چترال(اے ایف بی)خیبر پحتون خواہ کے پبلک سروس کمیشن میں اسسٹنٹ سب انسپکٹر ASI کی 420 آسامیوں کیلئے سال 2018 میں اشتہار دیا تھا۔ گریڈ گیارہ کی ان چار سو بیس آسامیوں کیلئے اس وقت 52630 امیدواروں کی درخواستیں موصول ہوئی۔اگلے مرحلے میں Physical Endurance Test ہوا جس میں چودہ ہزار چھ سو ترپن امیدوار کامیاب ہوئے۔ امیدواران کا تعداد زیادہ ہونے کی وجہ سے پبلک سروس کمیشن نے اپنے کمیشن ایکٹ کے احتیارات استعمال کرتے ہوئے 23 نومبر 2019 کو سکریننگ ٹیسٹ مقرر کیا جس میں نو ہزار چار سو تیرہ امیدوار کامیاب ہوئے۔ کمیشن نے تمام امیدواروں کیلئے چوبیس سے پچیس نومبر 2020 کو ایک تحریری امتحان منعقد کیا جس انگلش، اردو، جنرل نالج اور کمپیوٹر پر مبنی پرچے شامل تھے۔ اس مقابلے کے امتحان میں 1043 امیدواران کامیاب ہوئے جنہوں نے اگلے مرحلے کیلئے کوالیفائڈ کیا۔ اس کے بعد تمام امیدواروں سے نفسیات پر مبنی ٹیسٹ اور انٹرویو لیا گیا جس میں سب کامیاب ہوئے۔ آحری مرحلے میں 1043 امیدواران کیلئے فائنل انٹریو گیارہ اکتوبر 2021 کو شروع ہوا جو سات جنوری 2022 کو احتتام پذیر ہوا۔ کمیشن کے رولز کے مطابق فائنل انٹریو حتم ہونے کے چار دن بعد رزلٹ شائع کرنا ہوتا ہے۔ ان امیدواران کی نمائندگی کرتے ہوئے کمال الدین چترالی نے کہا کہ ایک مہینہ گزرنے کے باوجود بھی پبلک سروس کمیشن نے وہ رزلٹ شائع نہیں کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ جب ہم وہاں جاکر پوچھتے ہیں تو ہمیں بتایا گیا کہ تین نومبر 2021 کو صوبائی اسمبلی کا اجلاس ہوا تھا جس میں یہ فیصلہ ہوا تھا کہ PMS کی ایک پچیس پالیسی کو نیل ایڈ وایڈ یعنی کالعدم قراردیا جائے جس کی وجہ سے آپ کا رزلٹ شائع نہیں کیا گیا۔
کما الدین نے بتایا ہمارا امتحان بھی باالکل اسی طرح ہوا تھا جو پچھلے بیجز کے ASI کی آسامیوں کیلئے ہوا تھا جو آج حاضر سروس ہیں اور نوکری کررہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ جب ہم اس آسامی کیلئے امتحان دے رہے تھے تو نہ یہ پالیسی نافذ ہوئی تھی اور نہ اس طرح کا کوئی قانون تھا جس کے باعث ہمارا رزلٹ روک دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ہم پر یہ پالیسی مرتب کی جارہی ہے جو سراسر زیادتی اور ظلم کے مترادف ہے انہوں نے کہا ہم 1043 امیدواران پچھلے چار سالوں سے روزانہ پبلک سروس کمیشن کا چکر لگا رہے ہیں اور اکثر و بیشتر صوبائی اسمبلی کے سامنے احتجاج بھی کرتے ہیں مگر ہماری کوئی شنوائی نہیں ہوئی۔اب تو ہم عمر رسیدہ یعنی Over Age بھی ہوچکے ہیں اور ہمارے لئے دوسرے دروازے بھی بند ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ یہ صرف 1043 امیدوار نہیں بلکہ اتنے ہی حاندان متاثر ہورہے ہیں۔ انہوں نے چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ اور وزیر اعلےٰ ٰخبر پحتون خواہ سے اپیل کی ہے کہ پبلک سروس کمیشن کے ذریعے انہوں نے جو ٹیسٹ انٹرویو پاس کیا ہے انہیں اے ایس آئی کی آسامیوں پر بھرتی کیا جائے تاکہ ان کے گھر کا چولہا بھی جلتا رہے
پبلک سروس کمیشن میں اے ایس آئی کیآسامی کیلئے 1043 امیدواران پچھلے چار سالوں سے در بدر کے ٹھوکرے کھا رہے ہیں۔
چترال(اے ایف بی)خیبر پحتون خواہ کے پبلک سروس کمیشن میں اسسٹنٹ سب انسپکٹر ASI کی 420 آسامیوں کیلئے سال 2018 میں اشتہار دیا تھا۔ گریڈ..
Previous Post
Next Post
Leave a Reply
Latest News

About the Author

AF themes
Easy WordPress Websites Builder: Versatile Demos for Blogs, News, eCommerce and More – One-Click Import, No Coding! 1000+ Ready-made Templates for Stunning Newspaper, Magazine, Blog, and Publishing Websites.

Search the Archives
Access over the years of investigative journalism and breaking reports
You May Have Missed











