Blog

  • عمران خان کے فوکل پرسن ڈاکٹر ارسلان خالد کے گھر پر چھاپا

    اسلام آباد(اے ایف بی)پی ٹی آئی چیئرمین اور سابق وزیر اعظم عمران خان کے فوکل پرسن ڈاکٹر ارسلان خالد کے گھر پر چھاپا پڑ گیا ہے۔پی ٹی آئی کے آفیشل ٹوئٹر اکاؤنٹ سے جاری ایک ٹوئٹ میں بتایا گیا ہے کہ عمران خان کے فوکل پرسن ارسلان خالد کے گھر پر چھاپا پڑا ہے، اور نامعلوم افراد لیپ ٹاپ، موبائل فونز اور دیگر سامان ساتھ لے گئے ہیں۔فواد چوہدری نے اس حوالے سے ایک ٹوئٹ میں کہا کہ ڈاکٹر ارسلان خالد کے گھر پر حملے کی خبروں پر انتہائی تشویش ہے، ارسلان انتہائی باصلاحیت زیرک اور مخلص نوجوان ہے۔فواد چوہدری نے لکھا کہ پی ٹی آئی ارسلان خالد کے ساتھ سیسہ پلائی دیوار کی طرح کھڑی ہوگی۔اسد عمر نے بھی ایک ٹوئٹ میں ارسلان خالد کے گھر پر چھاپے کی مذمت کی، اور لکھا کہ محب وطن نوجوان جیسے ڈاکٹر ارسلان قوم کا اثاثہ ہیں۔

  • وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب

    اسلام آباد(اے ایف بی)قومی اسمبلی میں متحدہ اپوزیشن کی طویل اعصابی جنگ لڑنے کے بعد جانب سے جمع کرائی گئی تحریک عدم اعتماد کامیاب ہوگئی، جس کے بعد عمران خان اب وزیراعظم نہیں رہے۔عمران خان کے خلاف عدم اعتماد کامیاب ہوگئی جس کے بعد عمران خان وزیراعظم نہیں رہے، قومی اسمبلی میں عدم اعتماد کے حق میں 174 ووٹ ڈالے گئے ہیں۔ اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی جانب سے مستفعی ہونے کے بعد ایاز صادق کے اسپیکر قومی اسمبلی کی ذمہ داریاں سنبھالنے کے بعد وزیراعظم کے خلاف عدم اعتماد کی ووٹنگ کا عمل شروع کیا گیا تھا

  • عمران خان نے وزیراعظم ہاؤس سے نکلنے سے قبل آخری حکم کیا دیا؟

    اسلام آباد(اے ایف بی )شہباز گِل نے انکشاف کیا ہےکہ عمران خان ن بحیثیت وزیراعظم اپنے دفتر سے رخصت ہونے سے قبل آخری حکم کیا دیا۔وزیراعظم کے معاون خصوصی شہباز گِل نے بتایا کہ وزیراعظم نے دفتر سے جانے سے پہلے اپنا آخری حکم اپنے پرنسپل سیکرٹری اعظم خان کی درخواست پر انہیں اسٹیبلشمنٹ ڈویژن رپورٹ کرنےکا کیا شہباز گِل کے مطابق عمران خان نے اعظم کی پیشہ ورانہ قابلیت کی تعریف کی اور کہا کہ انہوں نے پوری ایمانداری اور محنت سے اپنی ذمہ داریاں نبھائیں۔خیال رہےکہ وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری اعظم خان کوتبدیل کیے جانے کا نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا ہے،نوٹیفکیشن کے مطابق اعظم خان کو اسٹیبلشمنٹ ڈویژن میں رپورٹ کرنے کی ہدایت کردی گئی ہے،اعظم خان پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس کے گریڈ 22 کےافسرہیں

  • تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ رات 8 بجے ہوگی ، اپوزیشن اور حکومت میں اتفاق

    اسلام آباد (اے ایف بی)اپوزیشن اور حکومت نے تحریک عدم اعتماد پر رات 8 بجے ووٹنگ کرانے پر اتفاق کرلیا تاہم اپوزیشن ہرحکومتی رکن کی تقریر پر اعتراض اٹھائے گی۔تفصیلات کے مطابق اپوزیشن اور حکومت کے مابین قومی اسمبلی کا اجلاس دوبارہ شروع کرنے پر اتفاق کرلیا گیا ،اپوزیشن کا کہنا ہے کہ اپوزیشن انتظار کرے گی اور کسی غلط اقدام کا بہانہ فراہم نہیں کرے گی۔ذرائع نے بتایا اپوزیشن نے کہا ہے کہ اسپیکر کو واضح پیغام دیا جائے کہ آج رات 8 بجے تک ووٹنگ کومکمل بنائے جبکہ اپوزیشن نے رات 12بجے تک انتظار کرو کی پالیسی پر چلنے پر اتفاق کرلیا۔ذرائع کے مطابق حکومت اور اپوزیشن میں اتفاق ہوا ہے کہ رات 8 بجے عدم اعتماد پرووٹنگ ہوگی ، شاہ محمود قریشی اپنی تقریر مکمل کریں گے تاہم اپوزیشن ہرحکومتی رکن کی تقریر پر اعتراض اٹھائے گی۔خیال رہے قومی اسمبلی کے ہنگامہ خیز اجلاس میں تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ نہ ہوسکی ، وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کی عالمی سازش سے متعلق تقریر کے دوران اپوزیشن کے شور شرابے پر اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے اجلاس ساڑھے بارہ بجے تک ملتوی کردیا تھا۔ایوان میں اپوزیشن کے ایک سو پچھتر ارکان موجود ہیں جبکہ حکومتی اتحادی مسلم لیگ ق کے سالک حسین چوہدری اور طارق بشیر چیمہ بھی اپوزیشن بینچز پر نظر آئے۔

  • سعودی حکومت کا رواں سال حج کے خواہشمند افراد کیلئے بڑا اعلان

    کراچی(اے ایف بی) کورونا وبا کے بعد پہلی بار اس سال دس لاکھ افراد حج کی سعادت حاصل کرسکیں گے ، حج کے لیے زیادہ سے زیادہ عمر پینسٹھ سال مقرر کی گئی ہے۔تفصیلات کے مطابق حج کے خواہشمند افراد کے لیے بڑی خوشخبری آگئی ، سعودی وزارت حج و عمرہ نے حج پالیسی کا اعلان کردیا۔کورونا وبا کے بعد پہلی بار اس سال دس لاکھ افراد حج کی سعادت حاصل کرسکیں گے ، کرونا وائرس احتیاطی تدابیر کے تحت مخصوص ممالک کے باشندوں کو حج کی اجازت دی جائے گی۔ہر ملک کے لیے عازمین حجاز کا کوٹہ مختص کیا جائے گا جبکہ حج کے لیے زیادہ سے زیادہ عمر پینسٹھ سال رکھی گئی ہے۔سعودی وزارت صحت کی جانب سے منظور شدہ کرونا ویکسین سرٹیفیکیٹ لازمی اور سعودی عرب پہنچنے سے 72 گھنٹے پہلے کرونا منفی پی سی آر ٹیسٹ رپورٹ رکھنا لازمی ہو گا۔یاد رہے گذشتہ ماہ سعودی حکومت نے حج 2022 تیاریوں کیلئے گرین سگنل دیا تھا، اس سلسلے میں پاکستانی حکام نے سعودی متعلقہ حکام سے ملاقات کی تھی ، جس میں سعودی حکام نے کہا تمام ممالک حج کی تیاریاں شروع کر دیں ، حج ایس او پیز اور کوٹہ کے بارے میں جلد آگاہ کیا جائے گا۔ذرائع وزارت مذہبی امور نے بتایا تھا کہ سعودی حکام کیساتھ حج اخراجات،روڈ ٹومکہ ودیگر امورپر بھی گفتگو ہوئی ، معاہدہ کی تکمیل کے بعد حج پالیسی جاری کی جائے گی۔

  • وزیراعظم کیخلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب ہونے کے بعد کیا ہوگا؟

    اسلام آباد(اے ایف بی) وزیراعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب ہونے کی صورت میں کابینہ بھی تحلیل ہوجائے گی، اسپیکر نئے وزیراعظم کا انتخاب کرنے پابند ہوں گے اور کارروائی ملتوی نہیں کرسکتے۔ وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ کل ہوگی جو کہ اوپن ووٹ کے ذریعے ہوگی۔ رائے شماری کے بعد اسپیکر کی جانب سے نتیجے کا اعلان کیا جائے گا۔تحریک عدم اعتماد کامیاب ہو تو اسپیکر کی جانب سے نتیجے کو تحریری طور پر صدر مملکت کے پاس جمع کرایا جائے گا جس کے بعد سیکریٹری قومی اسمبلی کی جانب سے گزیٹڈ نوٹی فکیشن جاری کیا جائے گا۔وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب ہوگئی تو انہیں فوری طور پر عہدے سے سبک دوش تصور کیا جائے گا ان کے ساتھ ہی وفاقی کابینہ بھی تحلیل ہوجائے گی۔ذرائع کے مطابق سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق تحریک عدم اعتماد کے بعد اسپیکر قومی اسمبلی اجلاس کی کارروائی مزید آگے بڑھانے کے پابند ہوں گے، اسپیکر قومی اسمبلی تحریک عدم اعتماد کی ووٹنگ کے نتیجے کے ساتھ ہی اجلاس غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی نہیں کرسکتے۔تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کی صورت میں نئے قائد ایوان کا انتخاب کیا جائے گا۔ وزیراعظم کے انتخاب کے لیے اسپیکر قومی اسمبلی کاغذات نامزدگی جمع کرانے کے لیے مناسب وقت کا اعلان کریں گے۔

    وزیراعظم کا عہدہ خالی ہونے پر اسمبلی کو مزید کوئی کارروائی کیے بغیر قومی اسمبلی کے قوانین کی شق 32 کے مطابق سب سے پہلے مسلمان اراکین میں سے کسی ایک کو بطور وزیراعظم منتخب کرنا ہوگا۔

  • اسلام آباد ہائی کورٹ نے پیکا ترمیمی آرڈیننس 2022 کالعدم قرار دے دیا

    اسلام آباد(اے ایف بی)اسلام آباد ہائی کورٹ نے پیکا ترمیمی آرڈیننس 2022 غیر آئینی قرار دیتے ہوئے کالعدم قرار دے دیا۔چیف جسٹس اطہر من اللہ نے محفوظ فیصلہ سنایا، پی بی اے و دیگر صحافتی تنظیموں نے چیلنج پیکا ترمیمی آرڈیننس کو چیلنج کر رکھا تھا جبکہ پیکا کے سیکشن 20 کے تحت ایف آئی اے کے بے جا اختیارات کو بھی چیلنج کیا گیا تھا۔اس سے قبل سماعت کے دوران وکیل درخواست گزارعادل عزیز قاضی، ڈپٹی اٹارنی جنرل طیب شاہ اور ڈائریکٹر ایف آئی اے بابر بخت قریشی بھی عدالت کے سامنے پیش ہوئے۔ ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ کی رپورٹ بھی عدالت میں جمع کروائی گئی۔چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیے کہ کوئی تو جواب دے، لوگوں کے حقوق پامال ہو رہے ہیں، ایف آئی اے نے عدالت کے سامنے ایس او پیز رکھے اور ان کو پامال بھی کیا گیا، آپ نے ایس او پیز کی پامالی کی اور کیسز میں سیکشن لگائے جو لگتے ہی نہیں۔ڈائریکٹر ایف آئی اے بابر بخت قریشی نے عدالت میں موقف اپنایا کہ قانون بنا ہوا ہے اس پر عملدرآمد کرنے کے لیے پریشر آتا ہے۔چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ آپ نے کسی عام آدمی کے لیے ایکشن لیا، لاہور میں ایف آئی آر درج ہوئی اور اسلام آباد میں چھاپہ مارا گیا۔ ایف آئی اے ڈائریکٹر نے دلائل میں بتایا کہ ہم ایف آئی آر سے قبل بھی گرفتاری ڈال دیتے ہیں اور پھر اس سے برآمدگی پر ایف آئی آر درج کرتے ہیں۔چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ آپ کیسے گرفتار کر سکتے ہیں اور کس قانون کے مطابق گرفتاری ڈال سکتے ہیں، آپ اپنے عمل پر پشیماں تک نہیں اور دلائل دے رہے ہیں، کسی کا تو احتساب ہونا ہے، کون ذمہ دار ہے، جرنلسٹس کی نگرانی کی جا رہی ہے، یہ ایف آئی اے کا کام ہے کیا؟ڈائریکٹر ایف آئی اے نے بتایا کہ بلال غوری کے علاوہ باقی سب کی انکوائری مکمل ہو چکی ہے، جس پر چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ بلال غوری نے وی لاگ کیا تھا اور کتاب کا حوالہ دیا تھا، کاروائی کیسے بنتی ہے؟ ملک میں کتنی دفعہ مارشل لا لگا ہے، یہ تاریخ ہے کل لوگ باتیں کریں گے۔

  • سپریم کورٹ نے ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ کو غیر آئینی قرار دے کر قومی اسمبلی بحال کردی

    اسلام آباد(اے ایف بی) سپریم کورٹ آف پاکستان نے قومی اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ اور قومی اسمبلی تحلیل کرنے کو غیر آئینی قرار دے دیا۔ چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 5 رکنی لارجر بینچ نے چار روز سماعت کے بعد از خود نوٹس کیس کا محفوظ فیصلہ جاری کیا۔فیصلے کے تناظر میں سپریم کورٹ کی اندرونی اور بیرونی سیکیورٹی کو انتہائی سخت کیا گیا، کمرہ عدالت میں مخصوص افراد کے علاوہ کسی بھی غیر متعلقہ شخص کو داخلے کی اجازت نہیں دی گئی۔سپریم کورٹ نے ازخود نوٹس کیس کا مختصر فیصلہ سنایا جبکہ تفصیلی فیصلہ بعد میں جاری کیا جائے گا۔چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا پانچ رکنی لارجر بینچ نے اسپیکر رولنگ از خود نوٹس کیس کی سماعت مکمل کر کے فیصلہ محفوظ کیا تھا، اس دوران حکومت اور اپوزیشن کے وکلاء نے دلائل مکمل کیے۔ لارجر بینچ میں جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس مظہر عالم میاں خیل، جسٹس منیب اختر اور جسٹس جمال خان مندو خیل شامل تھے۔فیصلہ محفوظ کرنے سے قبل چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ سیاست میں سب کا احترام ہے لیکن خدا قسم قوم قیادت کے لیے ترس رہی ہے، ایک بات تو واضح نظر آ رہی ہے اور وہ یہ کہ اسپیکر رولنگ غلط ہے، دیکھنا ہے اب اس سے آگے کیا ہوگا، اسمبلی بحال ہوگی تو بھی ملک میں استحکام نہیں ہوگا لیکن ملک کو استحکام کی ضرورت ہے جبکہ اپوزیشن بھی استحکام کا کہتی ہے، قومی مفاد کو بھی ہم نے دیکھنا ہے۔اٹارنی جنرل خالد جاوید نے بھی کہا کہ میں رولنگ کا دفاع نہیں کر رہا لیکن میرا مدعا نئے انتخابات ہیں۔ جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ عدالت نے حالات و نتائج کو دیکھ کر فیصلہ نہیں کرنا ہے، عدالت نے آئین کو مدنظر رکھ کر فیصلہ کرنا ہے، کل کو کوئی اسپیکر آئے گا وہ اپنی مرضی کرے گا، عدالت نے نہیں دیکھنا کون آئے گا کون نہیں اور ہم نتائج پر نہیں جائیں گے۔عدالت میں بلاول بھٹو بھی پیش ہوئے اور کہا کہ اپنے لیے حکومت بنانا ہماری ترجیح نہیں، ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ غیر آئینی ہے اور اسی غیر قانونی رولنگ نے وزیراعظم کی جمہوریت پر سوال اٹھایا، ہم حکومت بناکر اتنخابی اصلاحات کرنا چاہتے ہیں۔چیف جسٹس نے کہا کہ کیا انتخابی اصلاحات کی تجویز ٹیبل ہوئی؟ کیا انتخابی اصلاحات کے لیے کوئی بل جمع کروایا ہے؟ ہمیں پتا ہے آپ کے خاندان نے جمہوریت کے لیے قربانیاں دی ہیں، آپ کی سینیٹ میں جو انتخابی اصلاحات کی تجاویز ہیں وہ منگوا لیں۔چیف جسٹس نے کہا کہ بلاول بھٹو آپ کا شکریہ کہ آپ نے بہت زبردست بات کی اور آپ واحد ہیں جن کے چہرے پر مسکراہٹ تھی، ہمیں آئین پر سختی سے عمل کرتے ہوئے فیصلہ جاری کرنے دیں، فیصلہ آئین اور قانون کے مطابق ہوگا، ہمیں معلوم ہے کہ بلاول بھٹو کی تین نسلوں نے جمہوریت کی بقا کے لیے قربانی دی ہے۔عدالت عظمیٰ میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے کہا کہ رولنگ ختم ہونے پر تحریک عدم اعتماد بحال ہو جائے گی اور اسپیکر کی رولنگ کالعدم ہو تو اسمبلی کی تحلیل ازخود ختم ہوجائے گی۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ہمیں کمزور نہیں بلکہ مضبوط حکومت چاہیے۔شہباز شریف نے کہا کہ اگر عدالت اسپیکر کی رولنگ کو غیر آئینی قرار دیتی ہے تو نتیجتاً وزیر اعظم کے اقدامات ختم ہو جائیں گے اور اس کے نتیجے میں ختم کی گئی اسمبلی بحال ہوجائے گی، آئین کو جیسے توڑا گیا اور معطل کیا گیا وہاں نتائج بھی ہوں گے۔ عدالت اللہ اور پاکستان کے نام پر پارلیمنٹ کو بحال کرے، پارلیمنٹ کو عدم اعتماد پر ووٹ کرنے دیا جائے۔اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ حکومت 174 ووٹوں پر قائم تھی اور ہمارے ممبر 177 ہیں، آئین کی بحالی اور عوام کے لیے اپنا خون پسینہ بہائیں گے۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ 2013 کے الیکشن میں آپ کی کتنی نشستیں تھیں؟ شہباز شریف نے کہا کہ گزشتہ انتخابات میں 150 سے زائد نشستیں تھیں۔جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ اپوزیشن پہلے دن سے الیکشن کرانا چاہتی تھی، شہباز شریف نے کہا کہ مسئلہ آئین توڑنے کا ہے۔ جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ آئین کی مرمت ہم کر دیں گے۔جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ عدم اعتماد اگر کامیاب ہوتی ہے تو اسمبلی کا کتنا دورانیہ رہے گا؟ شہباز شریف نے بتایا کہ ڈیڑھ سال پارلیمنٹ کا ابھی باقی ہے، اپنی اپوزیشن سے ملکر انتخابی اصلاحات کریں گے تاکہ شفاف الیکشن ہو سکے۔اٹارنی جنرل کے دلائل سے قبل اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کے وکیل نعیم بخاری نے پارلیمانی قومی سلامتی کمیٹی کے میٹنگ منٹس سپریم کورٹ میں پیش کیے تھے جس میں انشکاف ہوا کہ وزیر خارجہ اور مشیر قومی سلامتی اجلاس میں شریک نہیں تھے۔میٹنگ منتس پیش کیے جانے کے بعد عدالت نے استفسار کیا کہ کیا فارن منسٹر بھی اس میٹنگ میں موجود تھے یا نہیں؟ نعیم بخاری نے جواب دیا کہ نوٹس بھجوایا گیا تھا۔ عدالت نے پھر استفسار کیا کہ نوٹس تو چلا گیا، ہمارا سوال یہ ہے کہ وہ قومی سلامتی میٹنگ میں موجود تھے یا نہیں؟ نعیم بخاری نے کہا کہ لگتا ہے اس میٹنگ میں موجود نہیں تھے۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ ایڈوائزر قومی سلامتی معید یوسف کا نام بھی اس میں موجود نہیں ہے۔جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ کیا وزیر خارجہ پارلیمانی کمیٹی اجلاس میں موجود تھے؟ وزیر خارجہ کے دستخط میٹنگ منٹس میں نظر نہیں آ رہے، کیا وزیر خارجہ کو اجلاس میں نہیں ہونا چاہیے تھا؟ نعیم بخاری نے کہا کہ وزیر خارجہ کو پارلیمانی کمیٹی اجلاس میں ہونا چاہیے تھا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ معید یوسف کا نام بھی میٹنگ منٹس میں نظر نہیں آ رہا۔نعیم بخاری نے فواد چوہدری کا پوائنٹ آف آرڈر بھی عدالت میں پیش کر دیا۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ پوائنٹ آف آرڈر پر رولنگ کی بجائے اپوزیشن سے جواب نہیں لینا چاہیے تھا؟ نعیم بخاری نے کہا کہ پوائنٹ آف آرڈر پر بحث نہیں ہوتی۔جسٹس مظہر عالم اور جسٹس جمال خان مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ پارلیمنٹ کی کارروائی بڑی مشکل سے 2 یا تین منٹ کی تھی، چیف جسٹس کی جانب سے استفسار کیا گیا کہ کیا پوائنٹ آف آرڈر پر اپوزیشن کو موقع نہیں ملنا چاہیے تھا۔ جسٹس جمال خان مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ رولنگ ڈپٹی اسپیکر نے دی جبکہ رولنگ پر دستخط اسپیکر کے ہیں، رولنگ پر ڈپٹی اسپیکر کے دستخط کہاں ہیں، پارلیمانی کمیٹی میٹنگ منٹس میں ڈپٹی اسپیکر کی موجودگی بھی ظاہر نہیں ہوتی۔ نعیم بخاری نے کہا کہ جو دستاویز پیش کی ہے وہ شاید اصلی والی نہیں ہے۔دلائل کے آغاز میں جسٹس جمال مندوخیل نےنعیم بخاری سے استفسار کیا تھا کہ کیا اسپیکر کا عدم اعتماد پر ووٹنگ نہ کرانا آئین کی خلاف ورزی ہے؟ نعیم بخاری نے سوالیہ انداز میں کہا کہ اگر اسپیکر پوائنٹ آف آرڈر مسترد کر دیتا تو کیا عدالت تب بھی مداخلت کرتی؟جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ کیا زیر التواء تحریک عدم اعتماد پوائنٹ آف آرڈر پر مسترد ہو سکتی ہے؟ نعیم بخاری نے کہا کہ پوائنٹ آف آرڈر پر اسپیکر تحریک عدم اعتماد مسترد کر سکتا ہے، پہلے کبھی ایسا ہوا نہیں لیکن اسپیکر کا اختیار ضرور ہے، اب نئے انتخابات کا اعلان ہوچکا اور اب معاملے عوام کے پاس ہے، اس لیے سپریم کورٹ کو اب یہ معاملہ نہیں دیکھنا چاہیے۔دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ بظاہر آرٹیکل 95 کی خلاف ورزی ہوئی ہے، اگر کسی دوسرے کے پاس اکثریت ہے تو حکومت الیکشن اناؤنس کر دے۔ الیکشن کرانے پر قوم کے اربوں روپے خرچ ہوتے ہیں اور ہر بار الیکشن سے قوم کا اربوں کا نقصان ہوگا، یہ قومی مفاد ہے۔وزیر اعظم عمران خان کے وکیل امتیاز صدیقی نے دلائل میں کہا کہ عدالت نے ماضی میں بھی پارلیمان کی کاروائی میں مداخلت نہیں اور عدالت کے سامنے معاملہ ہاوس کی کارروائی کا ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت نے قومی مفاد کو دیکھنا ہے۔امتیاز صدیقی نے دلائل میں کہا کہ ایوان کی کارروائی عدلیہ کے اختیار سے باہر ہے بلکہ عدالت پارلیمان کو اپنا گند خود صاف کرنے کا کہے، جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ انتخابات کی کال دے کر 90 دن کے لیے ملک کو بے یارو مددگار چھوڑ دیا جاتا ہے اور اب وزیراعظم صدر کی ہدایات پر کام کر رہے ہیں۔جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ اگر مخلوط حکومت بنتی ہے تو کیا ممکن ہے کہ سب سے بڑی جماعت کو دیوار سے لگا دیا جائے۔چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ درخواست گزاروں کی جانب سے کہا گیا کہ لیو گرانٹ ہونے کے بعد رولنگ نہیں آ سکتی، درخواست گزاروں کا موقف ہے کہ 28 مارچ کو تحریک عدم اعتماد پیش ہونے سے پہلے رولنگ آ سکتی تھی، اس معاملے پر آپ کیا کہیں گے؟وکیل وزیراعظم امتیاز صدیقی نے کہا کہ اپوزیشن نے ڈپٹی اسپیکر کی صدارت پر اعتراض نہیں کیا تھا، ڈپٹی اسپیکر نے اپنے ذہن کے مطابق جو بہتر سمجھا وہ فیصلہ کیا اور پارلیمان کے اجلاس میں ڈپٹی اسپیکر نے جو فیصلہ دیا اس پر وہ عدالت کو جوابدہ نہیں۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ قانون یہی ہے کہ پارلیمانی کارروائی کے استحقاق کا فیصلہ عدالت کرے گی اور عدالت جائزہ لے گی کہ کس حد تک کارروائی کو استحقاق حاصل ہے۔امتیاز صدیقی نے دلائل میں کہا کہ اسپیکر کو اگر معلوم ہو کہ بیرونی فنڈنگ ہوئی یا ملکی سالمیت کو خطرہ ہے تو وہ قانون سے ہٹ کر بھی ملک کو بچائے گا اور اسپیکر نے اپنے حلف کے مطابق بہتر فیصلہ کیا جبکہ اسپیکر کا فیصلہ پارلیمنٹ کا اندرونی معاملہ ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ آرٹیکل 69 کو ارٹیکل 127 سے ملاکر پڑھیں تو پارلیمانی کارروئی کو مکمل تحفظ حاصل ہے اور سپریم کورٹ آرٹیکل 69 کے تحت پارلیمنٹ کی کارروائی میں مداخلت نہیں کر سکتی۔جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیے کہ جن فیصلوں کا حوالہ دیا گیا سپریم کورٹ ان پر عمل کرنے کی پابند نہیں، جس پر وزیراعظم کے وکیل نے کہا کہ معذرت کےساتھ مائی لارڈ، 7 رکنی بینچ کے آپ پابند ہیں۔ جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیے کہ جن فیصلوں کا حوالہ دیا گیا ان میں آبزرویشنز ہیں اور عدالت فیصلوں میں دی گئی آبزرویشنز کی پابند نہیں۔وکیل امتیاز صدیقی نے کہا کہ ڈپٹی اسپیکر نے نیشنل سیکیورٹی کمیٹی پر انحصار کیا اور نیشنل سکیورٹی کمیٹی پر کوئی اثرانداز نہیں ہو سکتا۔چیف جسٹس نے اسفتسار کیا کہ کیا ڈپٹی اسپیکر کے پاس کوئی مٹیریل دستیاب تھا جس کی بنیاد پر رولنگ دی؟ کیا ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ نیک نیتی پر مبنی تھی؟ ڈپٹی اسپیکر کے سامنے قومی سلامتی کمیٹی کے منٹس کب رکھے گئے؟جواب میں وکیل امتیاز صدیقی نے کہا کہ ڈپٹی اسپیکر کے معاملے پر مجھے نہیں معلوم، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ جو آپ کو نہیں معلوم اس پر بات نا کریں۔چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کے مطابق ڈپٹی اسپیکر کے پاس ووٹنگ کے دن مواد موجود تھا جس پر رولنگ دی۔ استفسار کیا کہ وزیراعظم نے آرٹیکل 58 کی حدود کو توڑا اس کے کیا نتائج ہوں گے؟ ڈپٹی اسپیکر کو 28 مارچ کو ووٹنگ پر کوئی مسئلہ نہیں تھا لیکن ووٹنگ کے دن رولنگ آئی۔ اسپیکر نے تحریک عدم اعتماد 28 مارچ کو کیوں مسترد نہیں کی؟جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ اسمبلی تحلیل نہ ہوتی تو ایوان ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ ختم کر سکتا تھا لیکن وزیراعظم نے صورتحال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اسمبلی تحلیل کی

  • پنجاب میں سیاسی بھونچال ،ن لیگ کا بڑا فیصلہ

    لاہور(اے ایف بی)مسلم لیگ ن نے وزیر اعلی پنجاب کے انتخابات کرانے کے لیے پٹیشن تیار کر لی ۔حمزہ شہباز کی جانب سے کل لاہور ہائیکورٹ میں آئینی درخواست دائر کی جائے گی۔تفصیلات کے مطابق حمزہ شہباز کی جانب سے درخواست میں سپیکر ،ڈپٹی سپیکر اور دیگر کو فریق بنایا گیا ہے ۔درخواست میں حمزہ شہباز نے موقف اختیار کیا ہے کہ یکم اپریل سے چیف منسٹر پنجاب کا عہدہ خالی ہے ۔درخواست میں استدعا کی گئی کہ پنجاب اسمبلی کا سیشن کال کر کے فوری چیف منسٹر کے انتخابات کرائے جائیں ۔ پنجاب اسمبلی کے احاطے کو سیل کرنے کا اقدام بھی غیر قانونی ڈکلئیر کیا جائے ۔علاوہ ازیں لیگی رہنماء عطاء تارڈ پنجاب اسمبلی سے متعلق درخواست دائر کرنے لاہور ہائیکورٹ پہنچے،لیکن دائری برانچ بند ہونے کی وجہ سے پٹیش دائر نہ ہوسکی ،کل دائر ہونے کا امکان ہے۔

  • پرویز الہیٰ کے خلاف اپوزیشن نے تحریک عدم اعتماد جمع کرادی

    لاہور(اے ایف بی) اپوزیشن جماعتوں نے سپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویز الٰہی کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع کرادی۔تفصیلات کے مطاق اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے اسپیکر پنجاب اسمبلی پرویز الہیٰ کیخلاف تحریک عدم اعتماد پنجاب اسمبلی کے سپیشل سیکرٹری چودھری عامر حبیب کو جمع کروائی گئی ۔ عدم اعتماد کی تحریک جمع کروانے اپوزیشن کے اراکین اسمبلی سمیع اللہ، طاہر خلیل سندھو، پیر اشرف رسول، خواجہ سلمان رفیق، مرزا جاوید اور میاں عبدالرؤف اسمبلی پنجاب اسمبلی پہنچے۔واضح رہے کہ گذشتہ روز اپوزیشن ارکان کو اسپیکر پنجاب اسمبلی کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع کرانے سے روک دیا گیاتھا۔ن لیگ کے ارکان اسپیکر کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع کرانے پہنچے تو انہیں گیٹ پر روکا گیا اور اسمبلی میں داخل نہیں ہونے دیا گیا۔پنجاب اسمبلی کے اسپیشل سیکرٹری عامر حبیب نے ن لیگ کے وفد سے ملاقات کی اور کہا کہ آپ مجھےعدم اعتماد کی تحریک دے دیں،جمع کرا دوں گا تاہم ن لیگی ارکان نے انکار کرتے ہوئے کہا کہ ہم خود اندر جا کر تحریک جمع کرانا چاہتے ہیں۔مسلم لیگ ن کے رکن پنجاب اسمبلی سمیع اللہ خان کا کہنا تھا کہ تحریک عدم اعتماد پر مجھ سمیت ، اعجاز احمد، سلمان رفیق، خلیل طاہر سندھو ، پیر اشرف اور مرزا جاوید کے دستخط ہیں۔