Month: March 2021

  • نجی تعلیمی اداروں کا 15 مارچ سے تعلیمی سرگرمیاں جاری رکھنے کااعلان

    اسلام آباد(اے ایف بی)سپریم کونسل آف پرائیویٹ سکولز اینڈ کالجز نے نجی تعلیمی اداروں کو دو ہفتے کے لیے بند کرنے کے فیصلے کو مسترد کر دیا۔ اور 15 مارچ سے 50% بچوں کے ساتھ کورونا ایس او۔پیز پر عملدرآمد کرتے ہوۓ تعلیمی سرگرمیاں جاری رکھیں گے۔ کورونا کی موجودہ صورتحال کے ذمہ دار تعلیمی ادارے نہیں بلکہ حکومت کی ناقص پالیسیاں ہیں۔ نجی تعلیمی شعبہ اس وقت نازک ترین صورتحال سے گزر رہا ہے۔ حکومت نے اس شعبہ کو تباہ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ ان خیالات کا اظہار سپریم کونسل کے کنوینئر چودھری ناصر محمود نے پریس کانفرس میں کیا۔ پریس کانفرنس میں ملک اظہر محمود، ابرار احمد خان ،ڈاکٹر محمد افضل بابر، حافظ محمد بشارت، ملک نسیم احمد، صابر رحمان بنگش ، زاہد بشیر ڈار، عبد الوحید، نصیر احمد جنجوعہ، چوہدری ایاز، انعام الدین، افتخار احمد، چوہدری عمران اورمحمد آصف نے شرکت کی۔

    سپریم کونسل کہا کہ یہ وقت بچوں کی تعلیم کے حوالے سے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ ہم کسی بھی طرح تعلیمی اداروں کو بند کرنے کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ اس وقت کرونا پھیلاؤ کا سبب حکومت کی ناقص حکمت عملی پالیسیاں ہیں۔ دو ہفتے قبل حکومت نے کرونا کے حوالے سے اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے فلائٹ آپریشن کی بحالی، شادی ہالز کو انڈور فنکشن اور اسی طرح دیگر شعبہ جات کو بھی کھلی آزادی دے دی گئی۔ کرونا ایس۔او۔پیز کی کھلم کھلا خلاف ورزی کی گئی اور اب حالات آپ کے سامنے ہیں۔ سب سے اہم بات جو یہاں قابل ذکر ہے کہ اس مرتبہ حکومت نے مدارس دینیہ کو بند کر نے کا اعلان نہیں کیا۔ تعلیمی اداروں کی بندش کا فیصلہ ابہام پر مبنی ہے

  • عدالت کا بڑا فیصلہ،ٹک ٹاک پرپابندی عائد کردی

    پشاور (اے ایف بی)پشاور ہائیکورٹ نے ٹک ٹاک ایپ آج سے بند کرنے کا حکم جاری کردیا۔پشاور ہائیکورٹ میں ٹک ٹاک کے خلاف دائر درخواست پر سماعت ہوئی۔ ڈی جی پی ٹی اے، ڈپٹی اٹارنی جنرل، درخواست گزار وکیل نازش مظفر اور سارہ علی عدالت میں پیش ہوئے۔چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ قیصررشید خان نے کہا کہ ٹک ٹاک پر جس طرح کی ویڈیوز اپ لوڈ ہوتی ہیں، یہ ہمارے معاشرے کے لیے قابل قبول نہیں ہے، ٹک ٹاک ویڈیوز سے معاشرے میں فحاشی پھیل رہی ہے اس کو فوری طورپر بند کیا جائے۔چیف جسٹس قیصررشید خان نے ڈی جی پی ٹی اے سے استفسار کیا کہ ٹک ٹاک ایپلی کیشن بند کرنے سے ایپ کو نقصان ہوگا؟۔ڈی جی پی ٹی اے نے جواب دیا جی ان کو نقصان ہوگا، ہم نے ٹک ٹاک کے عہدے داروں کو غیر اخلاقی مواد کنٹرول کرنے کےلیے درخواست دی ہے لیکن ابھی مثبت جواب نہیں آیا۔

    چیف جسٹس قیصر رشید خان نے کہا کہ جب تک ٹک ٹاک کے عہدے دار آپ کی درخواست پر عمل نہیں کرتے اور غیر اخلاقی مواد روکنے کے لئے آپ کے ساتھ تعاون نہیں کرتے اس وقت تک ٹک ٹاک کو بند کیا جائے، اس ایپ سے سب سے زیادہ نوجوان متاثر ہورہے ہیں، ٹک ٹاک کے بارے میں جو رپورٹ مل رہی ہے وہ افسوسناک ہے۔عدالت نے ڈی جی پی ٹی اے سے استفسار کیا کہ ٹک ٹاک کا آفس کہاں ہے جہاں سے یہ کنٹرول ہوتی ہے۔ڈی جی پی ٹی اے نے جواب دیا کہ ٹک ٹاک کا ہیڈ آفس سنگاپور میں ہے، پاکستان میں اس کا آفس نہیں ہے اور یہاں کے لیے اسے دبئی سے کنٹرول کیا جارہا ہے۔عدالت نے حکم دیا کہ جب تک آپ کی درخواست پر عمل نہیں کرتے اس کو بند کیا جائے۔