Month: November 2021

  • حکومت پاکستان کا ہیکرز کو 10 لاکھ انعام دینے کا اعلان

    اسلام آباد(اے ایف بی) وفاقی وزیر شبلی فراز نے الیکشن کیلئے تیار کی گئی الیکٹرانک ووٹنگ مشین(ای وی ایم) کو ہیک کرنے والے کیلئےانعام کا اعلان کیا ہے۔انہوں نے کہا میں چیلنج کرتاہوں کوئی بھی مشین کو ہیک کرے ، 10لاکھ روپے انعام دوں گا۔ ای وی ایم کو ہیک نہیں کیا جاسکتا، اس مشین میں بیٹری نصب ہے اور یہ24 گھنٹے کام کرے گی۔اس مشین کا پہلا حصہ ایک بڑے ٹیلی فون سیٹ کی طرح ہے جس پر کِی پیڈ، چھوٹی سکرین، شناختی کارڈ ڈالنے کی جگہ اور انگوٹھا سکین کرنے کا سینسر لگا ہوا ہے۔اس حصے میں چپ کے ذریعے کسی بھی حلقے کے 50 ہزار ووٹرز کا ڈیٹا چند سیکنڈز میں منتقل کیا جا سکتا ہے۔

    پولنگ سے پہلے متعلقہ پریزائیڈنگ آفیسر ٹیکنیکل ٹیم کی طرف سے فراہم کیے گئے خفیہ کوڈ اور پاسورڈ کے ذریعے مشین کو آپریشنل کرے گا۔ووٹ ڈالنے کے لیے آنے والا ووٹر شناختی کارڈ پولنگ عملے کو دے گا جو کارڈ کو مشین میں ڈالے گا۔ شناختی کارڈ کی تصدیق ہونے کی صورت میں سکرین پر ٹک کا نشان سامنے آ جائے گا۔ جس کے بعد سینسر کے ذریعے بائیو میٹرک ویری فیکیشن ہوگی۔ اس حصہ کو ووٹر’شناختی یونٹ‘ کا نام دیا گیا ہے۔دوسرے مرحلے میں ووٹر الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے تیسرے حصے پر چلا جائے گا جبکہ دوسرا حصہ پریزائیڈنگ آفیسر کے پاس ہو گا جس پر سرخ اور سبز رنگ کی بتیاں لگی ہوں گی اور جونہی پریزائیڈنگ آفیسر بٹن دبا کر ووٹ ڈالنے کی اجازت دے گا تو سبز رنگ کی لائٹ جل جائے گی جس سے پولنگ ایجنٹس کو پتہ چل سکے گا کہ اب ووٹ ڈالا جا رہا ہے۔ الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے اس حصے کو ’کنٹرول یونٹ ‘ کہا جاتا ہے۔

    تیسرا حصہ بیلٹ یونٹ کہلاتا ہے جس میں متعلقہ حلقے کے امیدواروں کے انتخابی نشان حروف تہجی کی ترتیب سے درج ہوں گے۔ پریزائیڈنگ آفیسر کی جانب سے کنٹرول یونٹ سے ووٹ ڈالنے کی اجازت ملنے کے بعد ووٹر خفیہ جگہ پر رکھے بیلٹ یونٹ پر اپنی پسند کے انتخابی نشان کو دبائے گا۔ جس کے بعد اس کے ساتھ رکھے الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے چوتھے اور آخری حصے یعنی ’بیلٹ باکس‘ میں ووٹر کی پسند کے امیدوار کی پرچی پرنٹ ہوکر گِر جائے گی۔ پرچی بیلیٹ باکس میں گرنے سے پہلے تین یا پانچ سیکنڈز کے لیے رُکے گی تاکہ ووٹر دیکھ سکے کہ اس نے جس امیدوار کو ووٹ ڈالا ہے پرچی بھی اسی کے نام کی پرنٹ ہوئی ہے یا نہیں۔

  • پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں حکومت عددی برتری ثابت کرنے میں کامیاب

    اسلام آباد(اے ایف بی)پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں حکومت اپنی عددی برتری ثابت کرنے میں کامیاب ہوگئی جس کے نتیجے میں انتخابی اصلاحات بل 2021، الیکٹرانک ووٹنگ مشین، سمندر پار پاکستانیوں کو ووٹ کا حق اور کلبھوشن یادیو سمیت مختلف بلز منظور کرلیے گئے۔ایوان میں مختلف بلز پر رائے شماری ہوئی جس میں حکومت نے اپوزیشن کو 203 ووٹ کے مقابلے میں 221 ووٹ لے کر 18 ووٹوں سے شکست دے دی۔اسپیکر اسد قیصر کی زیر صدارت قومی اسمبلی اور سینیٹ کا مشترکہ اجلاس ہوا تو ایجنڈا شروع ہوتے ہی اپوزیشن نے شور شرابہ کیا اور نو نو کے نعرے لگائے۔ ایجنڈے میں انتخابی اصلاحات بل 2021، الیکٹرانک ووٹنگ مشین، سمندر پار پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دینے اور کلبھوشن یادیو سے متعلق بل سمیت 27 بلز شامل تھے۔

    انتخابی اصلاحات بل
    بابر اعوان نے انتخابی اصلاحات بل منظوری کیلئے پیش کر دیا تاہم انہوں نے اس پر رائے شماری کرانے کی بجائے کہا کہ انتخابی اصلاحات بل موخر کیا جائے اور اپوزیشن کو اس پر بات کی اجازت دی جائے پھر رائے شماری کرائی جائے۔ اس کے بعد اپوزیشن رہنماؤں نے اجلاس میں اظہار خیال شروع کیا۔

    شہباز شریف
    اجلاس سے اظہار خیال کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈر نے اسپیکر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اسپیکر صاحب اگر آپ اپنی پارٹی کی بنیادی رکنیت سے استعفی دیں تو آپ کو کندھوں پر بٹھائیں گے، حکومت اور اس کے اتحادی آج اس ایوان سے جن قوانین کو منظور کرانا چاہتے ہیں، اس کا سب سے بڑا بوجھ اسپیکر کے کندھوں پر ہے، حکومت ای وی ایم شیطانی مشین سے اقتدار کو طول دینا چاہتی ہے۔

    وزیر خارجہ
    شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پارلیمنٹ شفاف انتخابی اصلاحات لانا چاہتی ہے، ہم کالا قانون نہیں لانا چاہتے بلکہ ماضی کی کالک کو دھونا چاہتے ہیں، الیکٹرانک ووٹنگ مشین شیطانی مشین نہیں ہے بلکہ یہ ماضی کے شیطانی منصوبوں کو ختم کرنے کیلئے لائی جا رہی ہے۔

    پی پی رکن کی اسپیکر سے تلخ کلامی
    بلاول بھٹو کو مائیک نہ دینے پر اپوزیشن نے احتجاج کیا اور مائیک دینے کا مطالبہ کیا۔ پی پی رکن قادر مندوخیل کی اسپیکر سے تلخ کلامی ہوئی اور اسپیکر ڈائس پر نامناسب گفتگو کی۔ اسد قیصر غصے میں آگئے اور بولے کہ آپ تمیز سے رہیں ورنہ میں باہر نکلوادوں گا، آپ کی کیا اوقات ہے، میں بلاول کو موقع دے رہا تھا پھر یہ بدتمیزی کیوں کی، میں آپ کو معطل کردوں گا۔ اسپیکر اسد قیصر نے بلاول بھٹو کو مائیک دیتے ہوئے کہا کہ بلاول صاحب آپ کے رکن کا رویہ ناقابل برداشت ہے۔ اسپیکر ڈائس کے سامنے سارجنٹ ایٹ آرمز نے سیکیورٹی سنبھال لی۔

    بلاول بھٹو
    بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ہم الیکٹرانک ووٹنگ مشین کو نہیں مانتے، ہم الیکشن کمیشن کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں، الیکشن کمیشن کے تحفظات ہمارے تحفظات ہیں، حکومت انتخابات کو متنازع بنانا چاہ رہی ہے، حکومت کی قانون سازی کو چیلنج کرینگے اور عدالت میں شکست دینگے، اگر آپ ہم سے مشاورت کرلیتے تو آئندہ آنے والا الیکشن متنازعہ نہ ہوتا، اگر آپ نے بل منظور کروا لیا تو ہم آج سے ہی اگلے الیکشن کے نتائج نہیں مانتے، ہم کلبھوشن یادیو کو ریلیف دینے پر آپ کا ساتھ نہیں دیں گے۔

    اسعد محمود
    جے یو آئی (ف) کے اسعد محمود نے کہا کہ ملک میں افراتفری اور ہنگاموں کی بنیاد ڈالی جارہی ہے ، اگر یکطرفہ قانون سازی ہوتی ہے اور اس بنیاد پر افراتفری ہوگی تو اس کی ذمہ داری آپ پر اور حکومت و سپورٹرز پر ہوگی ، انتخابی نتائج پر ہمیشہ دنیا میں سوال اٹھتے ہیں، ہم متحمل نہیں ہوسکتے کہ جیسے پہلے ملک دو لخت ہوا ، پھر افراتفری ہو ۔

    انتخابی بل میں ترمیم ترمیم مسترد
    محسن داوڑ نے کہا کہ افسوس کی بات ہے آج علی وزیر ایوان میں نہیں ہیں اور وزیرستان کی نمائندگی نہیں ہو رہی۔ محسن داوڑ نے انتخابی ترمیمی بل دوسری ترمیم میں اپنی ترمیم پیش کی جس کی بابر اعوان نے مخالفت کردی۔

    حکومت کی کامیابی
    اجلاس میں الیکشن ایکٹ دوسری ترمیم کا بل پیش کرنے کی تحریک پر ووٹنگ کرائی گئی تو تحریک کے حق میں 221 اور مخالفت میں 203 ووٹ پڑے۔ اس طرح ارکان کی سادہ اکثریت سے تحریک منظور کرلی گئی اور حکومت نے اپوزیشن کو 18 ووٹوں سے شکست دے دی جس کے نتیجے میں پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں حکومت کی عددی برتری ثابت ہوگئی۔

    اپوزیشن کا احتجاج
    ووٹنگ میں ناکامی کے بعد ایوان میں دھاندلی دھاندلی اور ووٹ چور کے نعرے لگائے گئے اور سیٹیاں بھی بجائی گئیں۔ اجلاس میں لاٹھی گولی کی سرکار نہیں چلے گی اور کلبھوشن کا جو یار ہے غدارہے غدار ہے کی نعرے بازی کی گئی۔

    ایوان میں ہاتھا پائی
    وفاقی وزیر مراد سعید اور عامرلیاقت کی مرتضی جاوید عباسی کے ساتھ ہاتھا پائی بھی ہوئی۔ جس کے نتیجے میں شدید بدنظمی اور دھکم پیل ہوئی تو سیکیورٹی اسٹاف نے بیچ بچاؤ کرانے کی کوشش کی۔بابر اعوان نے الیکٹرانک ووٹنگ مشین پر رائے شماری کے لیے ترمیمی بل ایوان میں پیش کر دیا۔ اسپیکر نے صورتحال کو دیکھتے ہوئے وائس ووٹنگ پر ایوان کی کارروائی تیزی سے چلانا شروع کرادی ۔ مرتضی جاوید عباسی نے ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑ کر اسپیکر پر اچھال دیں جس پر اسپیکر نے اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ آپ بھی ڈپٹی اسپیکر رہے ہیں، یہ آپ کی اخلاقیات ہے۔اجلاس میں حکومت کی جانب سے پیش کیے گئے تمام بلز منظور کرلیے گئے جن میں انسداد زنا بالجبر تحقیقات و سماعت بل 2021، مسلم عائلی قوانین میں ترمیم کے دو بل، نیشنل کالج آف آرٹس انسٹیوٹ بل، اسٹیٹ بینک آف پاکستان بینکنگ سروسز کارپوریشن ترمیمی بل، اسلام آباد میں رفاہی اداروں کی رجسٹریشن، انضباط کا بل، عالمی عدالت انصاف نظرثانی بل 2021، حیدرآباد انسٹیٹیوٹ فار ٹیکنیکل و منیجمنٹ سائنسز بل2021، انتخابی اصلاحات بل 2021، الیکٹرانک ووٹنگ مشین، سمندر پار پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دینے اور کلبھوشن یادیو شامل ہیں۔ وزیراعظم عمران خان ایوان میں قانون سازی پر مسکراتے رہے۔

    غیر حاضر ارکان
    آج اجلاس میں پیپلز پارٹی کے سید نوید قمر ڈینگی کا شکار ہونے کے باعث حاضر نہ ہوئے، مسلم لیگ ن کی شائستہ پرویز ملک شوہر کی رحلت کے باعث عدت میں تھیں تاہم انہوں نے اجلاس میں شرکت کی ہے۔ جیل میں قید آزاد رکن علی وزیر کے پروڈکشن آرڈر جاری نہ ہونے کی وجہ سے حاضر نہ ہوئے۔ وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد اپنے بھائی کے انتقال کے باوجود اجلاس میں شریک ہوئے۔

    نمبر گیم
    ایوان میں حکومت کو 228 ارکان جب کہ متحدہ اپوزیشن کو 212 ارکان کی حمایت حاصل ہے، جس میں سے حکومت نے آج قانون سازی میں 221 جبکہ اپوزیشن نے 203 ووٹ حاصل کیے۔قومی اسمبلی میں پی ٹی آئی کو ق لیگ، ایم کیو ایم، بی اے پی اور شیخ رشید سمیت 180 ارکان کی حمایت حاصل ہے، اپوزیشن کو قومی اسمبلی میں مسلم لیگ (ن)، پاکستان پیپلز پارٹی، ایم ایم اے سمیت 161 ارکان کی حمایت حاصل ہے، سینیٹ ارکان میں اپوزیشن اتحاد کو 51 جب کہ حکومتی اتحاد کو 48 ارکان کی حمایت حاصل ہے۔واضح رہے کہ اس سے قبل 9 نومبر کو قومی اسمبلی میں اپوزیشن نے حکومت کو تاریخی شکست دی تھی۔ بل پیش کرنے کے معاملے پر اپوزیشن نے 104 ووٹ کے مقابلے میں 117 ارکان کی حمایت سے حکومت کو شکست دی تھی۔ جس کے بعد 11 نومبر کو پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس طلب کیا گیا تھا تاہم حکومت کی اتحادی جماعتوں کی جانب سے تحفظات پر اجلاس ملتوی کردیا گیا تھا۔

  • این اے 133 ضمنی الیکشن : تحریک انصاف کے امیدوار کو بڑا جھٹکا

    لاہور(اے ایف بی)لاہور ہائی کورٹ نےتحریک انصاف کے امیدوار جمشید چیمہ کی این اے 133 کے ضمنی انتخاب کیلئے کاغذات نامزدگی مسترد کرنے کیخلاف درخواست مسترد کردی۔اہور ہائیکورٹ نے تحریک انصاف کے امیدوار جمشید چیمہ اور اُن کی اہلیہ مسرت چیمہ کے این اے 133 کے ضمنی انتخاب کیلئے کاغذات نامزدگی مسترد کرنے کیخلاف درخواستیں خارج کر دیں,تفصیلات کے مطابق لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس جواد حسن کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے جمشید چیمہ اور اُن کی اہلیہ مسرت چیمہ کی درخواستوں پر سماعت کی۔

    درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ تجویز کنندہ کے تمام گھر والوں کے ووٹ این اے 133 میں درج ہیں اور این اے 133 کی کئی یونین کونسلز میں آبادی سے زیادہ ووِٹرز ہیں۔وکیل کا کہنا تھا کہ حلقے میں 46 ہزار ووٹرز مشکوک ہیں، اسی لیے اس الیکشن شیڈول کو کالعدم قرار دینے کی بھی استدعا کی ہے۔عدالت نے ریمارکس دیے کہ جب دو افراد ایک ہی گھر میں رہتے ہوں تو ووٹ کس طرح الگ الگ حلقوں میں رجسٹرڈ ہو سکتا ہے۔

    الیکشن کمیشن کے وکیل کا کہنا تھا کہ فارم 15 کے ذریعے کاغذات نامزدگی کے سقم کا درست کیا جاسکتا لیکن ایسا نہیں کیا گیا، ن لیگی امیدوار شاٸستہ پرویز ملک کے وکیل بھی درخواستوں پر اعتراضات اٹھاٸے۔عدالت نے وکلا کے دلائل کے بعد تحریک انصاف کے امیدوار جمشید چیمہ اور اُن کی اہلیہ مسرت چیمہ کے این اے 133 کے ضمنی انتخاب کیلئے کاغذات نامزدگی مسترد کرنے کیخلاف درخواستیں خارج کر دیں۔خیال رہے جمشید چیمہ اور اُن کی اہلیہ کے کاغذات نامزدگی ریٹرنگ آفیسر نے مسترد کیے اور اس فیصلے کو الیکشن اپیلٹ ٹریبونل بے بھی برقرار رکھا تھا ۔

  • بچوں کو کورونا ویکسین نہ لگانے کا فیصلہ، وجہ سامنے آگئی

    اسلام آباد(اے ایف بی)این سی او سی نے کورونا کے بڑھتے کیسز اور ان کی روک تھام کی بنا پر 12 سال اور اس سے زائد عمر کے بچوں کو کورونا ویکسین لگانے کا آغاز کیا تھا، جس کو اب معطل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کی جانب سے ایک ٹویٹ کیا گیا ہے۔ جس کے مطابق 12سے 15 سال عمر کے بچوں کی ویکسی نیشن جزوی معطل رکھنے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ بچوں کی ویکسی نیشن 15سے 27 نومبر معطل رہے گی۔

    این سی او سی نے یہ بھی بتایا کہ کورونا ویکسی نیشن کی م عطلی کا فیصلہ قومی انسداد خسرہ و روبیلا مہم کے باعث کیا گیا ہے۔ قومی انسداد خسرہ و روبیلا مہم 15تا 27 نومبر جاری رہے گی۔ یاد رہے بچوں کی ویکسی نیشن کیلئے سکولوں میں مہم شروع کی گئی تھی اور سکول میں ہی بچوں کو ویکسین لگانے کا فیصلہ کیا گیا تھا تاکہ ہر بچہ ویکسینیٹڈ ہوجائے۔

  • آسٹریلیا پہلی بار ٹی ٹوئنٹی کا عالمی چیمپئن بن گیا



    دئبی (اے ایف بی )نیوزی لینڈ کو باآسانی شکست دے کر آسٹریلیا پہلی بار ٹی ٹوئنٹی کا عالمی چیمپئن بن گیا۔ فائنل میں آسٹریلوی بلے بازوں نے جارحانہ بیٹنگ کرتے ہوئے 173 رنز کا ہدف صرف 2 وکٹوں کے نقصان پر حاصل کر لیا.نیوزی لینڈ کے لیے ایک بار پھر عالمی چیمپئن بننے کا خواب پورا نہ ہوسکا، مضبوط حریف آسٹریلیا نے اپنے تجربے کو بروئے کار لاتے ہوئے کیویز کو آسانی سے شکار کر لیا۔دبئی کے انٹرنیشنل اسٹیڈیم میں کھیلے گئے فیصلہ کن معرکے میں آسٹریلوی کپتان ایرون فنچ نے ٹاس جیتا اور فیلڈنگ کو ترجیح دیتے ہوئے نیوزی لینڈ کو بیٹنگ کی دعوت دی تو نیوزی لینڈ کے بلے باز کریز پر آئے تو آسٹریلوی پیس اٹیک کو ناکام بنانے کے لیے ابتدا میں متحاط انداز اپنایا، 28 کے مجموعے پر پہلا نقصان اٹھانے کے بعد کپتان ولیمسن نے کمان سنبھالی اور بولرز کے سامنے ڈٹ گئے انہوں نے تیزی سے رنز میں اضافہ کرتے ہوئے بڑے ٹوٹل کی بنیاد رکھی۔ولیمسن نے 48 گیندوں پر 85 رنز کی جارحانہ اننگز کھیلی جس میں 10 چوکے اور 3 چھکے شامل تھے، مارٹن گپٹل نے 28 اور مچل نے 11 رنز بنائے۔ نیوزی لینڈ نے مقررہ 20 اوورز میں 4 وکٹوں پر 172 رنز بنائے۔ آسٹریلیا کے جوش ہیزل ووڈ نے3کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔

    ہدف کے تعاقب میں آسٹریلوی بلے باز بلیک کیپس پر قہر بن کر ٹوٹ پڑے، مچل مارش نے 77 رنز کی ناقابل شکست اننگز کھیلی انہوں نے 6 چوکے اور 4 چھکے لگائے، جارحانہ اوپنر ڈیوڈ وارنر نے 53 رنز کی باری کھیل کر جیت میں اہم کردار ادا کیا۔انہوں نے 4 چوکے اور 3 چھکے لگائے۔گلین میکسویل نے 18 گیندوں پر 28 رنز کی باری کھیلی اور ناٹ آؤٹ رہے، کپتان ایرون فنچ 5 رنز ہی بنا سکے۔ نیوزی لینڈ کی جانب سے کوئی بولر بھی خاطرخواہ کارکردگی کا مظاہرہ نہ کر سکا، ٹرینٹ بولٹ نے 2 وکٹیں حاصل کیں۔آسٹریلوی کپتان نے کہا کہ وننگ کمبینیشن کو برقرار رکھتے ہوئے ٹیم میں کوئی تبدیلی نہیں کی، زیمپا چھوٹے ‏فارمیٹ میں بہترین کارکردگی دکھا رہے ہیں۔

    کیوی کپتان کین ولیمسن نے کہا کہ ہم بھی ٹاس جیت کرپہلےفیلڈنگ ہی کرتے لیکن ہم نے پہلے بیٹنگ کر کے ‏بھی میچزجیتےہیں آج کےمیچ میں بھرپور کارکردگی دکھانےکی کوشش کریں گے۔دونوں ٹیمیں پہلی مرتبہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے فاتح کا تاج سر پر سجانے کے لیے میدان میں اتریں گی،دونوں ‏ٹیموں کا اس سے قبل کبھی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے فائنل میں آمنا سامنا نہیں ہوا۔آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ نےایونٹ میں اب تک 1،1 میچ ہارا ہے ناک آؤٹ میچوں میں آسٹریلیا کا پلڑا بھاری16 بار ‏کیویز کو ہرا چکی ہے۔ٹیسٹ چیمپئن شپ کے بعد بلیک کیپس ایک سال میں دوسری ٹرافی اٹھانےکیلئے بےقرار ہیں آسٹریلیا کو فائنل کھیلنےکا تجربہ ہے دوہزار دس میں وہ فائنل پہلی بار فائنل میں پہنچے لیکن انگلینڈ ‏سے ہارگئے۔کرکٹ مبصرین کا کہنا ہے کہ فائنل میں بھی ٹاس اہم ہوگا، دوسری بیٹنگ والی ٹیم فیورٹ ہوگی۔فائنل جیتنے والی ٹیم کو 16 لاکھ ڈالر انعامی رقم دی جائے گی جبکہ ٹورنامنٹ کی رنر اپ ٹیم کو 8 لاکھ ڈالرز ‏ملیں گے۔

  • احساس راشن پروگرام میں 4 کروڑ افراد رجسٹرڈ

    حسن ابدال (اے ایف بی) وزیراعظم عمران خان کی معاون خصوصی ثانیہ نشتر کا کہنا ہے کہ احساس راشن پروگرام کامیابی سے شروع ہو چکا ہے۔وزیراعظم پاکستان کی معاون خصوصی برائے سماجی تحفظ ثانیہ نشتر نے حسن ابدال کا دورہ کیا، اس موقع پر میڈیا سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ احساس راشن پروگرام کامیابی سے شروع ہو چکا ہے

    ، احساس راشن پروگرام میں 40 ملین لوگوں نے اب تک درخواستیں جمع کروائی ہیں جب کہ 1 ملین افراد کامیابی سے رجسٹرڈ ہو چکے ہیں۔وزیراعظم عمران خان کی معاون خصوصی برائے سماجی تحفظ ثانیہ نشتر نے کہا کہ عوام کو ہر ممکن ریلیف مہیا کیا جا رہا ہے اور ماہانہ ایک ہزار روپے کی سبسڈی ہر خاندان کو دی جائے گی۔

  • بھارتی فوج کی گاڑی پر حملے میں کرنل سمیت 6 افراد ہلاک

    نئی دہلی (اے ایف بی)بھارتی ریاست منی پور میں آسام رائفلز کے کمانڈنگ آفیسر گاڑی پر حملے میں اہلیہ بیٹے اور 3 فوجی اہلکاروں سمیت ہلاک ہوگئے۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق بھارتی ریاست منی پور میں آسام رائفلز یونٹ کے کمانڈنگ آفیسر اہل خانہ سمیت اپنی گاڑی میں جارہے تھے کہ اچانک گھات لگائے مسلح افراد نے قافلے پر حملہ کردیا۔ہلاک ہونے والوں میں کمانڈنگ آفیسر، ان کی اہلیہ اور بیٹے سمیت 3 فوجی اہلکار بھی شامل ہیں۔ تاحال کسی گروپ نے حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے تاہم اس علاقے میں علیحدگی پسند عسکری جماعت پیپلز لبریشن آرمی ایسے حملوں میں ملوث رہی ہے۔

    بھارتی فوج کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ کمانڈنگ آفیسر اہل خانہ سمیت اپنی گاڑی میں جارہے تھے جب کہ ان کی حفاظت کے لیے ایک فوجی گاڑی بھی ہمراہ تھی جن میں 3 سیکیورٹی اہلکار موجود تھے۔واضح رہے کہ بھارت کی شمالی ریاستوں میں کئی علیحدگی پسند عسکری جماعتیں متحرک ہیں جن کے ساتھ سیکیورٹی اداروں کی جھڑپیں معمول کی بات ہیں اور مودی سرکار کے اقتدار میں آنے کے بعد سے سیکیورٹی فورسز پر حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔


  • سرکاری کالجوں میں اساتذہ کی بھرتیاں؛ شیڈول جاری

    لاہور (اے ایف بی)محکمہ ہائر ایجوکیشن کا سرکاری کالجوں میں اساتذہ کی عارضی بھرتیوں کا فیصلہ، سرکاری کالجوں میں تین ہزار سے زائد اساتذہ کی بھرتیوں کا شیڈول جاری کر دیا گیا ہے۔ محکمہ ہائر ایجوکیشن کا سرکاری کالجوں میں اساتذہ کی عارضی بھرتیوں کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ سرکاری کالجوں میں تین ہزار تین سو عارضی اساتذہ بھرتی ہوں گے۔ ایم اے پاس امیدواروں سے کالجوں میں تقرریوں کے لئےدرخواستیں طلب کر لی ہیں۔

    سرکاری کالجوں میں عارضی اساتذہ کی بھرتیوں کے لئے 45 ہزار روپے ماہانہ تنخواہ مقرر کی گئی ہے۔ کالج ٹیچنگ انٹرنز کے تحت عارضی بھرتیاں پانچ مہینےکے لئےہوں گی۔ پنجاب بھر کے سرکاری کالجوں میں 24 نومبر کو خالی آسامیاں نوٹس بورڈ پر آویزاں ہوں گی کالج ٹیچنگ انٹرنز کے لئے امیدوار 27 نومبر تک اپنی درخواستیں متعلقہ کالج جمع کرا سکتے ہیں۔

  • چین میں صدرشی جن پنگ کا رتبہ ماؤزے تنگ کے برابر قرار

    بیجنگ(اے ایف بی) چین کی حکمراں جماعت کمیونسٹ پارٹی نے تاریخی قرارداد منظور کرتے ہوئے ملک کے صدر شی جن پنگ کا رتبہ ماؤ زئے تنگ اور ڈینگ زیاؤپنگ کے برابر قرار دیدیا ہے۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق چین کی کمیونسٹ پارٹی نے صد سالہ تقریبات کے موقع پر ایک عام اجلاس میں ایسی قرارداد منظور کی ہے جس سے موجودہ صدر شی جن پنگ کی اقتدار پر گرفت ہمیشہ کے لیے مضبوط ہوگئی ہے۔اس قرارداد سے صدر شی جن پنگ کا سیاسی رتبہ بانی جماعت ماؤزے تنگ اور ڈینگ زیاؤپنگ کے برابر ہوگیا ہے۔ 100 سالہ تاریخ میں یہ اپنی نوعیت کی تیسری قرارداد ہے۔

    اس سے پہلے 1945 میں ماؤزے تنگ اور 1981 میں ڈینگ زیاؤ پنگ کے دور میں اس طرح کی قراردادیں منظور کی گئی تھیں۔صدر شی جن پنگ کے لیے ہمیشہ اقتدار میں رہنے کے لیے راہ پہلے ہی ہموار کی جاچکی ہے جب ان کی جماعت نے 2018 میں صدر کے عہدے کے لیے زیادہ سے زیادہ 68 برس کی عمر کی حد ختم کر دی تھی۔واضح رہے کہ چین کے صدر کے سامنے فی الحال کوئی بھی حریف موجود نہیں ہے لیکن اس کے باوجود انھوں نے اپنے دور اقتدار میں زیادہ سے زیادہ طاقت اور اختیارات حاصل کرلیے ہیں۔

  • ٹی ایل پی کے سربراہ سعد رضوی اور دیگر کے خلاف 40 مقدمات واپس لینے کا فیصلہ

    لاہور(اے ایف بی) سربراہ تحریک لبیک پاکستان سعد رضوی سمیت دیگر کارکنوں کے خلاف 40 مقدمات واپس لینے کا فیصلہ کرلیا گیا۔ حکومت پنجاب نے تحریک لبیک پاکستان کے سربراہ سعد رضوی اور دیگر کارکنان کے خلاف 40 مقدمات واپس لینے کا فیصلہ کیا ہے اور پنجاب حکومت کی جانب سے مقدمات واپس لینے سے متعلق اقدامات شروع کردئیے گئے ہیں۔ محکمہ داخلہ پنجاب کا کہنا ہے کہ سعد رضوی کے خلاف مقدمات کو قانونی طریقے سے دیکھا جارہا ہے۔ذرائع کے مطابق پہلے مرحلے میں سعد رضوی اور دیگر افراد کے خلاف 20 وہ مقدمات واپس لیے جائیں گے جن کی سزا 3 سال یا 3 سال سے کم ہے اور دوسرے مرحلے میں 5 سال یا اس سے کم والے مقدمات واپس لیے جائیں گے۔

    واضح رہے کہ وفاقی حکومت نے تحریک لبیک سے پابندی ہٹانے کے حوالے سے پنجاب حکومت سے رائے طلب کی تھی، جس پر پنجاب کابینہ کو تھرو سرکولیشن سمری پر منظوری لینے کا فیصلہ کیا اور پنجاب کابینہ کے 18 مطلوبہ وزرا نے ٹی ایل پی پر عائد پابندی ہٹانے کی سفارش کردی تھی۔پنجاب حکومت نے ٹی ایل پی کے 577 کارکنوں کے نام فورتھ شیڈول سے نکال دیئے ہیں، 2100 سے زائد گرفتار افراد کو رہا کردیا گیا ہے اور وزارت داخلہ نے تحریک لبیک کو کالعدم تنظیموں کی فہرست سے خارج کرنے کا نوٹی فکیشن بھی جاری کردیا ہے، جس کے بعد ٹی ایل پی آزادانہ طور پر ہر قسم کی سرگرمیاں جاری رکھ سکتی ہے۔