راولپنڈی (اے ایف بی )راولپنڈی کنٹونمنٹ بورڈ کی حدود میں واقع 496پرائیویٹ کا لجز / سکولو ں کے تما م مالکان کوحتمی نو ٹسز جاری کردیئے گئے ہیں جن میں تمام سکولوں /کالجوں 31دسمبر2021 سے قبل سکو ل خالی کرنے یا رہائشی علاقوں سے باہر منتقل کر نے کے احکامات جاری کر تے ہوئے وارننگ دی گئی ہے کہ جو پرائیو یٹ سکول/کالج نئے سال کے آغاز یکم جنوری 2022 تک ان احکامات کی خلاف ورزی کرے گا اُسے سیل کر دیا جائیگا
اس سلسلہ میں راولپنڈی کنٹونمنٹ بورڈ نے مختلف مقامات پر آگاہی بنیرز بھی لگادئیے ہیں جن میں سکولوں /کا لجوں /تعلیمی اداروں کے طلباء طالبا ت کے والدین /سر پرستو ں اور سکو ل پر نسپلز ومالکان کوباورکرایا گیا ہے کہ معز ز سپر یم کورٹ آ ف پاکستان کے حکم کی روشنی میں بذریعہ نوٹسز متعد د بار مطلع کیاگیاہے کہ 31دسمبر 2021ء سے قبل اپنا لائحہ عمل تیارکر لیں تاکہ طلباء طالبات کا تعلیمی ضیاع نہ ہو،یہ بھی باور کر ایا جاتاہے
اس ضمن میں مزیدکوئی نوٹس یا اطلاع نامہ جاری نہیں کیاجائیگا اورعدالتی احکامات پر عمل درآمد کو یقینی بنا یا جائیگااس سلسلہ میں آگاہی مہم،بینر ز،پوسٹر اوراخبار اشتہاربھی مشتہر کئے گئے ہیں مزید برآں راولپنڈی کنٹونمنٹ کی حدود میں واقع رہائشی علاقوں میں غیرقانونی دفاتر /بوتیک /بیوٹی پارلر وغیر ہ کوکمر شل استعما ل کر نے پر نوٹسز جاری کئے جائیں گے اس سلسلہ میں سر وے مکمل کر لیاگیاہے۔
Month: December 2021
-
کینٹ بورڈ کا496پرائیویٹ کا لجز/سکولو ں کے تما م مالکان کوحتمی نو ٹسز جاری
-
پاکستانیوں کو نوکریاں دینے کیلئےحکومت اور سعودی عرب کے درمیان دو معاہدے
اسلام آباد ( اے ایف بی)سعودی عرب نے پاکستانی ورکرز کی بھرتی اور ہنر کی تصدیق کے پروگرام سے متعلق حکومت کے ساتھ دو معاہدوں پر دستخط کردیے۔معاہدوں پر دستخط کی تقریب وفاقی وزیر برائے تعلیم، پیشہ ورانہ تربیت اور قومی ورثہ شفقت محمود کے دورہ سعودی عرب کے دوران ہوئی۔ یہ معاہدہ تنازعات کو حل کرنے اور کسی بھی خلاف ورزی پر ریکروٹمنٹ دفاتر، کمپنیوں یا ایجنسیوں کے خلاف قانونی چارہ جوئی کرنے میں بھی مدد دے گا۔
ہنر کی تصدیق کے معاہدے سے مملکت کو ہنرمند اور تصدیق شدہ پاکستانی افرادی قوت کی برآمد میں اضافہ ہوگا۔ یہ معاہدہ ہنر مند افرادی قوت کے لیے سرٹی فکیشن پاکستان میں تکنیکی افرادی قوت کے لیے بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ تربیت اور سرٹی فکیشن حاصل کرنے کے مواقع پیدا کرے گا۔ورکرز کی بھرتی سے متعلق معاہدہ مختلف پیشوں میں پاکستان سے افرادی قوت کی برآمد کے عمل کو مزید ہموار کرنے میں مدد دے گا۔ یہ معاہدہ سعودی عرب میں ملازمت کرنے والے پاکستانی کارکنوں کو ان کے جائز حقوق کا تحفظ اور جامع قانونی تحفظ فراہم کرے گا۔ -
خوشخبری: پاکستان سے سعودی عرب کیلئے پروازیں، مسافروں کیلئے بڑا اعلان
لاہور (اے ایف بی)سیرن ائیرلائن نے مسافروں کی سہولت کے لیے لاہور سے جدہ ہفتے میں دو پروازیں چلانے کا اعلان کردیا ہے۔تفصیلات کے مطابق سیرن ایئر نامی فضائی کمپنی کا کہنا ہے کہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور سے سعودی شہر جدہ کے لیے ہفتے میں دو پروازیں چلائیں گے۔سیرن ائیر لائن نے بتایا کہ پانچ دسمبر سے لاہور سے جدہ کی پروازیں آپریٹ کی جائیں گی۔
ایئرلائن نے لاہور سے جدہ جانے والے مسافروں کا مزید سہلوت کا بھی اعلان کردیا۔ لاہور سے جدہ کی اکانومی کلاس کی ٹکٹ پر 50 کلو تک وزن لے جانے کی سہلوت دی گئی ہے۔لاہور سے جدہ سیرین پلس ٹکٹ پر 80 کلو تک وزن ہے جانے کی سہلوت دی گئی ہے۔خیال رہے کہ حالیہ دنوں سعودی حکومت نے سفری پابندی کا خاتمہ کیا ہے جس کے بعد پاکستان سے سعودی عرب کے لیے براہ راست پروازویں آپریٹ ہورہی ہیں۔ -
پاکستان کو سعودی عرب سے 3 ارب ڈالرموصول ہو گئے ،شوکت ترین
اسلام آباد( اے ایف بی) مشیرخزانہ شوکت ترین نے کہا ہے کہ سعودی عرب سے پاکستان کو 3 ارب ڈالر موصول ہوگئے۔وزیراعظم کے مشیر خزانہ شوکت ترین نے ٹوئٹ میں کہا کہ سعودی عرب نے 3 ارب ڈالر ڈپازٹ کے طورپردئیے ہیں جو اسٹیٹ بینک کو موصول ہوگئے ہیں۔مشیر خزانہ شوکت ترین نے ڈپازٹ کی رقم موصول ہونے پر سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اورسعودی حکومت کا شکریہ ادا کیا ۔
بینک حکام کے مطابق سعودی عرب سے 3 ارب ڈالر موصول ہونے کے بعد ذرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہوگیا ہے اس کے ملکی معیشت پر مثبت اثرات ہونگے۔چند روز قبل سعودی فنڈ فار ڈویلپمنٹ اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے درمیان تین ارب ڈالر قرض ڈپازٹ معاہدے پر دستخط کیے گئے تھے۔ معاہدے کے تحت سعودی فنڈ کو اسٹیٹ بینک کے پاس 3 ارب ڈالر رکھوانے تھے جو اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائرکا حصہ ہوں گے۔ -
44 ہزار سے زائد طلبا سکول چھوڑ گئے؟نیا انکشاف
راولپنڈی (اے ایف بی)پنجاب حکومت کی فنڈنگ سے چلنے والے پرائیویٹ پارٹنر سکولوں میں زیر تعلیم طلباء کے ڈراپ آؤٹ شرح میں اضافہ، نومبر کے مہینے میں 44 ہزار سے زائد طلباء سکول چھوڑ گئے۔ تفصیلات کے مطابق پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن نے سکولوں میں بڑی تعداد میں طلبہ کے ڈراپ آؤٹ ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ صرف ماہ نومبر میں پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے سکولوں سے 44 ہزار بچوں نے سکولوں کو چھوڑ دیا ہے۔
پیف کے پارٹنر سکولوں میں زیر تعلیم طلباء میں سے چند ماہ میں ایک لاکھ سے زائد بچے سکول چھوڑ گئے ہیں۔ طلباء کے سکول چھوڑنے پر پیف نے پارٹنرز سکولوں کو وارننگ جاری کردی۔ پیف حکام کا کہنا ہے کہ گزشتہ چند ماہ سے طلبہ کا ڈراپ آؤٹ جاری ہے جو قابل تشویش ہے۔ ان بچوں کی تصدیق اور مانیٹرنگ پر پیف کے فنڈز خرچ ہوئے ہیں۔پیف حکام کا کہنا ہے کہ سکول چھوڑ جانے والے بچوں کے والدین سے رابط کیا جائے اور سکول لانے پر آمادہ کیا جائے گا۔ پیف کے ساڑھے سات ہزار سکولوں میں 25 لاکھ بچے زیر تعلیم ہیں۔ پیف انتظامیہ کی جانب سے کچھ عرصہ قبل بڑی تعداد میں داخلوں کا دعوی کیا گیا تھا۔ -
نیب نے اسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی کو گرفتار کرلیا
اسلام آباد(اے ایف بی) نیب نے آغا سراج درانی کو سپریم کورٹ کے باہر سے گرفتار کرلیا۔ نیب نے اسپیکر سندھ اسمبلی اور رہنما پیپلزپارٹی آغا سراج درانی کو سپریم کورٹ کے احاطے سے گرفتار کرلیا۔ آغا سراج درانی سپریم کورٹ میں ضمانت کی درخواست کے حوالے سے پیش ہوئے تھے۔ تاہم عدالت نے ان کی ضمانت کی درخواست مسترد کردی تھی۔آغا سراج درانی اپنی درخواست مسترد ہونےکے بعد کافی دیر تک سپریم کورٹ کے اندر ہی موجود رہے اورباہر نہیں نکلے، جب کہ نیب کی ٹیم آغا سراج درانی کو گرفتار کر نے کیلئے سپریم کورٹ کے باہر موجود رہی، تاہم جیسے ہی وہ عدالت سے باہر آئے انہیں نیب کے اہلکاروں نے فوری گرفتار کرلیا۔
اسپیکر سندھ اسمبلی اور پیپلزپارٹی کے رہنما آغا سراج درانی کی ضمانت کی درخواست پر سپریم کورٹ میں کیس کی سماعت ہوئی، کیس کی سماعت جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی، جب کہ آغا سراج درانی ذاتی حیثیت سے عدالت میں پیش ہوئے۔جسٹس عمر عطا بندیال نے آغا سراج درانی کی ٹرائل کورٹ کے سامنے سرنڈر کرنے کی استدعا مسترد کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ ٹرائل کورٹ کے سامنے سرنڈر کرنے کا حکم نہیں دے سکتے، ہم نے قانون کے مطابق چلنا ہے۔ جسٹس سجاد علی شاہ نے ریمار کس دیئے کہ آپ پہلے نیب اتھارٹی کو سرنڈر کریں، سرنڈر کریں گے تو آپ کی درخواست ضمانت ٹیک اپ کر لیں گے۔ سپریم کورٹ نے آغا سراج درانی کی درخواست ضمانت آئندہ سماعت کے لیے فکس کردی۔ -
اساتذہ کا پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے دھرنا، پولیس سے جھڑپ
اسلام آباد(اے ایف بی) آرڈیننس کے ذریعے اسلام آباد کے تعلیمی ادارے میونسپل کارپوریشن کے ماتحت کرنے پر اساتذہ تیسرے روز بھی سراپا احتجاج ہیں۔وفاقی دارالحکومت کے سرکاری تعلیمی اداروں میں تعلیمی سرگرمیاں معطل ہوئے تین روز گزر گئے۔ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے تحت آج تمام اسکولوں میں ہڑتال و بائیکاٹ کرتے ہوئے سیکڑوں اساتذہ و غیر تدریسی ملازمین پریس کلب کے سامنے پہنچ گئے۔
انہوں نے پریس کلب سے ڈی چوک تک ریلی نکالی اور ڈی چوک پر لگائی گئی خاردار تاریں اور رکاوٹیں ہٹا دیں۔ اس دوران پولیس اور اساتذہ میں ہاتھا پائی بھی ہوئی۔سیکڑوں ٹیچرز پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے پہنچ گئے اور دھرنا دے دیا۔ ٹیچرز کی جانب سے حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی گئی۔ مظاہرین نے کہا کہ مطالبات منظور ہونے تک احتجاج جاری رہے گا۔ -
سولہ ہزار سے زائد برطرف سرکاری ملازمین کو حکم امتناع پر بحال کرنے کی استدعا مسترد
اسلام آباد(اے ایف بی) سپریم کورٹ نے 16 ہزار سے زائد برطرف سرکاری ملازمین کو حکم امتناع پر بحال کرنے کی استدعا مسترد کردی۔سپریم کورٹ میں 16 ہزار برطرف سرکاری ملازمین کی بحالی کے کیس کی سماعت ہوئی۔ عدالت نے برطرف ملازمین کو حکم امتناع پر بحال کرنے کی اور فیصلے تک میڈیکل الاؤنس دینے کی استدعا بھی مسترد کردی۔جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہا کہ کوشش کرینگے روزانہ سماعت کرکے آئندہ ہفتے مختصر فیصلہ سنا دیں۔جسٹس سجاد علی شاہ نے ریمارکس دیے کہ حکومت خود ملازمین کی بحالی کیلئے عدالت آئی ہے، اگر ملازمین کو غلط نکالا گیا ہے تو حکومت بحال کرے، بعض اداروں نے ملازمین کے کنٹریکٹ ختم ہونے پر انہیں نکالا، کنٹریکٹ میں توسیع کا مطلب ہے ملازمین اس قابل نہیں تھے، کیا ایسے ملازمین کو قانون بنا کر زبردستی بحال کیا جا سکتا ہے؟، ایسے ملازمین کو بھی بحال کیا گیا جن کی اپیلیں سپریم کورٹ سے مسترد ہوچکی تھیں، عدالت نے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی اور آئین سے متصادم ہونے پر قانون کالعدم قرار دیا، جن کے کنٹریکٹ ختم ہو چکے تھے انہیں کیسے بارہ سال بعد بحال کیا گیا؟۔
جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ بارہ سال بعد برطرف ملازمین کی بحالی نئے امیدواروں کی حق تلفی ہے، ملازمت کیلئے اپلائی کرنا ہر شہری کا بنیادی حق ہے۔ جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہا کہ ملازمین کی بحالی اور مراعات دینے کیلئے قانون موجود ہے، کیا کام کیے بغیر کسی کو 12 سال کی تنخواہ دینے کا قانون بن سکتا ہے؟ملازمین کے وکیل وسیم سجاد نے کہا کہ لوگوں کی عمر زیادہ ہوچکی ان کے بچے اسکول جا رہے ہیں۔ جسٹس سجاد علی شاہ نے کہا کہ عدالت میں صرف قانون کی بات کریں، ریٹائر ملازمین کو ایک دن نوکری پر بلا کر تمام مراعات دی گئیں۔
جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہا کہ خلاف قانون ملازمین کی تعیناتی اور بحالی غیرآئینی ہوتی ہے، ممکن ہے کسی کو سیاسی انتقام کا نشانہ بھی بنایا گیا ہو، مخصوص افراد یا فرد واحد کیلئے بنائے قوانین ماضی میں بھی کالعدم ہوچکے۔جسٹس عمر عطاء بندیال کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بنچ نے مزید سماعت پیر تک ملتوی کر دی۔ جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہا کہ پیر سے روزانہ کی بنیاد پر سماعت ہوگی۔