان کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کی طرف سے افتتاح کے بعد فی الوقت اورنج لائن میٹرو پشاور موڑ پر این ایچ اے سٹیشن سے ایئرپورٹ تک فعال ہے۔ وزیراعظم نے چیئرمین سی ڈی اے کو ہدایت کی ہے کہ وہ اورنج لائن کے ساتھ راولپنڈی صدر اور اسلام آباد سیکرٹریٹ کی طرف سے میٹرو روٹ کو بھی منسلک کریں، اس کیلئے فیض احمد فیض بس سٹیشن پر ایک جنکشن تیار کیا جا رہا ہے جو پیر تک تیار ہو جائے گا۔ پیر سے راولپنڈی کے مسافر وزیراعظم کی ہدایات کے نتیجے میں ہوائی اڈے کے کنکشن کے ساتھ ساتھ اورنج لائن کے ذریعے گولڑہ اور نسٹ سے لنک بھی استعمال کر سکیں گے۔ یہ وزیراعظم شہباز شریف کی طرف سے راولپنڈی اسلام آباد کے عوام کیلئے بڑا تحفہ ہے۔

  • وزیراعظم کاعمران خان کوفول پروف سیکیورٹی دینےکاحکم

    وزیراعظم کاعمران خان کوفول پروف سیکیورٹی دینےکاحکم

    اسلام آباد (اے ایف بی) وزیراعظم شہباز شریف نے پی ٹی آئی کے چئیرمین عمران خان کو فول پروف سیکیورٹی فراہم کرنے کا حکم دے دیا ۔شہباز شریف نے سابق وزیراعظم عمران خان کو سکیورٹی تھریٹ کی اطلاع پر وزارت داخلہ کو سیکیورٹی کے فوری اور موثر اقدامات کرنے کی سخت ہدایت کی ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ کو ذاتی طور پرعمران خان کی سیکیورٹی امورکی نگرانی کرنے اور احکامات پر عمل درآمد یقینی بنانے کی بھی ہدایت کی جس کے بعد وزارت داخلہ نے چاروں صوبوں، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے ہوم سیکریٹریز کو لکھے گئے ہنگامی خط میں سابق وزیراعظم عمران خان کے لئے سخت حفاظتی اقدامات کرنے کا حکم دیا۔ وزارت داخلہ نے آئی جی اور چیف کمشنر اسلام آباد کو بھی ہدایات جاری کر دیں۔ہنگامی مراسلے میں کہا گیا ہے کہ پی ٹی آئی کے چئیرمین عمران خان ملک بھر میں جہاں بھی جائیں ان کی سیکیورٹی کویقینی بنایا جائے۔عمران خان کی بنی گالہ رہائش گاہ پر بم ناکارہ بنانے سمیت دیگرضروری سیکیورٹی اقدامات کئے جائیں

  • اسٹیبلشمنٹ سے تعلقات خراب نہ ہوتے تو آج حکومت میں ہوتے، فواد چوہدری

    اسٹیبلشمنٹ سے تعلقات خراب نہ ہوتے تو آج حکومت میں ہوتے، فواد چوہدری

    اسلام آباد(اے ایف بی) پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور سابق وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کہا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ سے تعلقات خراب نہ ہوتے تو آج حکومت میں ہوتے، اسٹیبلشمنٹ سے تعلقات کئی مہینوں سے خراب ہیں۔نجی ٹی وی کے پروگرام میں دوران گفتگو کہا کہ ہم نے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ تعلقات ٹھیک کرنے کی بہت کوشش کی تھی جبکہ سابق وزیر اعظم عمران خان نے لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کو آرمی چیف بنانے کے بارے میں کبھی نہیں سوچا تھا۔فواد چوہدری نے مزید کہا کہ عمران خان اتنی لمبی پلاننگ نہیں کرتے کیونکہ نہ وہ سازشی آدمی ہیں اور نہ ہی ان میں اتنی صلاحیت ہے کہ سازش کریں۔

  • توشہ خانہ کیس؛ عمران خان کو ملنے والے تحائف کی تفصیل عام کرنے کا حکم

    توشہ خانہ کیس؛ عمران خان کو ملنے والے تحائف کی تفصیل عام کرنے کا حکم

    اسلام آباد (اے ایف بی)اسلام آباد ہائیکورٹ نے سابق وزیراعظم عمران خان کو ملنے والے تحائف کی تفصیل عام کرنے کا حکم دے دیا۔اسلام آباد ہائی کورٹ میں سابق وزیر اعظم عمران خان کو توشہ خانہ سے ملنے والے تحائف کی معلومات دینے سے روکنے کی درخواست کی سماعت ہوئی۔ عدالت نے وفاق کو 2 ہفتے میں جواب جمع کرانے کے لیے وقت دے دیا۔عدالت نے درخواست گزارکومعلومات فراہم کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ معلومات پبلک کرنے پرحکم امتناعی نہیں تواسٹیبلشمنٹ ڈویژن معلومات فراہم کرے۔اسلام آباد ہائیکورٹ نے ریمارکس میں کہا کہ یہ پالیسی ہونی ہی نہیں چائیے تھی کہ کچھ فیصد رقم دیکر تحفہ گھر لے جائیں۔ ایسی پالیسی بنانے کا مطلب تو یہ ہوا کہ تحفوں کی سیل لگا رکھی ہے۔جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ریمارکس دئیے کہ حکومت پاکستان کو جو تحفہ دیا گیا ہو وہ اس آفس کوجاتا ہے۔یہ تحائف گھرلے جانے کے لئے نہیں ہیں۔ بیرون ملک سے ملے تحائف کوئی گھر لے گیا ہے تو واپس لیں۔لوگ آتے اور چلے جاتے ہیں وزیراعظم آفس وہیں رہتا ہے۔عدالت نے کہا کہ گوگل پرجائیں جو تحائف پاکستان نے دئیے وہ آج بھی دیکھے جا سکتے ہیں بیرون ملک کہاں کہاں رکھے ہیں۔ حکومت کے لیے ضروری ہے کہ 27 جنوری 2021 کے حکم پر عمل کرے ۔جسٹس میاں گل حسن کا ریمارکس میں کہنا تھا کہ گزشتہ بیس سال کے تحائف کو بے شک اسی طرح دیکھ لیں۔ اگر کوئی آئینی تشریح اس پر کرنی ہے تو ہم کر دیں گے۔جو لوگ تحائف اپنے گھر لے گئے ہیں ان سے واپس لیں۔وفاق کی جانب سے ڈپٹی اٹارنی جنرل نے نئی حکومت آنے کے بعد جواب کے لئے وقت مانگ لیا۔ وفاق کی جانب سے ڈپٹی اٹارنی جنرل ارشد کیانی عدالت میں پیش ہوئے اورہدایت لینے کے لئے مہلت کی استدعا کی۔ڈپٹی اٹارنی جنرل نے کہا کہ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نئی حکومت سے رابطے میں ہے جو بھی ہدایات ہوں گی اس سے متعلق آگاہ کریں گے۔درخواست گزارکے وکیل رانا عابد نذیر نے موقف اختیارکیا کہ تحائف کی معلومات شئیرکرنے سے دیگرممالک سے تعلقات متاثرہوں گے۔تحائف کی فروخت کا معاملہ سامنے آیا ہے توکیا عزت رہ جائے گی۔عدالت نے وفاق کو 2 ہفتوں میں جواب جمع کرانے کی ہدایت کی۔

  • پاکستان میڈیا ڈیولپمنٹ ریگولٹری اتھارٹی ختم کرنے کا اعلان

    پاکستان میڈیا ڈیولپمنٹ ریگولٹری اتھارٹی ختم کرنے کا اعلان

    اسلام آباد(اے ایف بی) شہباز شریف حکومت نے پاکستان میڈیا ڈیولپمنٹ ریگولٹری اتھارٹی ختم کرنے کا اعلان کر دیا۔تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے پریس کانفرنس میں کہا کہ پی ایم ڈی اے کا جو کالا قانون میڈیا کی آواز دبانے کے لیے لایا جا رہا تھا، ایسا کوئی کالا قانون نہیں لایا جائے گا، نہ اس پر کوئی کام ہوگا۔مریم اورنگزیب نے کہا آزادئ اظہار پر کسی قسم کی کوئی پابندی عائد نہیں کی جائے گی، ہم نے اس کی بھرپور مخالفت کی تھی، پاکستان میڈیا ڈیولپمنٹ ریگولٹری اتھارٹی کو ختم کیا جا رہا ہے، کسی قسم کی کوئی ریگولٹری اتھارٹی قائم نہیں کی جائے گی۔وفاقی وزیر نے کہا پیکا آرڈیننس پر نظر ثانی کریں گے اور اس خلا کو پر کریں گے، جرنلسٹ پروٹیکشن بل کو جلد لاگو کرنے کی کوشش کرائیں گے، اور عوام کی بہتری کے لیے تنقید کریں گے تو دل سے قبول کریں گے۔انھوں نے کہا میڈیا 4 سال ایک سیاہ دور سے گزرا، بہت سے لوگ نوکری سے نکالے گئے، کئی صحافیوں کے پروگرامز بند کر دیے گئے، اور 4 سال میڈیا کے لوگوں نے سنسر شپ میں جدوجہد کی، ہم سمجھتے ہیں کہ آزادی اظہار رائے ہوگا تو معاشرہ بہتر انداز سے چلے گا۔مریم اورنگزیب نے سابقہ حکومت کو مخاطب کر کے کہا 4 سال آپ نے جو سیاست کی اسے صحافیوں کے گھروں تک نہیں لے جا سکتے، کسی صحافی کے گھر کے باہر مظاہرے بھی برداشت نہیں ہیں، وزیر اعظم نے بھی آئی جی اسلام آباد کو ہدایت کر دی ہے، جو یہ کام کریں گے سخت سے سخت سزا دی جائے گی، یہ حکومت الزام نہیں لگائے گی بلکہ قانون اپنا راستہ اختیار کرے گی۔وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ صدر پاکستان آئینی عہدہ کا حق پورا نہیں کر سکتے تو بہترین آپشن ہے کہ استعفیٰ دے دے، عوام دیکھ رہی ہے آئینی عہدے کا غلط استعمال ہو رہا ہے، گورنر پنجاب وزیر اعلیٰ سے حلف نہیں لے رہے، صدر بھول چکے ہیں کہ وہ صدر پاکستان ہیں نہ کہ صدر پی ٹی آئی، آئینی عہدے کو سیاست کے لیے استعمال کرنا ہے تو عہدے سے علیحدہ ہو جائیں۔انھوں نے کہا کہ وزیر اعظم ایک سے دو دن میں قوم سے خطاب کریں گے، بلاول سے متعلق انھوں نے کہا کہ وہ نواز شریف سے ملنے جا رہے ہیں، واپسی پر حلف اٹھا لیں گے۔

  • یکم مئی سے کونسے موبائل فونز پر واٹس ایپ سروس بند ہوجائے گی؟ فہرست جاری

    یکم مئی سے کونسے موبائل فونز پر واٹس ایپ سروس بند ہوجائے گی؟ فہرست جاری

    لاہور(اے ایف بی)دنیا بھر میں مقبول ترین میسجنگ ایپ واٹس ایپ نے ایسے موبائل فونز کی فہرست جاری کر دی ہے جن پر 30 اپریل 2022 کے بعد وٹس ایپ کی سہولت فعال نہیں رہے گی اور سروس کو بند کردیا جائے گا۔ میٹا کی زیر ملکیتی ایپلی کیشن واٹس ایپ کی جانب سے جاری ہونے والی فہرست میں مشہور موبائل فون کمپنیوں سام سنگ اور ایپل سمیت متعدد دیگر کمپنیوں کے فونز شامل ہیں جبکہ اینڈرائڈ کے آپریٹنگ سسٹم 1.0 سے لیکر 4.0 تک پر وٹس ایپ سروس قابل استعمال نہیں رہے گی۔ واٹس ایپ کی جانب سے جن فونز پر 30 اپریل 2022 کے بعد سروس بند کر دی جائے گی ان میں درج ذیل فون شامل ہیں۔ سام سنگ گلیکسی ٹرینڈ لائٹ، گلیکسی ایس 3 منی، گلیکسی ایکس کور2 اور گلیکسی ٹرینڈII، ٹرینڈ لائٹ، گلیکسی ایکس کور 2 ،آئی فون 6ایس، آئی فون ایس ای اور آئی فون 6 ایس پلس، ایل جی،جی لوسڈ 2، آپٹمس ایف 7، آپٹمس ایل 3 ڈوئیل، آپٹمس ایل 4، آپٹمس ایل 2، آپٹمس ایف 3 کیو، زیڈ ٹی ای گرانڈ ایس فلیکس، زیڈ ٹی ای وی 956 اس کے علاوہ ہواوے اسینڈ جی 740، اسینڈ میٹ اور اے ایس سی ڈی 2جبکہ سونی ایکسپیریا ایم اور ایچ ٹی سی ڈیزائر 500 پر بھی وٹس ایپ سروس فعال نہیں رہے گی۔

  • نومنتخب وفاقی کابینہ کے اراکین نے حلف اٹھا لیا

    اسلام آباد(اے ایف بی)قائم مقام صدر مملکت میر محمد صادق سنجرانی نے نومنتخب وفاقی کابینہ کے اراکین سے حلف لیے لیا۔ حلف اٹھانے والی 34رکنی کابینہ میں 31وفاقی وزراء اور تین وزرا مملکت شامل ہیں۔ حلف برداری کی تقریب ایوان صدر میں منعقد ہوئی۔حلف برداری کی تقریب میں وزیر اعظم میاں محمد شہباز شریف،پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری،سپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف، سابق وزیر اعظم اور سینیٹ میں قائد حزب اختلاف مخدوم سید یوسف رضا گیلانی، سابق گورنر پنجاب مخدوم سیداحمد محمود ،ایم کیو ایم پاکستان کے کنوینر ڈاکٹر خالدمقبول صدیقی،اراکین قومی اسمبلی و سینیٹ، غیر ملکی سفارتکاروں اور دیگر اعلیٰ حکام نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ حلف اٹھانے والے وزراء میں مسلم لیگ(ن)14، پیپلز پارٹی 11 اور جے یو آئی کو 4 ، ایم کیو ایم پاکستان دو، بلوچستان عوامی پارٹی ایک ، جمہوری وطن پارٹی ایک اور پاکستان مسلم لیگ (ق)ایک شامل ہیں جبکہ بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل)کے دو ارکان نے پہلے مرحلہ میں حلف نہیں اٹھایا۔ (ن)لیگ کی جانب سے خواجہ محمد آصف، احسن اقبال، رانا ثناء اللہ ، سردارایاز صادق،انجینئر خرم دستگیر خان، راناتنویر حسین مریم اورنگزیب،خواجہ محمد سعدرفیق، میاں ریاض حسین پیرزادہ،ڈاکٹر مفتاح اسماعیل احمد،مرتضیٰ جاوید عباسی، سینیٹر چوہدیری اعظم نذیر تارڑ اورمیاں جاوید لطیف بطور وفاقی وزراء حلف اٹھانے والوں میں شامل ہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب حلف اٹھانے والے وزاء میں سید خورشید احمد شاہ،سید نوید قمر،سینیٹر شیری رحمان،مخدوم سید مرتضیٰ محمود،عبدالقادر پٹیل، ساجد حسین طوری،میر احسان الرحمان مزاری، عابد حسین بھایو اور شازیہ مری شامل ہیں جب کہ ایم کیو ایم کی جانب سے سید امین الحق اورسینیٹر سید فیصل علی سبزواری شامل ہیں۔جے یو آئی( ف)کی جانب سے مولانا اسعد محمود ، مولانا عبدالواسع، مفتی عبدالشکور،سینیٹر طلحہ محمود، بلوچستان عوامی پارٹی کی جانب سے محمد اسرار ترین،جمہوری وطن پارٹی کی جانب سے نوابزادہ شاہ زین بگٹی اور پاکستان مسلم لیگ (ق) کی جانب سے چوہدری طارق بشیر چیمہ بطور وفاقی وزیرحلف اٹھانے والوں میں شامل ہیں جبکہ(ن)لیگ کی ایم این اے عائشہ غوث پاشا، پی پی پی کی ایم این اے حنا ربانی کھر اور (ن)لیگ کے ایم این اے عبدالرحمان خان کانجو بطور زیر مملکت حلف اٹھانے والوں میں شامل ہیں۔ جبکہ تین مشیروں کا تقرر بھی کیا گیا ہے جن میں پاکستان مسلم لیگ (ن)خیبرپختونخوا کے صدر انجینئر امیر مقام خان، پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما چوہدری قمر زمان کائرہ اور سردار جہانگیر خان ترین گروپ کے عون چوہدری شامل ہیں۔ کابینہ کے پہلے مرحلہ میں حلف نہ اٹھانے والوں میں پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور پاکستان مسلم لیگ (ن)کے سینئر نائب صدر اور سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی شامل ہیں۔

  • چیف الیکشن کمشنرکانام کس نے دیا؟عمران خان کابڑاانکشاف

    اسلام آباد(اے ایف بی)سابق وزیراعظم عمران خان نے چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کے خلاف ریفرنس دائر کرنے کا اعلان کردیا۔صحافیوں سے غیررسمی گفتگو میں عمران خان نے کہا کہ چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کے خلاف ریفرنس دائر کرنے جا رہے ہیں کیونکہ الیکشن کمیشن نے بروقت حلقہ بندیاں نہ کر کے نااہلی کا مظاہرہ کیا، الیکشن کمیشن کی نااہلی کے باعث ملک میں قبل از وقت انتخابات تاخیر کا شکار ہوئےچیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کا نام اسٹیبلشمنٹ نے دیا اور چیف الیکشن کمشنر کی تعیناتی پر حکومت اپوزیشن میں ڈیڈ لاک پیدا ہوگیا تھا۔ چیف الیکشن کمشنر کی تعیناتی آزاد باڈی کے ذریعے ہونی چاہیے۔عمران خان نے کہا کہ آئندہ الیکشن میں ٹکٹس خود دوں گا اور کسی الیکٹ ایبل کو ٹکٹ نہیں دوں گا، انتخابات ہوکر رہیں گے۔ اتحادیوں کو ٹکٹ دیکر سبق سیکھا ہے کہ اتحادی نہیں ہونے چاہیے۔انہوں نے بتایا کہ اسٹیبلشمنٹ تین تجاویز لے کر آئی جس میں سے الیکشن والی تجویز سے اتفاق کیا، میں استعفے اور تحریک عدم اعتماد کی تجویز کیسے مان سکتا تھا۔ میرے خلاف اس وقت سازش ہوئی جب چیزیں ٹھیک ہو رہی تھیں اور میری اس مافیا سے لڑائی تھی جو قیمتیں اوپر لے جا رہی تھیں۔عمران خان نے کہا کہ روس جانے سے پہلے جنرل باجوہ کو فون کیا، جس پر جنرل باجوہ نے کہا ہمیں روس جانا چاہیے۔ روس سے ہتھیار، تیل، گندم اور گیس کی بات کی، روس گندم تیل 30 فیصد سستا دینے کو تیار تھا، آزاد خارجہ پالیسی ہوتی تو یہ نہ ہوتا، ملک معاشی خوشحال ہونا شروع ہوا تو یہ سازش آگئی۔ سابق وزیراعظم نے کہا کہ ہمیں کہا گیا روس نہ جائیں جبکہ دوسری جانب ان کا اتحادی انڈیا تیل خرید رہا تھا۔ ہمیں کہا گیا روس کے خلاف یو این میں ووٹ دیں، قوم کا کئی ہزار ارب کا فائدہ کیا جبکہ ریکو ڈک اور کارکے کے مسائل حل کئے

  • سردار تنویرالیاس بلامقابلہ وزیراعظم آزاد کشمیر منتخب

    مظفر آباداے ایف بی) پاکستان تحریک انصاف(پی ٹی آئی) سے تعلق رکھنے والے سردار تنویرالیاس بلامقابلہ آزاد کشمیرکے وزیراعظم منتخب ہوگئے۔پاکستان تحریک انصاف کے رہنما سردار تنویر الیاس بلا مقابلہ آزادکشمیر کے وزیراعظم منتخب ہوگئے۔ متحدہ اپوزیشن نے وزیراعظم کے انتخاب کے لیے ہونے والے اجلاس کا بائیکاٹ کر دیا جس کے باعث پی ٹی آئی امیدوار کے مقابلے میں کوئی امیدوار نہیں تھا۔پی ٹی آئی کی جانب سے سردار تنویر الیاس نے کاغذات نامزدگی جمع کرائے تھے جنہیں سیکرٹری اسمبلی نے درست قرار دیا جس کے بعد سردار تنویر الیاس بلا مقابلہ آزاد کشمیر کے وزیراعظم منتخب ہوگئے۔ان کے حق میں 33 ووٹ ڈالے گئے۔آزاد کشمیرکے وزیراعظم عبدالقیوم خان نیازی کے مستعفی ہونے کے بعد عدالت کے حکم پرنئے قائد ایوان کے انتخاب کے لئے اجلاس ہوا۔آئین کے آرٹیکل 13 اور اسمبلی کے قواعد انضباط کار15 کے تحت وزیراعظم کا کا انتخاب عمل میں لایا گیا۔ پی ٹی آئی 32 اراکین کے ساتھ ایوان میں سرفہرست تھی اوراسے مسلم کانفرنس کی بھی حمایت حاصل تھی۔آزاد کشمیر میں پہلے وزیراعظم خان عبدالحمید خان کا انتخاب 5جولائی 1975کو ہوا تھا۔ آزاد کشمیر میں 1985سے لیکر اب تک پارلیمانی نظام نافذ ہے۔سردار سکندر حیات، سردار عتیق احمد خان اور راجہ فاروق حیدر خان دو دو مرتبہ وزیراعظم آزاد کشمیر کے عہدے پر فائز رہ چکے ہیں۔

  • غیرحاضری مہنگی پڑگئی،حریم شاہ کی ایف آئی اے کیخلاف درخواست مسترد

    کراچی(اے ایف بی) سندھ ہائیکورٹ نے مسلسل غیرحاضری پرٹک ٹاکر حریم شاہ کی ایف آئی اے کیخلاف درخواست مسترد کردی۔سندھ ہائی کورٹ میں ایف آئی اے کی کارروائی کے خلاف حریم شاہ کی درخواست کی سماعت ہوئی۔عدالت نے حریم شاہ کے وکیل سےاستفسار کیا کہ عدالتی حکم کے باوجود درخواست گزارکیوں پیش نہیں ہوئیں تو وکیل نے جواب دیا کہ حریم شاہ عمرے کی ادائیگی کے لئے گئی ہوئی ہیں۔حریم شاہ کے وکیل نے عدالت کوبتایا کہ ان کے بینک اکاؤنٹس اورسوشل میڈیا اکاؤنٹس منجمد کردئیے گئے ہیں۔سندھ ہائیکورٹ نے مسلسل غیرحاضری پرحریم شاہ کی درخواست مسترد کردی۔ عدالت نے کہا کہ حریم شاہ واپس آئیں تو نئی درخواست دائرکرسکتی ہیں۔