Blog

  • نجی تعلیمی اداروں کا 15 مارچ سے تعلیمی سرگرمیاں جاری رکھنے کااعلان

    اسلام آباد(اے ایف بی)سپریم کونسل آف پرائیویٹ سکولز اینڈ کالجز نے نجی تعلیمی اداروں کو دو ہفتے کے لیے بند کرنے کے فیصلے کو مسترد کر دیا۔ اور 15 مارچ سے 50% بچوں کے ساتھ کورونا ایس او۔پیز پر عملدرآمد کرتے ہوۓ تعلیمی سرگرمیاں جاری رکھیں گے۔ کورونا کی موجودہ صورتحال کے ذمہ دار تعلیمی ادارے نہیں بلکہ حکومت کی ناقص پالیسیاں ہیں۔ نجی تعلیمی شعبہ اس وقت نازک ترین صورتحال سے گزر رہا ہے۔ حکومت نے اس شعبہ کو تباہ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ ان خیالات کا اظہار سپریم کونسل کے کنوینئر چودھری ناصر محمود نے پریس کانفرس میں کیا۔ پریس کانفرنس میں ملک اظہر محمود، ابرار احمد خان ،ڈاکٹر محمد افضل بابر، حافظ محمد بشارت، ملک نسیم احمد، صابر رحمان بنگش ، زاہد بشیر ڈار، عبد الوحید، نصیر احمد جنجوعہ، چوہدری ایاز، انعام الدین، افتخار احمد، چوہدری عمران اورمحمد آصف نے شرکت کی۔

    سپریم کونسل کہا کہ یہ وقت بچوں کی تعلیم کے حوالے سے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ ہم کسی بھی طرح تعلیمی اداروں کو بند کرنے کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ اس وقت کرونا پھیلاؤ کا سبب حکومت کی ناقص حکمت عملی پالیسیاں ہیں۔ دو ہفتے قبل حکومت نے کرونا کے حوالے سے اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے فلائٹ آپریشن کی بحالی، شادی ہالز کو انڈور فنکشن اور اسی طرح دیگر شعبہ جات کو بھی کھلی آزادی دے دی گئی۔ کرونا ایس۔او۔پیز کی کھلم کھلا خلاف ورزی کی گئی اور اب حالات آپ کے سامنے ہیں۔ سب سے اہم بات جو یہاں قابل ذکر ہے کہ اس مرتبہ حکومت نے مدارس دینیہ کو بند کر نے کا اعلان نہیں کیا۔ تعلیمی اداروں کی بندش کا فیصلہ ابہام پر مبنی ہے

  • عدالت کا بڑا فیصلہ،ٹک ٹاک پرپابندی عائد کردی

    پشاور (اے ایف بی)پشاور ہائیکورٹ نے ٹک ٹاک ایپ آج سے بند کرنے کا حکم جاری کردیا۔پشاور ہائیکورٹ میں ٹک ٹاک کے خلاف دائر درخواست پر سماعت ہوئی۔ ڈی جی پی ٹی اے، ڈپٹی اٹارنی جنرل، درخواست گزار وکیل نازش مظفر اور سارہ علی عدالت میں پیش ہوئے۔چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ قیصررشید خان نے کہا کہ ٹک ٹاک پر جس طرح کی ویڈیوز اپ لوڈ ہوتی ہیں، یہ ہمارے معاشرے کے لیے قابل قبول نہیں ہے، ٹک ٹاک ویڈیوز سے معاشرے میں فحاشی پھیل رہی ہے اس کو فوری طورپر بند کیا جائے۔چیف جسٹس قیصررشید خان نے ڈی جی پی ٹی اے سے استفسار کیا کہ ٹک ٹاک ایپلی کیشن بند کرنے سے ایپ کو نقصان ہوگا؟۔ڈی جی پی ٹی اے نے جواب دیا جی ان کو نقصان ہوگا، ہم نے ٹک ٹاک کے عہدے داروں کو غیر اخلاقی مواد کنٹرول کرنے کےلیے درخواست دی ہے لیکن ابھی مثبت جواب نہیں آیا۔

    چیف جسٹس قیصر رشید خان نے کہا کہ جب تک ٹک ٹاک کے عہدے دار آپ کی درخواست پر عمل نہیں کرتے اور غیر اخلاقی مواد روکنے کے لئے آپ کے ساتھ تعاون نہیں کرتے اس وقت تک ٹک ٹاک کو بند کیا جائے، اس ایپ سے سب سے زیادہ نوجوان متاثر ہورہے ہیں، ٹک ٹاک کے بارے میں جو رپورٹ مل رہی ہے وہ افسوسناک ہے۔عدالت نے ڈی جی پی ٹی اے سے استفسار کیا کہ ٹک ٹاک کا آفس کہاں ہے جہاں سے یہ کنٹرول ہوتی ہے۔ڈی جی پی ٹی اے نے جواب دیا کہ ٹک ٹاک کا ہیڈ آفس سنگاپور میں ہے، پاکستان میں اس کا آفس نہیں ہے اور یہاں کے لیے اسے دبئی سے کنٹرول کیا جارہا ہے۔عدالت نے حکم دیا کہ جب تک آپ کی درخواست پر عمل نہیں کرتے اس کو بند کیا جائے۔

  • رسولِ اللہ صلی اللہ وعلیہ وسلم کے گستاخانہ خاکے دکھانے والے ملعون کا سر قلم

    فرانس (اے ایف بی)فرانس کے درالحکومت پیرس میں چیچن نوجوان نے طلبا کو اظہار کی آزادی کے نام پر رسولِ اللہ صلی اللہ وعلیہ وسلم کے گستاخانہ خاکے دکھانے والے ملعون استاد کا سر قلم کردیا، پولیس نے حملہ آور نوجوان کو فائرنگ کرکے شہید کردیا۔ تفصیلات کے مطابق پیر س کے ایک سکول میں استاد نے کچھ روز قبل بچوں کو حضرتِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے خاکے دکھائے تھے اور ساتھ ہی اس پر بحث بھی کرائی تھی، جس پر کئی والدین نے اپنے غم و غصے کا اظہار کیا تھا، جمعہ کی شام چیچن نامی نوجوان نے شاتم اسلام استاد کو چھریوں کے وار کرکے قتل کردیا۔

    فرانسیسی ٹیررازم پراسیکیوٹر نے بتایا کہ استاد کو قتل کرنے کا واقعہ پیرس کے شمال مغرب میں واقع کونفلان سینٹ اونوریئن میں پیش آیا۔ پولیس نے 18 سالہ مسلح اور چاقو بردار نوجوان چیچن کو جائے وقوع کے قریب ہی گولی مار کر شہید کردیا ،نوجوان کے ہاتھوں میں خنجر بھی موجود تھا، پولیس نے مشتبہ شخص کے 4 رشتہ داروں کو بھی حراست میں لے لیاجن میں سے ایک کم عمر فرد بھی شامل ہے۔ فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے واقعے کو ‘مسلم دہشت گردانہ حملہ قرار دیا ہے۔صدرمیکرون کا کہنا تھا کہ آج ہمارے ایک شہری کو قتل کر دیا گیا کیونکہ وہ تعلیم دے رہے تھے ۔

    واضح رہے کہ گزشتہ دنوں متنازع فرانسیسی میگزین چارلی ہیبڈو نے ایک بار پھر توہین آمیز خاکے شائع کیے تھے۔ میگزین کی جانب سے شائع کیے گئے توہین آمیز خاکے وہی ہیں جن کے ردعمل میں 7 جنوری 2015 کو اس میگزین پر حملہ کیا گیا تھا۔

  • حضرت محمدۖ کے نام کیساتھ خاتم النبیین لکھنے کی قرارداد منظور

    لاہور(اے ایف بی)قومی اسمبلی کے بعدپنجاب اسمبلی نے بھی حضرت محمدۖ کے نام کے ساتھ خاتم النبیین تحریر کرنا اور بولنا لازمی قرار دینے کی قرارداد منظور کر لی جبکہ نصاب ساز اداروں کی حدود متعین کرنے کے لیے پنجاب اسمبلی میں ہونیوالی قانون سازی پر وزیراعلی، وزیر قانون اور خدیجہ عمر سمیت پارلیمانی لیڈرز کو خراج تحسین پیش کرنے کی قرارداد بھی متفقہ طور پر منظور کرلی گئی۔ سپیکر چودھری پرویز الہی کا کہنا تھاکہ ہمارے لیے یہ اعزاز کی بات ہے کہ پورا ایوان خراج تحسین کا حق دار ہے، پنجاب اسمبلی کے اجلاس کے دوران رائے حق پارٹی پارلیمانی لیڈر محمد معاویہ نے قرارداد پیش کی جس میں نصاب ساز اداروں کی حدود متعین کرنے کے لیے پنجاب اسمبلی میں (ق) لیگ کی رکن خدیجہ عمر فاروقی کے مسودہ قانون پر ہونے والی قانون سازی پر سپیکر، وزیر اعلی پنجاب اور پارلیمانی لیڈز سمیت تمام کو خراج تحسین پیش کیا گیا۔نیلم حیات نے پنجاب اسمبلی میں قرار داد پیش کی، جس میں یہ مطالبہ کیا گیا کہ اس حوالے سے قانون سازی کی جائے کہ جہاں جہاں ہمارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا نام مبارک تحریر یا بولا جائے اس کے ساتھ خاتم النبیین تحریر کرنا یا بولنا لازم قرار دیا جائے، یہ قرارداد متفقہ طور پر منظور کر لی گئی۔واضح رہے کہ قومی اسمبلی، سینیٹ، سندھ اسمبلی میں بھی نصابی کتب، سرکاری دستاویزات میں حضرت محمدۖکے نام کے ساتھ خاتم النبیین لکھنے کی قرارداد متفقہ طور پر منظور کرلی گئی،قومی اسمبلی کے اجلاس میں قرارداد وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور علی محمد خان نے پیش کی تھی جس کی تمام پارلیمانی جماعتوں نے حمایت کی۔قومی اسمبلی نے حضرت محمدۖ کے نام کے ساتھ خاتم النبیین لازمی لکھنے کی قرارداد پر عمل درآمد کرانے کا فیصلہ کرلیا، اس ضمن میں اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے مرکزی و صوبائی حکومتوں کو خط لکھنے کا اعلان کر دیا۔