اسلام آباد(اے ایف بی)سابق چیف جسٹس ثاقب نثار سے متعلق بیان حلفی کیس میں سابق چیف جج گلگت بلتستان رانا شمیم نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں حیران کن بیان دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اخبار کو کوئی بیان حلفی نہیں دیا، ان کا بیان سربمہر تھا جو پتہ نہیں کیسے افشا ہوگیا۔اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے سابق چیف جج گلگت بلتستان رانا شمیم کے بیان حلفی پر توہین عدالت کے کیس کی سماعت کی۔ سابق چیف جج گلگت بلتستان رانا شمیم ہائی کورٹ میں پیش ہوئے۔اخبار کے مالک نے شوکاز نوٹس پر ہائی کورٹ میں جواب جمع کراتے ہوئے کہا کہ جہاں تک متعلقہ خبر کی بات ہے، میں اپنے ایڈیٹر کی بات سے متفق ہوں، ایڈیٹر نے خبر کی اشاعت سے قبل بتایا کہ وہ مطمئن ہیں کہ فریقین کا موقف معلوم کیا گیا ہے، استدعا ہے کہ توہین عدالت کا شوکاز نوٹس واپس لیا جائے۔
ہائی کورٹ نے ریمارکس دیے کہ توہین عدالت سے متعلق اہم معیار ہم نے فردوس عاشق اعوان کیس میں طے کر دیے ، پچھلی سماعت پر بھی کہا تھا کہ یہ ہمارا بھی احتساب ہے ، آزادی اظہار رائے کو مدنظر رکھتے ہوئے کچھ ڈیوٹیز بھی ہیں۔عدالت نے رانا شمیم کو پانچ روز میں شوکاز نوٹس پر جواب جمع کرانے کا حکم دیا، تو رانا شمیم نے بارہ دسمبر کے بعد کا وقت دینے کی استدعا کرتے ہوئے کہا کہ ابھی وہ بیان حلفی بند ہے جسے میں نے خود بھی نہیں دیکھا۔ عدالت نے حیرت کا اظہار کیا کہ کیا آپ نے اپنا بیان حلفی نہیں دیکھا؟۔ جس پر رانا شمیم نے کہا کہ جو بیان حلفی اس عدالت میں جمع ہوا ہے وہ نہیں دیکھا۔چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ آپ نے تین سال بعد بیان حلفی دیا، آپ نے کسی مقصد کے لیے لندن میں دیا ہو گا ، یہ آپ کا بیان حلفی ہے یا نہیں وہی آپ نے جواب میں لکھنا ہے، مقصد کیا تھا بیان حلفی کا وہ آپ نے بتانا ہے ، نا صرف اس عدالت بلکہ تمام ججز کو آپ کے بیان حلفی نے مشکوک بنادیا ہے، یہ سنگین توہین عدالت ہے ، عدالت نے ماضی میں کوشش کی کہ عوام کا اعتماد عدلیہ پر بحال ہو، آپ بتائیں کہ بیان حلفی ہے یا نہیں۔
ثاقب نثار سے متعلق بیان حلفی دینے والے رانا شمیم نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں حیران کن بیان دیتے ہوئے کہا کہ میرا جو بیان حلفی اخبار میں چھپا وہ ابھی تک دیکھا بھی نہیں ، اخبار نے خبر چھاپنے کے بعد مجھ سے رابطہ کیا تھا، میرا بیان حلفی بند تھا پتہ نہیں کس نے ان کو دے دیا ، میں نے ان کو بیان حلفی کی کاپی نہیں دی۔چیف جسٹس نے کہا کہ اگر بیان حلفی سِیل تھا تو پھر اخبار کو یہ بیان حلفی کیسے ملا؟ ۔رانا شمیم نے جواب دیا کہ مجھے نہیں معلوم کہ جو بیان حلفی اخبار میں رپورٹ ہوا وہ کون سا ہے؟ میں پہلے اسے دیکھ لوں، بارہ دسمبر کے بعد کی تاریخ رکھ لیں تو میں کافی ایزی ہو جاؤں گا، اس سے پہلے کی ڈیٹ رکھی تو اوریجنل بیان حلفی نہیں آ سکے گا۔اٹارنی جنرل خالد جاوید خان نے عدالت سے کہا کہ پہلی دفعہ انہوں نے کہا ہے کہ انہوں نے یہ بیان حلفی کسی کو نہیں دیا تھا ، عدالت ان کو کہے کہ اصل بیان حلفی عدالت کے سامنے پیش کریں، یہ دس سال پہلے کی دستاویز نہیں دس نومبر کی ہے اور اس وجہ سے عدلیہ کے خلاف مہم چل رہی ہے، کس نے بیان حلفی لکھا وہ تو سامنے آئے، میری درخواست ہے کہ یہ ریکارڈ پر آجائے کہ یہ نہیں جانتے کہ بیان حلفی میں کیا تھا، رانا شمیم کو تین سال پہلے کا تو یاد تھا کہ کس نے کیا کہا تھا لیکن بیس دن پہلے کا بیاں حلفی یاد نہیں، جس شخص نے بیان حلفی دیا اسے یاد نہیں کہ بیان حلفی میں کیا لکھا ہے، اگر انہیں نہیں معلوم تو پھر یہ بیان حلفی کس نے تیار کروایا؟۔
چیف جسٹس نے کہا کہ اگر یہ مختلف بیان حلفی پیش کردیتے ہیں تو پھر تو اخبار پر بہت زیادہ ذمہ داری آجاتی ہے، رانا شمیم کے آج کے بیان نے مزید معاملہ الجھایا ہے۔ہائی کورٹ نے حکم دیا کہ رانا شمیم اوریجنل بیان حلفی کے ساتھ تحریری جواب داخل کریں۔ عدالت نے اخبار کے ایڈیٹر انچیف، ایڈیٹر اور ایڈیٹر انوسٹی گیشن کے جوابات عدالتی معاونین کو فراہم کرنے کی ہدایت بھی کی۔عدالت میں رانا شمیم کے بیان حلفی کی کاپی رانا شمیم کے پاس بھی موجود نا ہونے کا انکشاف ہوا۔ رانا شمیم نے کہا کہ کاپی برطانیہ میں ہی ہے، 7 دسمبر تک دستاویزات نہیں پہنچ سکتیں، لہذا میرا شوکاز پر جواب ہی آسکے گا، بیان حلفی کی دستاویز نہیں آسکے گی۔اٹارنی جنرل نے کہا کہ یہ دستاویز بھجوائیں ہم وزارت خارجہ سے پراسس کرا دیں گے۔عدالت نے سات دسمبر تک رانا شمیم کو اصل بیان حلفی اور شوکاز نوٹس کا جواب جمع کرانے کا حکم دیتے ہوئے سماعت ملتوی کردی۔
Month: November 2021
-
بیان حلفی کیس؛ سابق چیف جج گلگت بلتستان رانا شمیم کا اسلام آباد ہائیکورٹ میں حیران کن بیان
-
لاپتہ صحافی کے کیس میں شیریں مزاری اور سیکرٹری داخلہ طلب
اسلام آباد (اے ایف بی)اسلام آباد ہائی کورٹ نے لاپتہ صحافی و بلاگر کے کیس میں وزیر انسانی حقوق شیریں مزاری اور سیکرٹری داخلہ کو یکم دسمبر کو ذاتی حیثیت میں طلب کرلیا۔ہائی کورٹ میں صحافی و بلاگر مدثر نارو کی بازیابی کے کیس کی سماعت ہوئی۔ ایڈیشل اٹارنی جنرل قاسم ودود اور ڈپٹی اٹارنی جنرل سید طیب شاہ جبکہ درخواست گزار کی جانب سے وکیل ایمان مزاری عدالت کے سامنے پیش ہوئے۔
ایڈیشنل اٹارنی جنرل متاثرہ فیملی کی وزیراعظم اور کابینہ سے ملاقات کا وقت نہ بتا سکے جس پر چیف جسٹس اطہر من اللہ نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر ایک بڑے آدمی کا بیٹا غائب ہوتا تو ریاست کا رد عمل کچھ اور ہوتا، اس کورٹ نے صرف یہ آرڈر کیا کہ وزیراعظم اور کابینہ سے متاثرہ فیملی کی ملاقات کا وقت بتائیں، اگر کوئی شہری لاپتہ ہو جائے تو یہ انتہائی سنگین جرم ہے، یہ تو کوئی طریقہ نہیں کہ متاثرہ خاندان کمیشن کے پاس مارے مارے پھریں۔عدالت نے وفاقی وزیر انسانی حقوق شیریں مزاری اور سیکرٹری داخلہ کو یکم دسمبر کو ذاتی حیثیت میں طلب کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت یکم دسمبر تک ملتوی کردی۔ -
پاکستان آنے والے مسافروں کو 72 گھنٹے قبل پی سی آر ٹیسٹ کرانے کی شرط برقرار
کراچی(اے ایف بی) سول ایوی ایشن کا کہنا ہے کہ بیرونِ ملک سے پاکستان آنے والے مسافروں کو 72 گھنٹے قبل کورونا پی سی آر ٹیسٹ کرانے کی شرط برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ا کورونا وائرس کی نئی قسم آنے کے بعد سول ایوی ایشن نے بھی پاکستان آنے والی فلائٹس سے متعلق نیا سفری ہدایت نامہ جاری کردیا ہے، اور کورونا کی نئی لہر کی وجہ سے جنوبی افریقہ سمیت افریکا کے 6 ملکوں اور ہانگ کو کیٹگری سی فہرست میں شامل کرکے سفری پابندی عائد کردی ہے۔
سول ایوی ایشن کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ جنوبی افریقہ، ہانگ کانگ، موزمبیق، لیسوتھو، بوٹسوانہ، نمیبیا، ایسواتینی، کیٹگری سی میں شامل ہیں، اور سول ایوی ایشن اتھارٹی کی جانب سے کیٹگری سی میں شامل ممالک کی نئی فہرست جاری کردی گئی ہے،جس کے مطابق جنوبی افریقہ سمیت 7 ممالک کو کیٹگری سی میں شامل کرلیا گیا ہے، کیٹگری سی میں شامل مسافروں کی پاکستان آمد پر پابندی ہوگی، کیٹگری سی میں شامل مسافروں کو ایمرجنسی کی صورت میں واپسی کی اجازت این سی او سی کی کمیٹی دے گی۔
سول ایوی ایشن کا کہنا ہے کہ بیرونِ ملک سے پاکستان آنے والے مسافروں کو 72 گھنٹے قبل کورونا پی سی آر ٹیسٹ کرانے کی شرط برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، پاکستان پہنچنے پر مسافروں کا ایرپورٹ پر ریپد انٹیجن ٹیسٹ ہوگا، مثبت کورونا وائرس آنے پر مسافروں کو سرکاری قرنطینہ سینٹرز میں رکھا جائے گا -
غیر رجسٹرڈ سکولوں کو قانونی دائے میں لانے کےلئے سروے کرنے کا فیصلہ
راولپنڈی ( اے ایف بی)غیر رجسٹرڈ سکولوں کو قانون کے دائرے میں لانے کے لیے ضلع بھر میں سروے 30 دنوں میں مکمل کرنے کا ہدایت،پرائیویٹ ایجوکیشن پرووائیڈر رجسٹریشن اینڈ انفارمیشن سسٹم میں پائے جانے والے نقائص بارے آگاہ کرنے کے لئیے سیکرٹری تعلیم کو لیٹر لکھا جائے، سی ای او ایجوکیشن کو احکامات جاری کر دئیے گئے،ممبر ڈی آر اے عرفان مظفر کیانی کو ہدایت جاری کہ وہ آگاہی مہم کے تحت سیمینار منعقد کرآئیں، 419 نامکمل رجسٹریشن کیسز کے سکولز سربراہان کو پرائیویٹ ایجوکیشن پرووائیڈر رجسٹریشن اینڈ انفارمیشن سسٹم پر ڈیٹا مکمل کرنے کا پیغام جاری کریں، قواعد و ضوابط پورے کرنے والے نجی تعلیمی اداروں کے لیے آسانیاں پیدا کریں گے، اے ایس اے سکول جعلی رجسٹریشن کیس کی انکوائری رپورٹ فوری طلب ذمہ داران کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی،
ان خیالات کا ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ہیڈ کوارٹر محمد عبداﷲ محمود نے ڈسٹرکٹ رجسٹرنگ اتھارٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا،،اجلاس میں سیکرٹری اعظم کاشف، ممبران ناصر ولایت، ملک نعیم الحسن،عرفان مظفر کیانی،فوکل پرسن راجہ امجد اقبال،ملک اختر،ارشاد سلطان ملک، وقاص محمود بھی موجود تھے۔ انہوں نے کہا کہ اتھارٹی کا اجلاس ہر پندرہ دن بعد کے منعقد ہو گا، انہوں نے سیکرٹری اتھارٹی سی ای او ایجوکیشن اعظم کاشف کو ہدایات جاری کیں کہ مستقل رجسڑڈ سکولوں کی رجسٹریشن حکومت پنجاب کے حکم کے تحت ختم ہو چکی ہے ان اداروں کو غیر رجسٹرڈ قرار دیتے ہوئے شوکاز نوٹسز جاری کریں مزکورہ اداروں کو قواعد ضوابط کے تحت ڈسٹرکٹ رجسٹرنگ اتھارٹی سے رجوع کرنا ہو گا ت دیگر سخت کارروائی عمل میں لائی جائے -
مریم نواز کے انکشافات پر تحقیقات کیلئے کمیٹی قائم
اسلام آباد (ااے ایف بی)وفاقی وزیر اطلاعات فوادچوہدری نے مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز کے انکشافات پر تحقیقات کیلئے کمیٹی قائم کر دی۔تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر اطلاعات فوادچوہدری نے مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز کے انکشافات پر تحقیقات کیلئے کمیٹی قائم کر دی۔کمیٹی ن لیگ دور میں اشتہارات میں بے ضابطگیوں پرتحقیقات کرے گی اور من پسند صحافیوں اورمیڈیا گروپس کو نوازنے پررپورٹ مرتب کرے گی۔مریم نواز کی سرپرستی میں قائم میڈیاسیل کے ذریعے 9 ارب 62 کروڑ سے زائدخرچ کیےگئے ، میڈیا سیل سےپنجاب کی ایڈورٹائزمنٹ کنٹرول کرنے کے شواہد بھی سامنے آئے
تحقیقاتی کمیٹی سرکاری رقوم کے غیرقانونی استعمال کی تحقیقات کرکے بھی رپورٹ مرتب کرے گے۔یاد رہے تحریک انصاف نے مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز کے اشتہارات سے متعلق بیان کی تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئےسپریم کورٹ سے معاملے کے ازخود نوٹس کی بھی استدعا کی تھی۔اس سلسلے میں ں پارلیمانی سیکریٹری عالیہ حمزہ نے اسپیکرقومی اسمبلی اور وفاقی وزیراطلاعات کو خط لکھا ، جس میں عالیہ حمزہ نے چیئرمین قائمہ کمیٹی اطلاعات جاوید لطیف سے بھی تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا۔ -
سرکاری اور نجی اسکول، دفاتر ہفتے میں تین روز بند رکھنے کا اعلان
لاہور(اے ایف بی) پنجاب میں اسموگ اور بڑھتی آلودگی کے معاملے پر پنجاب حکومت نے ایکشن لے لیا۔پنجاب میں اسموگ اور بڑھتی آلودگی کے معاملے پر پنجاب حکومت نے ایکشن لیتے ہوئے لاہور کے سرکاری اور نجی اسکول ہفتے میں تین روز بند رہیں گے۔
نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ لاہور میں ہفتہ، اتوار اور پیر کو اسکول بند رہیں گے، 27 نومبر سے 15 جنوری تک نوٹیفکیشن پر عملدرآمد کیا جائے گا۔پنجاب حکومت کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق لاہور کے تمام نجی دفاتر ہفتے میں تین روز بند رہیں گے -
پنجاب لوکل گورنمنٹ ایکٹ کو اسمبلی سے جلد منظور کرایا جائے، وزیراعظم کی ہدایت
اسلام آباد(اے ایف بی) وزیراعظم عمران خان نے ہدایت دی ہے کہ پنجاب لوکل گورنمنٹ ایکٹ کو اسمبلی سے جلد منظور کرایا جائے، اور بلدیاتی انتخابات کے جلد انعقاد کے لئے قانونی کارروائی مکمل کی جائے۔ وزیراعظم عمران خان سے وزیر بلدیات پنجاب میاں محمود الرشید نے پرائم منسٹر ہاؤس اسلام آباد میں ملاقات کی، جس میں پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کے حوالے سے بات چیت ہوئی، وزیر بلدیات نے وزیراعظم کو بلدیاتی انتخابات کی تیاریوں کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی، اور لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2021 کے نمایاں خدوخال سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2021 کا مقصد نچلی سطح پر اختیارات کی منتقلی یقینی بنانا ہے، نئے ایکٹ کے ذریعے بلدیاتی اداروں کو زیادہ بااختیار بنایا جائے گا۔
محمود الرشید نے بتایا کہ لوکل گورنمنٹ کے مؤثر نظام سے عوام کے مسائل ان کی دہلیز پرحل ہوں گے، نیا لوکل گورنمنٹ سسٹم نچلی سطح پر عوام کے مسائل کے حل میں اہم کردار ادا کرے گا، اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی سے عوام کو بااختیار بنانا ہماری اولین ترجیح ہے۔اس موقع پر وزیراعظم عمران خان میاں محمود الرشید کو پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کے جلد انعقاد کا ٹاسک دیتے ہوئے کہا کہ پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کے جلد انعقاد کے لئے قانونی کارروائی مکمل کی جائے، پنجاب لوکل گورنمنٹ ایکٹ کو اسمبلی سے جلد منظور کرایا جائے۔ وزیراعظم نے انصاف صحت کارڈ اور احساس پروگرام کے متعلق تقریبات کے انعقاد کی بھی ہدایت کی۔ -
ایوان بالا سے صحافیوں کے تحفظ سمیت متعدد بلز منظور
اسلام آباد (اے ایف بی)حکومت نے سینیٹ سے صحافیوں کے تحفظ سمیت متعدد بلز اپوزیشن کے شور شرابے میں منظور کروا لیے۔اپوزیشن کے شور شرابے اور ہنگامہ آرائی کے باوجود حکومت نے سینیٹ سے متعدد بلز منظور کرا لیے ہیں۔ سینیٹ کے اجلاس میں اپوزیشن نے خوب ہنگامہ آرائی کی اور ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑ دیں۔ چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کی اراکین کو واپس نشستوں پر بیٹھنے کی ہدایت کرتے رہے۔ وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق شیری مزاری کی جانب سے صحافیوں کے تحفظ کا بل سینیٹ میں پیش کیا گیا، صحافیوں سے متعلق بل کے حق میں 35 اور مخالفت میں 29 ووٹ آئے۔ سینیٹ سے صحافیوں کے تحفظ سمیت متعدد بلز اپوزیشن کے شور شرابے میں منظور کروا لیے۔
سینیٹ اجلاس کے دوران اپوزیشن نے شورشرابہ اور حکومت کیخلاف نعرے بازی کی۔ اپوزیشن نے ایجنڈے کی کاپیاں چیئرمین کی جانب اچھال دیں۔وفاقی وزیر قانون بیرسٹر فروغ نسیم کی جانب سے سینیٹ میں نیب ترمیمی بل بھی بطور ضمنی ایجنڈا پیش کیا گیا جسے ایوان بالا نے منظور کر لیا۔ سینیٹ نے وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور محمع علی خان کی جانب سے پیش کیا گیا ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) ترمیمی بل بھی منظور کر لیا۔حکومت کی جانب سے صحافیوں کے تحفظ کے بل کو اضافی ایجنڈے کے طور پر پیش کیا گیا جس پر اپوزیشن کی جانب سے شدید احتجاج کیا گیا اور ربڑ اسٹیمپ پارلیمنٹ نامنظور کے نعرے لگائے گئے۔
سینیٹ میں سندھ اور کراچی کے الفاظ استعمال کرنے پر بھی احتجاج کیا گیا۔ پیپلزپارٹی کے سینیٹر جام مہتاب ڈھر نے نکتہ اعتراض اٹھایا کہ کراچی سندھ کا کیپٹل ہے ،سندھ کراچی الگ الگ نہیں ہیں۔ سینیٹ چیئرمین اور ممبران آئندہ اس بات کا خیال کریں۔سینیٹر مشتاق احمد نے کہا کہ سیف اللہ پراچہ گوانتا نامو بے میں بے گناہ قرار دیا گیا۔ اٹھارہ سال ایک بے گناہ پاکستانی کے ساتھ ظلم ہوا، اس کا جواب کون دے گا۔وزیرمملکت پار لیمانی امور علی محمد خان نے کہا کہ مشرف کے زمانے میں یہ سب کچھ ہوا۔ جماعت اسلامی اور جے یو آئی نے مشرف کی حمایت کی تھی۔ عمران خان نے ہی اس معاملہ پر سٹینڈ لیا۔علی محمد خان نے سینیٹ کے اجلاس میں بتایا کہ گو انتاناموبے سے اوربھی لوگ رہا ہو رہے ہیں۔ علی محمد خان کے ریمارکس پر اپوزیشن نے شور شرابہ کیا۔چیئرمین سینیٹ نے علی محمد خان کا مائیک بند کر دیا۔ چیئرمین سینیٹ نے اجلاس غیرمعینہ مدت کیلئے ملتوی کر دیا۔ -
آئندہ سال امتحانات کب ہوں گے ؟ شفقت محمود کا طلبا کیلئے بڑا اعلان
کراچی (اے ایف بی) وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے اعلان کیا ہے کہ آئندہ سال امتحانات مئی اور جون میں ہوں گے اور اس سال مکمل سلیبس پڑھایا جائے گا۔تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امتحانات مئی،جون میں مکمل نصاب پر ہوں گے ، او اور اے لیول کےامتحانات بھی مقررہ وقت پر ہوں گے اور اس سال تعلیمی سال میں سلیبس مکمل کیاجائے گا۔کورونا وائرس کی وجہ سے تعلیم متاثر ہوئی ہے، گزشتہ تعلیمی سال کورونا کی وجہ سے سلیبس کم کیا تھا ، تعلیم میں ہم نے سب نے مل جل کرکام کرنا ہے ، اس سال مکمل سلیبس پڑھایا جائے گا۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ تعلیمی اداروں سےمتعلق مستند ڈیٹاموجودنہیں ہے، تعلیم کاڈیٹاجمع کرنےکےلیےایک ادارےکی ضرورت ہے۔تعلیمی اداروں کوانسدادکوروناپرسہولتیں دی جارہی ہیں، ہماری کوشش ہےکہ تعلیم سےمتعلق صوبوں سےرابطہ بہتر کیا جائے اور سیکریٹری پہلےتمام تفصیلات طےکرلیں۔فیڈرل بورڈکےوضع نئےطریقہ امتحانات پربات چیت ہوئی، کوشش ہےکہ ملک میں مشترکہ اکیڈمک کلینڈربنائیں، چاہتے ہیں صوبوں میں امتحانات اور داخلے طے شدہ کلینڈر کے مطابق ہوں۔
وزیر تعلیم کا کہنا تھا کہ عالمی اداروں نےہمارےتعلیمی نظام کاجائزہ لیاتھا، عالمی اداروں کے مطابق ہمارے بچوں کا لرننگ لیول اچھا نہیں، کوویڈکی وجہ سے اسکول بند رہےاورلرننگ کانقصان ہوا، ہماری کوشش ہےکہ لرننگ لیول بڑھانے کے لیے کورس دہرایا جائے گا۔سارےملک کےوزرائےتعلیم مل کربیٹھے،تعلیم اورطلباسےمتعلق بات کی،ہم نےملک مشترکہ فیصلےکیے،کانفرنس حکومت سندھ نےمنعقدکی، کانفرنس منعقدکرنےپرحکومت سندھ کےشکرگزارہیں۔کوویڈکی وجہ سےبچوں کوفیل نہ کرنےکافیصلہ کیاگیاتھا، ہمارےلیےبڑاچیلنج ہےکہ طلباکی تعدادبڑھ رہی ہے ، طلبا کی تعداد کی تناسب سے تعلیمی اداروں کی تعدادنہیں بڑھ رہی۔ -
دیا گلوبل کے زیر اہتمام “گرینڈ ماسٹر آف صوفی ازم”کانفرنس کاانعقاد
لاہور(اے ایف بی)دیا گلوبل کے زیر اہتمام “گرینڈ ماسٹر آف صوفی ازم” کانفرنس لاہور میں منعقد ہوئی.کانفرنس کے مہمان خصوصی محمد علی قادر شاعر، انٹرنیشنل ٹرینر و مذہبی سکالر تھے۔ محمد فہیم صدر پازیٹیو پاکستان لاہور چیپٹر، حمزہ گوہر پوری اسسٹنٹ ڈائریکٹر ائیر ٹریفک کنٹرولر پاکستان سول ایویشن اتھارٹی، راجہ بلال ایڈووکیٹ ، محمد رضا طاہر، حافظ نعمت اور حیدر عباس سمیت مختلف کمپنیوں کے سی ای اوز اور نوجوانوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی.
ٹیم دیا گلوبل کی سی ای او دیا چوہدری اور ٹیم کی انتھک محنت اور کاوشوں سے کامیاب کانفرنس کا انعقاد کیا گیا ، جس کا بنیادی مقصد نوجوان نسل کو حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃاللہ کی زندگی کی مختلف پہلوؤں سے روشناس کرانا تھا۔ مقررین نے حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃاللہ کی زندگی کے بہت سارے پہلوؤں اور صوفی ازم کی حقیقی خوبصورتی اور روحانیت پہ تفصیلی روشنی ڈالی۔ دیا چوہدری نے کانفرنس کے اختتام پر معزز مہمان خصوصی اور کانفرنس کےتمام شرکاء کا شکریہ ادا کیا۔