Month: January 2022

  • تعلیمی ایمرجنسی نافذ ؛سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کا بڑا فیصلہ

    لاہور(اے ایف بی) پنجاب بھر میں چالڈ لیبر میں اضافہ، سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کا سال 2022 میں پنجاب کے سکولوں میں تعلیمی ایمرجنسی نافذ کرنے کا فیصلہ،نئے سال کے آغاز پر سکولوں میں تعلیمی ایمرجنسی نافذ کرکے داخلے کئے جائیں گے۔

    تفصیلات کےمطابق چائلڈ لیبر میں اضافہ ہونے پرسکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ نےسال 2022 میں پنجاب بھر کے سکولوں میں تعلیمی ایمرجنسی نافذ کرنے کا فیصلہ کیا، نئےتعلیمی سال کےآغاز پرسکولوں میں تعلیمی ایمرجنسی نافذ کرکےنئےداخلے کیے جائیں گے،بچوں کو داخل نہ کران یوالے والدین کوپچاس ہزارجرمانہ یا 6 ماہ کی قیدہوگی۔

    امریکا میں برفانی طوفان، ایمرجنسی نافذپنجاب بھرمیں 16 سال تک کےعمر کے تمام بچوں اور بچیوں کے لئےتعلیم لازمی قرار دی جائے گی۔ بچوں کو داخلے نہ کرانے والے والدین کو 50 ہزار جرمانہ یا 6 ماہ کی قید ہوگی

  • راولپنڈی کے سکولوں سے متعلق صوبائی وزیر تعلیم کانیا اعلان

    لاہور(اے ایف بی)پہلی سے چھٹی جماعت تک سکولوں میں بچوں کی 50 فیصد حاضری میں دو ہفتوں کی توسیع کردی گئی۔صوبائی وزیرا تعلیم ڈاکٹر مراد راس نے ٹوئٹر پر اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اب چھٹی جماعت تک بچے 15 فروری تک پچاس فیصد حاضری کے تحت سکول آئیں گے۔

    اس سے قبل 31 جنوری تک پرائمری سکولوں میں بچے 50 فیصد حاضری کے تحت آنا تھے۔ کورونا کی بڑھتی ہوئی صورتحال کے پیش نظر پچاس فیصد حاضری کی تاریخ میں دو ہفتوں کی توسیع کی گئی ہے ، ساتویں جماعت سے بارہویں جماعت تک بچے 100 فیصد حاضری کے تحت ہی آئیں گے۔یاد رہے کہ یہ فیصلہ صرف لاہور اور راولپنڈی کے سکولوں کیلئے کیا گیا ہے۔

  • ٹک ٹاک پر غیر اخلاقی مواد سے نوجوان نسل متاثر ہورہی ہے، پشاور ہائی کورٹ

    پشاور(اے ایف بی)ہائی کورٹ کا کہنا ہے کہ ٹک ٹاک پر غیر اخلاقی مواد سے زیادہ تر نوجوان نسل متاثر ہورہی ہے، غیر اخلاقی مواد شیئر کرنے والوں کو اسی وقت بلاک کیا جائے. ٹک ٹاک پر غیر اخلاقی مواد کی روک تھام کے لئے دائر درخواست پر پشاور ہائیکورٹ نے تحریری حکم نامہ جاری کردیا، جس میں کہا گیا ہے کہ ٹک ٹاک پر غیر اخلاقی مواد سے زیادہ تر نوجوان نسل متاثر ہورہی ہے۔تحریری حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ عدالت نے متعلقہ حکام کو ٹک ٹاک پر غیراخلاقی مواد روکنے کے لئے ہدایات جاری کی تھیں، پی ٹی اے نے رپورٹ پیش کی ہے جس کے مطابق اب تک 2 کروڑ 89 لاکھ 35 ہزار 34 غیر اخلاقی ویڈیوز ہٹا دی گئی ہیں، جب کہ غیر اخلاقی مواد شیئر کرنے والے 14 لاکھ 65 ہزار 612 اکاونٹ بلاک کر دیئے گئے ہیں۔

    عدالت کا کہنا ہے کہ ہمارے نوٹس میں لایا گیا کہ غیر اخلاقی مواد شیئر کرنے والوں کے خلاف کارروائی جارہی ہے، غیر اخلاقی مواد شیئر کرنے والوں کے خلاف کارروائی ہوتی ہے لیکن ان کو سزا نہیں ملتی جس کی وجہ سے وہ دوبارہ خلاف ورزی کرتے ہیں، پی ٹی اے ٹک ٹاک سے غیر اخلاقی مواد ہٹانے کے لئے جو اقدامات کررہی ہے عدالت اس کو سراہتی ہے، لیکن عدالت چاہتی ہے کہ پی ٹی اے اس ایکسرسائز کو جاری رکھے اور جو غیر اخلاقی مواد شیئر کرتا ہے ان کو اسی وقت بلاک کیا جائے، اس کے لئے ایک طریقہ کار بنایا جائے تاکہ بار بار خلاف ورزی کرنے والے اکاؤنٹس کو بلاک کیا جائے۔ عدالت نے پی ٹی اے سے آئندہ سماعت پر رپورٹ طلب کیا ہے۔

  • کووڈ 19 کے دماغی اثرات پر سائنسداں پریشان، مزید تحقیق پر زور

    میری لینڈ:(اے ایف بی) گزشتہ ایک ماہ سے کووڈ 19 کے دیرپا منفی اثرات میں دماغ کے متاثر ہونے کی کئی خبریں منظرِ عام پر آچکی ہیں، اب سائنسدانوں نے دنیا کو اس سے خبردار کرتے ہوئے وسیع پیمانے پر تحقیق پر زور دیا ہے۔میری لینڈ میں واقع ’نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف نیورولوجیکل ڈس آرڈر اینڈ اسٹروک (این آئی این ڈی ایس) اور ییل یونیورسٹی کے سائنسدانوں سمیت کئی اداروں نے سارس کووٹو کے دماغی اثرات پر غور کیا ہے اور مزید تحقیق پر زور دیا ہے۔

    یہاں پروفیسر اویندا ناتھ اور دیگر ماہرین نے سونگھنے، چکھنے ، دردِ سر، فالج، دماغی سوزش جیسی عام علامات کے ساتھ ساتھ عصبی سوزش، دماغی شریانوں میں خرابی اور امنیاتی رحجان کی دماغ دشمنی جیسے دیرپا اثرات کا بھی عندیہ دیا ہے۔اس کے علاوہ نیند میں خلل، تھکاوٹ، توجہ میں کمی، ڈپریشن، ازخود امنیاتی حملے اور دیگر امراض کو بھی کووڈ کے اثرات میں شامل کیا گیا ہے۔ ان کیفیات کا دورانیہ طویل بھی ثابت ہوسکتا ہے۔

    پروفیسر اویندا کے مطابق ہر شخص میں کیفیات کی شدت مختلف ہوسکتی ہے لیکن طویل کووڈ اثرات والے مریض ان کیفیات میں گرفتار نظر آتے ہیں۔ اسی تناظر میں اب سائنسدانوں کی ٹیم نے طویل تحقیق اور مریضوں کے کئی برس تک مسلسل جائزے پر زور دیا ہے۔پھران کا اصرار ہے کہ طبی برادری ان اثرات کے علاج کے لیے سنجیدہ کوششیں کریں تاکہ لوگوں کو اس اذیت سے نکالا جاسکے۔ ساتھ ہی انہوں نے ذرائع ابلاغ میں ان کیفیات کے عوامی شعور کا تذکرہ بھی کیا ہے۔

  • کورونا کی شرح 42 فیصد، کئی علاقوں میں اسمارٹ لاک ڈاؤن نافذ

    کراچی(اے ایف بی) شہر قائد میں کورونا کیسز میں اضافے کے باعث ضلع وسطی کے کئی علاقوں میں اسمارٹ لاک ڈاؤن نافذ کردیا گیا۔محکمہ داخلہ کے مطابق اسمارٹ لاک ڈاؤن ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر کی سفارش پر لگایا گیا ہے۔ جن علاقوں میں اسمارٹ لاک ڈاؤن لگایا گیا ہے ان میں گلبرگ، لیاقت آباد، نارتھ کراچی اور نارتھ ناظم آباد شامل ہیں

    ۔نوٹیفکیشن کے مطابق ان علاقوں میں اومی کرون ویریئنٹ کیسز میں نمایاں اضافہ ہورہا ہے جس کی وجہ سے اسمارٹ لاک ڈاؤن لگایا گیا۔ان علاقوں میں اسمارٹ لاک ڈاؤن 5 فروری تک نافذ رہے گا۔ اسمارٹ لاک ڈاؤن کا مقصد اومی کرون کو پھیلنے سے روکنا ہے۔واضح رہے کہ ملک میں کورونا کی پانچویں لہر میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔ گزشتہ روز جان لیوا وائرس نے 20 افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا جب کہ ساڑھے سات ہزار سے زائد نئے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔

  • سکولوں میں فرسٹ ایڈ کٹس رکھنا لازمی قرار

    لاہور(اے ایف بی)سکولوں میں فرسٹ ایڈ کٹس رکھنا لازمی کردیا گیا،پانچ لاکھ اساتذہ کو فرسٹ ایڈ کٹ کے حوالے سے باقاعدہ تربیت دی جائے گی، ریسکیو 1122 کیجانب سے اساتذہ کو تربیت فراہم کیجائے گی۔سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب نے سرکاری ونجی سسکولوں میں فرسٹ ایڈ کٹس رکھنا لازمی کردیا ہے تاکہ حادثہ کی صورت میں بچوں کو فرسٹ ایڈ دی جاسکے گی۔

    اس حوالے سے پانچ لاکھ اساتذہ کو فرسٹ ایڈ کٹ کے حوالے سے باقاعدہ تربیت دی جائے گی۔اساتذہ کو تربیت ریسکیو 1122 کیجانب سے فراہم کیجائے گی۔احکامات کیخلاف ورزی پر متعلقہ سکولوں کیخلاف کاروائی اور بھاری جرمانے کیے جائیں گے۔

  • کورونا زیادہ پھیلا تو پی ایس ایل 7 کو موخر کر دیا جائے گا، پی سی بی

    کراچی(اے ایف بی) پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیف آپریٹنگ آفیسر سلمان نصیر نے کہا ہے کہ کورونا زیادہ پھیلا تو پی ایس ایل 7 کو موخر کر دیا جائے گا۔لیگ کے لیے آفیشل لائیو اسٹریمنگ پارٹنر دراز کے ساتھ معاہدے کی تقریب کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے چیف آپریٹنگ آفیسر سلمان نصیر نے کہا کہ کورونا دنیا بھر میں اثرانداز ہورہا ہے۔

    سلمان نصیر نے کہا ہم کورونا سےبچاؤ کے لیے جتنی تیاری کرسکتے تھے ہم نے کی، پوری کوشش ہے کہ پی ایس ایل جاری رکھیں، کھلاڑیوں، پروڈکشن کریو اور اسٹاف کا بیک اپ موجود ہے۔ کھلاڑیوں کو چارٹرڈ فلائٹ کے ذریعے لاہور لےجائیں گے، ہمارے پاکستانی کھلاڑی اسٹارز ہیں۔انہوں نے کہا کورونا زیادہ پھیلنے کی صورت میں پلان کے تحت لیگ کو ملتوی کیا جائے گا جبکہ تیاری کی گئی ہے کہ ایک ہفتے کے وقفہ کے بعد دوبارہ ایونٹ کا انعقاد ممکن بنایا جائے۔

  • اسکولوں میں حاضری 50 فیصد کرنے سمیت مختلف پابندیوں کا فیصلہ

    اسلام آباد(اے ایف بی) این سی او سی نے کورونا کی 10 فیصد سے زائد شرح والے شہروں میں تعلیمی سرگرمیاں محدود کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ وزیر منصوبہ بندی اسد عمر کی صدارت میں این سی اوسی کا اجلاس ہوا، جس میں ملک بھر میں کورونا کی موجودہ صورتحال اور احتیاطی تدابیر پر عملدرآمد کا جائزہ لیا گیا، اجلاس میں احتیاطی تدابیر پر 31 جنوری تک عمل جاری رکھنے اور شادی ہالز کے حوالے سے احتیاطی تدابیر پر 15 فرروی تک برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا۔ جب کہ این سی او سی 27 جنوری کو دوبارہ اجلاس میں صورتحال کا جائزہ لے گی۔

    این او سی کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ این سی او سی کی جانب سے 10 فیصد سے زائد شرح والے شہروں میں پابندیاں عائد کی گئی ہیں، کورونا کی 10 فیصد سے زائد شرح والے تمام شہروں میں ہر قسم کے اجتماعات پر پابندی عائد کردی گئی ہے، ان شہروں میں ان ڈور اجتماعات میں 300 افراد کہ گنجائش کی اجازت ہوگی، اور 300 افراد آؤٹ ڈور اجتماعات کر سکیں گے، 10 فیصد سے زائد شرح والے شہروں میں انڈور شادی تقریبات پر پابندی عائد کردی گئی ہے، جب کہ ان شہروں میں ڈائن ان پر بھی پابندی عائد کی گئی ہے۔این سی او سی کے مطابق کورونا کی 10 فیصد سے زائد شرح والے شہروں میں تعلیمی سرگرمیاں بھی محدود کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، 12 سال سے کم عمر طلبا 3 دن 50 فیصد آئیں گے، اور 12 سال سے زائد عمر کے اسٹوڈنٹس کی مکمل حاضری ہوگی، تاہم 12 سال کے زائد عمر کی طلبا کے لیے ویکسینیشن لازمی قرار دی گئی ہے۔

    این سی او سی کے بیان کے مطابق انڈور جمز کو 50 فیصد فراد کی گنجائش کے ساتھ کام کرنے کی اجازت ہوگی، سینما، مزارات اور پارکس میں بھی 50 فیصد افراد کی شرط عائد کی گئی ہے، 10 فیصد سے زائد شرح والے تمام شہروں میں تمام قسم کی کنٹیکٹ اسپورٹس پر بھی پابندی ہوگی، پبلک ٹرانسپورٹ کو بھی 70 فیصد افراد کی گنجائش کے ساتھ کام جاری رکھنے کی ہدایات کی گئی ہے، این سی او سی کی جانب سے کاروباری اوقات اور دفاتر کے اوقات کار میں کسی بھی قسم کی تبدیلی نہیں کی گئی۔

  • تعلیمی ادارے بند ہونگے یا نہیں فیصلہ ہوگیا

    لاہور(اے ایف بی) وزیرتعلیم پنجاب مراد راس کا کہنا ہے کہ بغیر ویکسینیشن بچوں کو اسکول آنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیرتعلیم پنجاب مراد راس کا کہنا تھا کہ این سی او سی اجلاس میں اسکولز پر سب سے آخر میں بات ہوئی، دیگرچیزوں کے بند ہونے تک اسکولز کی بندش کا فیصلہ نہیں کر سکتے، 12 سال سے کم عمر کی بچوں کی کلاسز 50 فیصد حاضری کے ساتھ ہوں گی،12 سال سے کم عمر کے بچوں کی ویکسینیشن نہیں ہوئی، بغیر ویکسینیشن بچوں کو اسکول آنے کی اجازت نہیں ہوگی۔

    وزیرتعلیم نے کہا کہ اسکولز بند نہیں کرسکتے، پہلے ہی بچوں کا بہت نقصان ہوچکا ہے، اسکولوں کو بند نہیں کیا جا رہا صورتحال خراب ہوتی ہے تو مرحلہ وار اول تا ھشتم تک چلایا جائے گا، حکومت نے ویکسی نیشن کی استعداد بہت بڑھا دی ہے، اساتذ ہ کی 100 فیصد ویکسینیشن ہوچکی ہے، جب کہ میٹرک سے انٹر تک کے طلباء کی ویکسینیشن مکمل ہو چکی ہے، ان کے لیے اسکول مستقل کھلے رہیں گے، تاہم ماسک کی پابندی پر سختی سے عملدرآمد کروایا جائے گا۔مراد راس نے مزید بتایا کہ صوبے میں اساتذہ کی 16 ہزار اسامیوں کا اشتہار دوماہ تک آجائے گا، پنجاب میں پہلی مرتبہ کمپلسری ایکٹ پاس کیا گیا، اب اس پر عملدرآمد ہونے جا رہا ہے۔ کلاس ون سے پانچویں تک قرآن پاک ناظرہ پڑھایا جائے گا، چھٹی سے بارہویں تک قرآن ترجمے کے ساتھ پڑھایا جائے گا۔

  • سانحہ مری: تحقیقاتی کمیٹی نے اہم حقائق سے پردہ اٹھادیا


    اسلام آباد:(اے ایف بی) سانحہ مری کے ذمے داروں کا تعین کرنے کے لیے قائم کی گئی کمیٹی نے بڑے آپریشن کی سفارش کردی ہے۔تفصیلات کے مطابق حکومت پنجاب کی جانب سے مری میں برفانی طوفان کے دوران 22 سیاحوں کی ہلاکت کی وجوہات اور غلطیوں کی تحقیقات کے لیے اعلان کردہ پانچ رکنی کمیٹی کی تحقیقات اختتامی مراحل میں داخل ہوگئیں ہیں۔تحقیقاتی کمیٹی نے گذشتہ روز مری کے مختلف علاقوں کا دورہ کیا، ہوٹلز اور ان میں کار پارکنگ کے انتظامات دیکھے،تحقیقاتی ٹیم آج بھی متاثرین کے بیانات ریکارڈ کرےگی۔

    تحقیقاتی کمیٹی نے مری کی ملحق شاہراہوں پر تجاوزات و تعمیرات کو ٹریفک کی روانی میں بڑی رکاوٹ قرار دیتے ہوئے غیر قانونی تعمیرات اور تجاوزات کے خلاف بڑے آپریشن کی سفارش کردی ہے۔تحقیقاتی کمیٹی نے مری میں کارپارکنگ نہ رکھنے والی عمارتیں او غیرقانونی تعمیرات ہوٹلز شاپنگ مالز اپارٹمنٹس کو سیل کرنےکےبھی سفارش کردی ہے۔

    دو روز قبل تحقيقاتی کمیٹی نے آپریشنل عملے کے بیانات قلمبند کئے تھے، جس میں ہوشربا انکشافات سامنے آئے تھے، انکوائری رپورٹ کے مطابق طوفان کے وقت برف ہٹانے والی 20 گاڑیاں ایک ہی مقام پرکھڑی رہيں جبکہ گاڑیوں کو چلانے کیلئے ڈرائیوز اور عملہ بھی ڈیوٹی پرموجود نہيں تھا۔ذرائع کے مطابق محکمہ جنگلات کے اہلکار کمیٹی کو تسلی بخش جواب دینے میں ناکام رہے، کمیٹی نے عملے کی تفصیلات اور ان کی ذمہ داریوں کی فہرست بھی طلب کررکھی ہیں۔