لاہور(اے ایف بی) وفاق کے بعد پنجاب میں بھی متحدہ اپوزیشن کامیابی کے حوالے سے پر امید،پنجاب میں نئی حکومت سازی میں کس اتحادی کو کیا ملے گا؟معاملات طے پانا شروع ہوگئے۔تفصیلات کے مطابق مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی ، ترین،عبدالعلیم خان،اسد کھوکھر گروپ سمیت دیگر پنجاب میں نمبر گیم کے حوالے سے پراعتماد دکھائی دے رہےہیں جبکہ پنجاب میں نئی حکومت سازی کے لئے متحدہ اپوزیشن کے نامزد وزیر اعلیٰ حمزہ شہباز کی سربراہی میں ابتدائی فارمولے پر کام بھی شروع ہوگیا ہے۔ ذرائع کے مطابق پنجاب میں سپیکر شپ کا عہدہ ترین گروپ کو ملنے کا قوی امکان ہے ۔ سپیکر پنجاب اسمبلی کے لئے ترین گروپ کے ملک احمد سعید نوانی سمیت دو ناموں پر غور جاری ہے ۔ جبکہ ڈپٹی اسپیکر کا عہدہ مسلم لیگ ن کو دئیے جانے کا امکان ہے۔پنجاب میں پیپلز پارٹی کو 2 سے 3 وزارتیں۔2 پارلیمانی سیکرٹری اور 2 قائمہ کمیٹی کی چئیرمن شپ ملنے کا امکان ہے۔ اس کے علاوہ سینئر وزیر کا عہدہ بھی اتحادی جماعت پیپلز پارٹی کو دئیے جانے کا امکان ہے۔ذرائع کے مطابق سینئر وزیر کیلئے پیپلز پارٹی کے سید حسن مرتضی جبکہ مخدم عثمان محمود اور علی حیدر گیلانی ممکنہ وزیروں کی لسٹ میں شامل ہیں۔مسلم لیگ ن کے ملک احمد خاں، رانا مشہود، ملک ندیم کامران ، خواجہ عمران نذیر، خواجہ سلمان رفیق اور رانا محمد اقبال کو ممکنہ طور پر وزارت ملنے کا امکان ہے۔ اس کے علاوہ بیگم ذکیہ شاہ نواز ، میاں مجتبیٰ شجاع الرحمن ، احمد علی اولکھ اور جگنو محسن بھی ممکنہ وزیروں میں شامل ہوں گی۔ذرائع کے مطابق راہ حق پارٹی کو بھی پنجاب میں منصب دئیے جانے کا امکان ہے،وزیراعلی پنجاب کے چناؤ کے فوری بعد حکومت سازی کے فارمولے کو حتمی شکل دی جائے گی۔پنجاب میں نئی حکومت سازی کے ابتدائی فارمولے کی حتمی منظور سابق صدر آصف زرداری،سابق وزیراعظم نواز شریف اور وزیراعظم شہباز شریف دیں گے ۔ >
Blog
-
سردار عبدالقیوم نیازی کے خلاف تحریک انصاف کے 25ممبران اسمبلی کی تحریک عدم اعتماد پیش
مظفرآباد(اے ایف بی) پاکستان تحریک انصاف آزاد کشمیر کے 25 ممبران قانون ساز اسمبلی نے اپنے ہی وزیر اعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کر دی ہے ۔وزیراعظم آزاد جموں وکشمیر سردار عبدالقیوم نیازی کے خلاف تحریک عدم اعتماد میں تحریک انصاف آزاد کشمیر کے 25 ممبران قانون ساز اسمبلی کے دستخط ہیں۔ آزاد کشمیرقا نون ساز اسمبلی سیکرٹریٹ نے منگل کے روز تحریک عدم اعتماد کی قرارداد وصول کر لی ہے ۔25 ممبران قانون ساز اسمبلی نے آزاد کشمیرقا نون ساز اسمبلی سیکرٹریٹ میں جمع کرائی گئی تحریک میں سردار تنویر الیاس خان کو اپنا لیڈر تجویز کیا ہے ۔تحریک عدم اعتماد کے لیے پیش کی گئی قرارداد میں وزیراعظم آزاد جموں وکشمیر سردار عبدالقیوم نیازی پر الزام ہے کہ وہ پاکستان تحریک انصاف کے منشور پر عمل درامد میں ناکام رہے ، اقربا پروری اور میرٹ کی پائمالی کے مرتکب ہوئے ہیں ، اچھی حکمرانی کا فقدان ہے ۔ ان الزامات کی بنیاد میں قرارداد میں کیا گیا ہے کہ سردار عبدالقیوم نیازی ایوان کا اعتماد کھو بیٹھے ہیں۔اس لیے ایکٹ 1974 کے آرٹیکل 18 کے تحت قرارداد تحریک عدم اعتماد پیش کی جاتی ہے ۔ قابل ذکر امر یہ ہے کہ ، تحریک عدم اعتماد کامیابی کی صورت میں سردار تنویر الیاس وزیراعظم بن سکتے ہیں ۔ آزدکشمیر کے قانون کے مطابق تحریک عدم اعتماد جمع ہونے کے بعد 14 دن کا وقت ہوتا ہے جس میں صدر اسمبلی اجلاس طلب کریں گے14 دن کے اندر اندر اگر عدم اعتماد واپس لے لی گئی یا تحریک ناکام ہوگئی تو 6 ماہ تک دوبارہ عدم اعتماد کی تحریک نہیں لائی جاسکتی ، اس طرح سردار عبدالقیوم نیازی کو مزید چھ ماہ کا وقت مل سکتا ہے۔ یاد رہے کہ عدم اعتماد ایک ایسے وقت جمع کروائی گئی ہے کہ جب پاکستان پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ دیگر جماعتوں کی مشاورت سے تحریک عدم اعتماد اگلے 24 گھنٹوں میں جمع کروانے کروانے کا امکان تھا۔ ۔ ، عدم اعتماد کی تحریک سردار تنویر الیاس خان گروپ کے ممبران اسمبلی علی شان سونی, اکبر ابراہیم چودھری اور عبدالماجدخان نے جمع کروائی تحریک سیکرٹری اسمبلی کے پاس جمع کروائی گئی ہے
-
سرکاری دفاتر کے اوقات کار تبدیل، ہفتے میں 2 تعطیلات ختم
اسلام آباد (اے ایف بی)نو منتخب وزیراعظم شہباز شریف نے سرکاری دفاتر کے اوقات کار میں تبدیلی کرتے ہوئے ہفتے میں 2 سرکاری تعطیلات بھی ختم کر دیں۔ نو منتخب پاکستان کے 23 ویں وزیراعظم شہباز شریف کی وزیراعظم آفس کے افسران اور عملے سے ملاقات ہوئی، جس میں وزیراعظم شہباز شریف سے عملے کا تعارف کرایا گیا۔ اس موقع پر شہبازشریف کا کہنا تھا کہ کمر ہمت کس لیں، عوام کی خدمت کے لئے آئے ہیں، ایک لمحہ مزید ضائع نہیں کرنا، ایمان داری، شفافیت، مستعدی، انتھک محنت ہمارے راہنما اصول ہیں۔وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ دفاتر صبح 10 بجے کے بجائے صبح 8 بجے کام شروع کریں گے، ہفتے میں دو سرکاری تعطیل نہیں ہونگی۔
-
شہباز شریف کی صبح 7 بجے دفترآمد،عملے کی دوڑیں لگ گئیں
اسلام آباد (اے ایف بی) وزیراعظم شہباز شریف نے وزیراعظم ہاؤس میں دفتری اوقات صبح 8 بجے سے شروع کردیے۔ذرائع کے مطابق پہلے دن ہی نومنتخب وزیراعظم شہبازشریف 7 بجے دفترپہنچ گئے لیکن اس وقت وزیراعظم ہاؤس کا عملہ ڈیوٹی پر نہیں پہنچا تھا تاہم صبح سویرے وزیراعظم شہبازشریف کی آمد پر پی ایم ہاؤس عملے کی دوڑیں لگ گئیں۔ذرائع کاکہنا ہےکہ وزیراعظم شہبازشریف کی ہدایت پر دفتری اوقات صبح 8 بجےکردیے گئے ہیں جب کہ وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری توقیرشاہ نے بھی اپنے عہدے کا چارج لےکر کام شروع کردیا۔علاوہ ازیں وزیراعظم شہباز شریف اپنے اہلخانہ کے ساتھ وزیراعظم ہاؤس منتقل ہوگئے ہیں۔
-
نومنتخب وزیراعظم شہباز شریف کاسرکاری ملازمین کی تنخوائوںاورپیشن میں اضافے کااعلان
اسلام آباد(اے ایف بی)قومی اسمبلی نے مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف کو نیا قائد ایوان منتخب کرلیا ہے جس کے بعد شہباز شریف پاکستان کے وزیراعظم منتخب ہوگئے ہیں۔ نومنتخب وزیراعظم شہباز شریف قومی اسمبلی اجلاس سے خطاب کرتے بڑے فیصلے کئے۔تفصیلات کےمطابق پاکستان کے 23 ویں منتخب ہونے والے وزیراعظم شہباز شریف کا کہناتھا کہ اللہ تعالیٰ کاجتناشکراداکروں کم ہے،پاکستان کی تاریخ میں پہلی بارتحریک عدم اعتمادکامیاب ہوئی،اس ایوان نےایک سلیکٹڈوزیراعظم کوگھربھیج دیا،اس ایوان نےایک سلیکٹڈوزیراعظم کوآئینی طریقےسےگھربھیج دیا،سپریم کورٹ نےنظریہ ضرورت کوہمیشہ کیلئےدفن کردیا۔تبدیلی باتوں سےنہیں آتی، عمران خان کےجانےکےبعدڈالر8روپےسستاہوا۔ملکی معیشت کی کشتی کوبچاناہےتواتحاد،اتفاق اورمحنت واحدنسخہ ہے،ملکی معیشت اس وقت گھمبیرحالات میں ہے۔74سالہ تاریخ میں سب سےبڑےتجارتی خسارےکاسامناہے،مہنگائی عروج پرہے،60لاکھ لوگ بے روزگار ہو چکے ہیں ،ساڑھےتین سال میں انہوں نےکھربوں روپےکےقرضےلیے،71 سال میں مجموعی طورپر 25ہزارارب روپےقرضہ لیاگیا،عمران نیازی نےساڑھے3سال میں 20ہزارارب روپےقرضہ لیا،بھکاریوں کی دنیامیں کوئی عزت نہیں ہوتی۔نومنتخب وزیراعظم شہبازشریف کا کہناتھا کہ یکم اپریل سےکم از کم ماہانہ اجرت25ہزار روپے کررہےہیں،کم از کم ماہانہ اجرت25ہزار روپے کررہےہیں،،پینشنررز کی پنشن میں 10 فیصد اضافہ کیا جائے گا۔رمضان میں ریلیف کیلئےرمضان پیکیج کےحوالے سےسستا آٹا لائیں گے،پنجاب بڑا بھائی ضرورہے لیکن پنجاب پاکستان نہیں۔سندھ ،بلوچستان اور خیبرپختونخوا بھی پاکستان کا حصہ ہے،چاروں صوبوں کو ترقی میں برابر کی سطح پرلائیں گے۔ پاک چین دوستی لازوال ہے،سی پیک منصوبوں کو آگے بڑھائیں گے،چین اور سعودی عرب ہمارے قریبی دوست ہیں،چین پاکستان کا دکھ کا ساتھی ہے۔
-
شہبازشریف پاکستان کے 23ویں وزیراعظم منتخب
اسلام آباد(اے ایف بی)اپوزیشن کے نامزد امیدوار شہباز شریف بلامقابلہ پاکستان کے 23 ویں وزیراعظم منتخب ہوگئے جبکہ تحریک انصاف کے ارکان انتخابی عمل کا بائیکاٹ کرتے ہوئے ایوان سے باہر چلے گئے۔ قومی اسمبلی کا اہم ترین اجلاس قائم مقام اسپیکر قاسم سوری کی زیر صدارت شروع ہوا۔ اپوزیشن کے نامزد امیدوار شہباز شریف سمیت اپوزیشن کے تمام ارکان اسمبلی ایوان میں موجود ہیں۔ پی ٹی آئی کے منحرف ارکان ایوان میں موجود نہیں تاہم پی ٹی آئی کے ارکان اور نامزد امیدوار شاہ محمود قریشی نے اجلاس میں شرکت کی۔پی ٹی آئی اراکین کے ایوان میں آتے ہی شور شرابہ شروع ہوگیا۔ مسلم لیگ (ن) کی خواتین نے نواز شریف کی تصویر ایوان میں لہرا دی جس پر پی ٹی آئی ارکان نے گلی گلی میں شور ہے، نواز شریف چور ہے کے نعرے لگائے جس پر مسلم لیگی ارکان نے وزیراعظم شہباز شریف کے جوابی نعرے لگائے۔ تحریک عدم اعتماد روکنے کا فیصلہ پاکستانی کی حیثیت سے کیا، قاسم سوری اجلاس کے آغاز پر قائم مقام اسپیکر قومی اسمبلی قاسم سوری نے ایوان سے خطاب کیا اور کہا کہ عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد پر جو فیصلہ میں نے کیا تھا وہ حالات اور واقعات کے عین مطابق تھا، وہ فیصلہ پاکستانی کی حیثیت سے کیا، میں نے قومی اسمبلی کے محافظ کے طور پر اسپیکر کے طور پر کیا۔انہوں نے کہا کہ وفاقی کابینہ، قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں وہ غیر ملکی مراسلہ دکھایا جاچکا ہے اور اس بات کی تائید کی گئی کہ پاکستان کے وزیراعظم کے خلاف جو معاملات ہوئے وہ غیر ملکی سازش ہے، وفاقی کابینہ کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ یہ مراسلہ ڈی کلاسیفائیڈ کیا جائے۔ ڈپٹی اسپیکر نے امریکی مراسلہ ایوان میں لہرا دیا
اس موقع پر ڈپٹی اسپیکر نے مراسلہ ایوان میں لہرا دیا اور کہا کہ اس مراسلے میں برملا پاکستان کو دھمکی دی گئی ہے، یہ مراسلہ پاکستان میں عدم اعتماد کی تحریک آنے سے قبل دیا گیا جس میں کہا گیا کہ اگر تحریک کامیاب نہ ہوئی تو پاکستان کو سنگین حالات سے گزرنا پڑے گا، عمران خان کا یہ قصور تھا کہ انہوں نے پاکستان کے لیے آواز بلند کی، کیا یہ ملک غلامی کے لیے بنا؟ آج میں پورے پاکستان کے عوام سے پوچھتا ہوں؟
مراسلہ اسمبلی کی جانب سے سپریم کورٹ بھیجنے کا اعلان
انہوں نے مراسلہ اسمبلی کی جانب سے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کو ارسال کرنے کا اعلان کردیا اور کہا کہ میں نے عدالت عظمی کا جو بھی فیصلہ ہے اسے من و عن تسلیم کیا تاہم سب سے کہتا ہوں کہ خدارا اس پر سوچیں، کوشش ہے کہ ایوان کو قانون کے مطابق چلاؤں۔
شاہ محمود قریشی کا خطاب
اسپیکر نے سب سے پہلے شاہ محمود قریشی کو بات کرنے کی اجازت دی۔ تحریک انصاف کی جانب سے وزیراعظم کے لیے نامزد امیدوار شاہ محمود قریشی نے کہا کہ آج کوئی جیت کر بھی ہار جائے گا اور آج کوئی ہار کر بھی جیت جائے گا، آج قوم کو دو میں سے ایک راستہ چننا ہے ایک خودی کا دوسرا غلامی کا، میں اپنے تمام ممبران کا شکر گزار ہوں جو جھکے نہیں بکے نہیں۔اہوں نے کہا کہ جے یو آئی ایک سیاسی جماعت ہے، اسی ایوان میں بیٹھی ایک جماعت نے مفتی محمود کو یہاں سے نکالا، یہاں اے این پی بیٹھی ہے یہیں ایک جماعت نے ان کے خلاف مقدمات بنائے، آج پیپلز پارٹی یہاں بیٹھی ہے اس کے ساتھ وہ ہے جنہوں نے محترمہ کی بے توقیری کی، آج قاتل و مقتول یہاں اکٹھے بیٹھے ہیں۔انہوں نے کہا کہ آج اختر مینگل یہاں بیٹھے ہیں مگر ان کے ساتھ بیٹھے ہیں جن کے جلیل القدر والد عطاء مینگل سے جیل کی چکیاں پسوائی گئیں، آج ایم کیو ایم بھی بیٹھی ہے جو تین سال آٹھ ماہ حزب اختلاف کا کردار سندھ میں ادا کرتی رہی۔انہوں نے کہا کہ آج شہباز شریف کو وزیراعظم کے لیے پیش کیا جارہا ہے کون نہیں جانتا کہ انہیں مسلط کیا جارہا ہے، اپوزیشن کا اتحاد غیر فطری ہے، جوڑ توڑ کرکے عارضی حکومت مسلط کی جارہی ہے، آج گیارہ اپریل ہے جسے وزیراعظم بننا ہے آج اس کی پیشی تھی اس پر اربوں روپے کی کرپشن کے الزامات ہیں، شہباز چاہتے ہیں کہ وزیراعظم بن کر کرپشن کے کیسز ختم کردیں۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ بازگشت ہے کہ بلاول کو وزیر خارجہ بنایا جائے گا، بلاول نے شہباز کی دی گئی وزارت قبول کی تو یہ بھٹو کے نواسے کو سجتی نہیں، یہ پاکستان کی عجیب جمہوریت ہے جس میں باپ وزیراعظم اور بیٹا وزیر اعلیٰ بن رہا ہے۔
پی ٹی آئی کا وزیراعظم کے انتخاب کا بائیکاٹ، ارکان ایوان سے چلے گئے
اس موقع پر قائم مقام اسپیکر سمیت پی ٹی آئی کے تمام ارکان اسمبلی نے وزارت عظمی کے الیکشن کا بائیکاٹ کرتے ہوئے اسمبلی کی نشستوں سے مستعفی ہونے کا اعلان کردیا۔اس بات کا اعلان شاہ محمود قریشی نے اپنی تقریر کے اختتام پر کیا جس کے بعد تحریک انصاف کے ارکان ایوان سے جانا شروع ہوگئے۔ قاسم سوری نے اسپیکر شپ سنبھالنے سے معذرت کرتے ہوئے صدارت ایاز صادق کو سونپ دی اور انہوں نے بطورپینل آف چئیر قائم مقام اسپیکر کی کرسی سنبھال کر ایوان کو چلانا شروع کردیا۔
ایاز صادق نے وزیراعظم کے لیے نواز شریف کا نام لے لیا
ایاز صادق نے نئے قائد ایوان کے انتخاب کے لیے امیدواروں کا اعلان کرتے ہوئے غلطی سے نواز شریف کا نام لے لیا اور کہا کہ نواز شریف دل اور دماغ میں بستے ہیں، اس لیے ان کا نام زبان پر آگیا۔
وزیراعظم کے لیے ووٹنگ، شہباز شریف بلامقابلہ منتخب
بعدازاں انہوں نے وزیراعظم کے انتخاب کا عمل شروع کیا اور ووٹنگ کرائی جس میں شہباز شریف بلامقابلہ 174 ووٹ لے کر پاکستان کے 23 ویں وزیراعظم منتخب ہوگئے۔ قائم مقام اسپیکر ایاز صادق نے شہباز شریف کے باضابطہ طور پر وزیراعظم پاکستان منتخب ہونے کا اعلان کیا جس کے بعد ایوان میں نعرے بازی شروع ہوگئی، ارکان اپنی نشستوں سے اٹھ اٹھ کر شہباز شریف کو مبارک باد دینے لگے۔بطور وزیراعظم پاکستان ایوان میں اپنی پہلی تقریر میں وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے کہا کہ سابقہ حکومت گرانے کے لیے جس غیرملکی خط کا کہا جارہا ہے اگر اس خط میں بیرونی سازش ثابت ہوگئی تو میں مستعفی ہوکر گھر چلا جاؤں گا۔
وزیراعظم کی تقریب حلف برداری آج رات نو بجے ہوگی
دریں اثنا نئے وزیراعظم کی تقریب حلف برداری آج رات نو بجے ہوگی جس کے لیے ایوان صدر میں تیاریاں مکمل کرلی گئی ہیں۔ -
عمران خان کی برطرفی پر حریم شاہ کی ویڈیو وائرل
لاہور(اے ایف بی) متنازع ٹک ٹاکرحریم شاہ عمران خان کے وزارتِ عظمیٰ سے برطرفی پر دُکھی ہوگئیں۔حریم شاہ نے انسٹاگرام پر ایک ویڈیو شیئر کی جس میں انہیں آنسوؤں سے روتا ہوا دیکھا جاسکتا ہے۔ویڈیو بنانے والے اُن کے شوہر بلال شاہ اُن سے پوچھتے ہیں اور خود ساتھ جواب دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’کیوں رو رہی ہو؟ عمران خان چلا گیا اس لیے رو رہی ہو، کوئی بات نہیں جیے بھٹو۔‘ویڈیو کے کیپشن میں حریم شاہ نے لکھا کہ ’عمران خان آپ کے ساتھ ظلم ہوا ہے، ہمیں آپ سے محبت ہے خان صاحب۔‘انہوں نے عمران خان کے آخری قوم سے خطاب کی ایک ویڈیو بھی شیئر کی۔
-
قومی اسمبلی میں نئے وزیراعظم کا انتخاب آج ہوگا، شاہ محمود اور شہباز شریف امیدوار
اسلام آباد(اے ایف بی) قومی اسمبلی کے آج ہونے والے اجلاس کا ایجنڈا جاری کردیا گیا۔ دونکاتی ایجنڈے میں قائد ایوان کا انتخاب شامل ہے۔قومی اسمبلی کا اجلاس آج دوپہر2بجے ہوگا۔ قومی اسمبلی سیکریٹریٹ نے اجلاس کا 2 نکاتی ایجنڈا جاری کردیا جس میں قائد ایوان کا انتخاب شامل ہے۔قومی اسمبلی اجلاس کارروائی آئین کے آرٹیکل 91 اور قاعدہ 32 کے تحت چلائی جائیگی۔نئے وزیراعظم کے انتخاب کے لئے آج اسپیکر چیئر سے شیڈول پڑھ کر سنایا جائے گا۔قائد ایوان کے انتخاب کے لئے تمام ارکان کو ایوان میں کارروائی کا آغاز ہوتے ہی پہنچنا ہوگا۔ارکان کو ایوان میں حاضری کے لیے پانچ منٹس تک گھنٹیاں بجائی جائیں گی۔تمام ارکان کے حاضر ہونے اور 5 منٹ گھنٹیاں بجنے کے بعد تمام دروازے بند کردیئے جائیں گے۔دروازے مقفل ہونے کے بعد کوئی رکن اندر سے باہر یا باہر سے اندر داخل نہیں ہوسکے گا۔لابیز کے دروازوں پر سارجنٹ ایٹ آرمز متعین کردیئے جائیں گے اوراسپیکر چیئر سے ایوان کو دو حصوں میں تقسیم کردیا جائے گا۔ دونوں امیدواران کے لئے الگ الگ لابیز مختص کی جائیں گی جہاں ان کے ووٹر اپنے ووٹ کاسٹ کے ساتھ داخل ہونگے۔تمام ارکان کے ایوان سے رخصت ہونے کیساتھ ہی گھنٹیاں بجا کر حال کو بند کردیا جائیگا۔نتائج کی گنتی مکمل ہونے کے بعد لابیز کھول دی جائیں گی اور ارکان کے سامنے نتائج رکھے جائیں گے۔قائد ایوان منتخب ہونے کے لیے کسی بھی امیدوار کو 172 ووٹ درکار ہیں۔وزیراعظم کے عہدے کے لئے میاں شہباز شریف اور شاہ محمود قریشی امیدوار ہیں۔ہفتے کووزیراعظم کیخلاف تحریک عدم اعتماد اپوزیشن کے 174ووٹوں سے کامیاب ہوئی تھی۔
-
کیا علی محمد خان استعفوں کے حق میں ہیں؟ اہم بیان
اسلام آباد (اے ایف بی)وزیر پارلیمانی امور کے طور پر ذمہ داریاں ادا کرنے والے تحریک انصاف کے رہنما علی محمد خان نے کہا ہے کہ اس وقت استعفیٰ دینا اپوزیشن کو کھلی چھوٹ دینے کے برابر ہو گا۔نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے علی محمد خان نے کہا کہ میں کل ایک سپاہی کے طور پر اپنے مورچے میں کھڑا رہا اس وقت استعفیٰ دینا اپوزیشن کو کھلی چھوٹ دینے کے برابر ہو گا، 95 فیصدارکان سمجھتے ہیں کہ ہمیں میدان نہیں چھوڑناچاہیے۔علی محمد خان نے کہا کہ ہم عمران خان کےساتھ وزارتوں کیلئےنہیں آئےتھے ذاتی رائےہےاسمبلی سےمستعفی نہیں ہونا چاہئے انہوں نے کہا کہ یہ تو بغض عمران میں اکٹھے ہوئے تھے ابھی گتھم گتھا ہوں گے ریجیم چینج کیلئے سب سے نہیں اوپر کے 3،4 لوگوں سے بات ہوتی ہے امریکیوں کویہ حق کس نےدیا،ہم جانیں ہماراملک جانے ایک بیرونی سازش بڑے پیمانے پر بےنقاب ہوئی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم نےعوام کےسامنےاپناکیس رکھ دیاہے چیزیں واضح ہوگئی ہیں،لائن کےاس طرف کون دوسری طرف کون، دھمکی آمیزمراسلےکواپنےمنطقی انجام تک پہنچناچاہئے تحقیقات کے بعد دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہو جائے گا۔
-
پی ٹی آئی کا شہباز شریف کی نامزدگی چیلنج
اسلام آباد(اے ایف بی )پاکستان تحریک انصاف نے میاں شہباز شریف کی وزارت عظمیٰ کے لیے نامزدگی کو چیلنج کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔تفصیلات کے مطابق سابق وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ شاہ محمود قریشی کو وزرات عظمیٰ کا امیدوار نامزد کیا گیا ہے، جب کہ شہباز شریف کی نامزدگی کو چیلنج کریں گے۔فواد چوہدری نے کہا کہ اگر شہباز شریف کے کاغذات پر اعتراضات نہیں مانے جاتے تو پھر ہم استعفے دے دیں گے۔ ادھر شیخ رشید نے بھی اپنے بیان میں کہا ہے کہ ہم تمام ارکان قومی اسمبلی سے استعفیٰ دیں گے، ہم چو ر ڈاکوؤں کے ساتھ نہیں بیٹھ سکتے۔فواد چوہدری نے کہاکہ پی ٹی آئی کی سی ای سی کمیٹی نے اپیل کی ہے کہ احتجاج کیا جائے، ہر ضلع میں پی ٹی آئی کارکنان احتجاج کریں۔انھوں نے کہا ہم نے اجلاس میں عمران خان کو کہا کہ اسمبلیوں سے مستعفی ہو جاتے ہیں، آج رات کو پارلیمانی کمیٹی میں استفعوں سے متعلق فیصلہ ہوگا، ہم پارلیمانی کمیٹی میں مزید استعفے جمع کر کے آگے بڑھیں گے۔فواد چوہدری نے کہا ہم ملک میں چند ہفتوں یا چند ماہ میں الیکشن کی طرف بڑھیں گے، قوم کو جامع پلان دیں گے، جو صورت حال ہے اس کو عوام نے دل سے نا پسند کیا، تمام لوگوں سے اپیل ہے باہر نکلیں<