Month: April 2022

  • ہنگو ضمنی الیکشن پی ٹی آئی نے جے یوآئی کو شکست دے دی

    ہنگو(اے ایف بی )ہنگو میں قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 33 کے ضمنی انتخاب میں پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار ڈاکٹر ندیم خیال نے کامیابی حاصل کرلی۔این اے 33 میں ضمنی انتخاب کے لیے پولنگ کا عمل صبح 8 بجے شروع ہوا جو شام 5 بجے تک بلا تعطل جاری رہا۔غیرحتمی اور غیرسرکاری نتیجے کے مطابق ضمنی انتخاب میں پی ٹی آئی امیدوار ڈاکٹر ندیم خیال کامیاب قرار پائے ہیں۔ این اے 33 ہنگو کے تمام 210 پولنگ اسٹیشنز کے غیرحتمی غیرسرکاری نتائج کے مطابق پی ٹی آئی کے ندیم خیال 21583 ووٹ لے کرکامیاب ہوئے۔جمعیت علمائے اسلام کے مفتی عبید اللہ 17153ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر رہے۔یہ نشست تحریک انصاف کے ایم این اے حاجی خیال کے انتقال بعد خالی ہوئی تھی اور پی ٹی آئی نے اس نشست پر حاجی خیال کے بیٹے کو ٹکٹ جاری کیا

  • کتنا بدل گیا انسان !

    تحریر ،عرفان خان سدوزئی
    عدم برداشت کی لڑاٸی شاہراۓ جمہوریت سے ہوتی ہوٸی گلی محلوں تک پہنچ چکی ہے ۔ سیاسی رہنماٶں سے لیکر عام کارکنوں تک کوٸی ہار ماننے کو تیار نہیں ، چوک چوراہے حالات حاضرہ کے ٹی وی پروگراموں کا منظر پیش کررہے ہیں جہاں ایک دوسرے کو غلط ثابت کرنے کے لیے دلاٸل کے بجاۓ گرجدار لہجے ، غصے، بدزبانی اور گالم گلوچ کا استعمال معمول بن چکا ہے ، ایسے حالات میں سب پریشان ہیں کہ آگے کیا ہوگا؟
    متحدہ حزب اختلاف سیاسی جنگ جیت کہ اقتدار میں آچکی ہے جبکہ عمران خان خان اسلام آباد، پشاور اور کراچی کے جلسوں میں عوامی طاقت کا مظاہرہ کرکے یہ تاثر قاٸم کرنے میں کامیاب ہوۓ ہیں کہ مہنگاٸی، بےروزگاری اور حکومت میں رہتے ہوۓ ناقص کارکردگی کے باوجود عوام کا ایک طبقہ آج بھی ان کی حمایت میں کھڑا ہے ، تحریک انصاف کے بقول یہ وہ لوگ ہیں جو عمران خان کا ساتھ کسی صورت چھوڑنے کے لیے تیار نہیں، توشہ خانے سے ہیروں کے ہار ، سونے کی گھڑی اور کلاشنکوف کی فروخت کے باوجود یہ طبقہ ان حقاٸق کو عمران خان کے خلاف سازش سمجھتا ہے اور اس مہم کا حصہ بنے ہوۓ ہیں کہ عمران خان کو اللہ نے سب کچھ دیا ہے اسے یہ سب کرنے کی کیا ضرورت ہے ؟۔
    ایسے کارکنوں کے ذہنی ، جذباتی اور سیاسی رجحانات انتہاٸی دلچسپ ہیں یہ سمجھتے ہیں کہ عمران خان ہی وہ سرچشمہ ہے جہاں سے سیاسی، ثقافتی، اور معاشی اختیارات کے دریا پھوٹتے ہیں، وہ اپنی اتھارٹی کو برقرار رکھنا بھی جانتا ہے اور ایسا کرنے کی قوت بھی رکھتا ہے۔ عمران خان کو معلوم ہے کہ کہنے کو تو اس کے کارکن بہت روشن فکر، جمہوری اور ترقی پسند ہیں مگر یہ کارکن بنیاد پرست اور سماجی برتاؤ میں بہت ہی قدامت پسند ثابت ہوۓ ہیں ، غیرت کی دھن پر جان لیوا رقص کرتے ہیں اور وطن کے خطرے میں وجد میں آتے ہیں اور اگر امریکی سامراج کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے کی صدا دو تو یہ آپے سے باہر ہو کر مکمل مجنوں بن جاتی ہے۔
    عمران خان نے ایک منظم مہم کے ذریعے اپنے چاہنے والوں کا ایک ایسا قبیلہ تشکیل دے دیا جس کے سردار عمران خان ہوں اور کارکن انکی رعایا جسے عمران خان میں کوٸی خامی نہ دکھاٸی دیتی ہو ۔ سابق صدر پاکستان ممنون حسین بیان کیا کرتے تھے۔ ’میں یہ دیکھ کر حیران رہ جاتا ہوں کہ جنرل عبدالقادر بلوچ اپنے تمام تر سیاسی و سماجی مقام و مرتبہ کے باجود اپنے قبائلی سردار نواب ثنا اللہ زہری کے سامنے ہمیشہ ہاتھ باندھ کر کھڑے ہوتے ہیں۔

    ایسا کیوں تھا؟ یہ راز ڈاکٹر مری کھولتے ہیں، وہ لکھتے ہیں کہ اس بے حد احترام کا سبب سردار کا سیاسی و سماجی مرتبہ ہی نہیں ہوتا بلکہ اس کے پس پشت روحانی قوت بھی ہوتی ہے ، بلوچوں کے سارے پی ایچ ڈی، سارے یورپ پلٹ اور سارے علم و دانش کے مالک اشخاص بھی اپنے سردار کو ولی اللہ گردانتے ہیں۔ قبائل کے نزدیک سردار اللہ کا برگزیدہ اور پسندیدہ شخص ہے۔ تبھی تو اسے اتنی طاقت عطا کر دی گئی ہے۔
    وہ لکھتے ہیں کہ بلوچ اپنے سردار کو صاحب کرامت پیر اور بزرگ بھی سمجھتے ہیں۔ میں نے ان سے سوال کیا کہ آپ سرداروں کے صاحب کرامت ہونے کی کوئی مثال پیش کرسکتے ہیں؟ انھوں نے بلا تامل جواب دیا ایک نہیں، کئی بلکہ ہزاروں ۔ اتنا کہہ کر سانس لینے کے لیے تھوڑا خاموش ہوئے پھر کہا کہ پہلے ایک واقعہ شاہ ایران کا سن لیجیے، انھوں نے بتایا شہنشاہ ایران ایک بار کسی پہاڑ سے گر پڑے لیکن کسی گھاٹی میں گر کر موت کے منھ میں جانے کے بجائے کسی نرم جگہ یا پانی میں گرے یوں بچ گئے۔ اس واقعے کی کہانی انھوں نے یہ بیان کی کہ حضرت علی نے انھیں اپنی بانہوں میں لے کر مرنے سے بچا لیا تھا۔‘

    بلوچ معاشرے میں اس قسم کی ہزاروں کہانیاں موجود ہیں جن پر یقین کیا جاتا ہے اور سرداروں کی براردی ان تصورات کے فروغ میں ہمیشہ ایک دوسرے کی مدد کرتی ہے۔ یہ کہہ کر وہ خاموش ہوئے تو میں نے سوال کیا کہ مثلاً مثلاً ایوب خان کا زمانہ جب نواب خیر بخش مری کی گرفتاری کے لیے کارروائی جاری تھی۔ اس زمانے میں اسی قسم کا ایک واقعہ معروف ہو گیا تھا۔ سیکیورٹی فورسز کے حکام ایک جگہ کھڑے تھے۔ مری قبیلے کے لوگ بھی تھے۔ سامنے سے گاڑی چلی آرہی تھی۔ گاڑی میں نواب صاحب موجود تھے جو گرفتاری دینے کے لیے خود آرہے تھے۔ بیان کیا جاتا ہے کہ سامنے سے گاڑی آتے آتے اچانک غائب ہو گئی اور سیکیورٹی فورسز کے ہاتھ پاؤں پھول گئے۔ کچھ دیر کے بعد گرفتاری کا مقام گزرنے کے بعد وہی گاڑی اسی راستے پر ایسے جاتی دکھائی دی جیسے گرفتار کرنے والوں کے بیچ سے گزری ہو مگر انھیں کچھ دکھائی نہ دیا ہو۔
    لوگ اس واقعے پر ایسے یقین کرتے ہیں جیسے یہ ان کا آنکھوں دیکھا ہو۔
    اللہ ہم سب کو بھی عقل سلیم عطا کرے تاکہ ہم سیاسی مخالفت میں اتنا آگے نہ چلے جاٸیں جہاں سے واپسی ناممکن ہو ۔ ہمیں احتیاط کرنی چاہیے کہ کہیں ہم اندھی تقلید کرتے کرتے سیاسی رہنماٶں کو روحانی شخصیات کا درجہ تو نہیں دے رہے ۔

  • عمران خان پرتحفے کی گھڑی بیچنے کا الزام،شہبازشریف کا بڑافیصلہ

    اسلام آباد(اے ایف بی) عمران خان کے خلاف توشہ خانہ کیس ، وزیراعظم شہبازشریف نے مشاورت کے بعد کیس کو نیب یا ایف آئی اے کو بھجوانے کا فیصلہ کرلیا۔زرائع کے مطابق وزیراعظم شہبازشریف نے توشہ خانہ کیس سے متعلق سینئر پارٹی رہنماؤں سے مشاورت کی۔ پارٹی قیادت نے شہبازشریف کو مشورہ دیا کہ آپ یہ معاملہ نیب یا ایف آئی اے کو بھجوا دیں۔ خود حکومت نے تحقیقات کروائیں تو انتقامی کاروائی کا الزام لگ جانا ہے۔ذرائع ن لیگ کے مطابق نیب یا ایف آئی اے تحقیقات کرے گا تو ان کو سب ریکارڈ اور شواہد فراہم کردیے جائیں گے۔ حکومتی ذرائع کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف جلد یہ کیس نیب یا ایف آئی اے کو بھجوانے کا فیصلہ کریں گے۔

  • وزیراعظم کی بھاشا ڈیم کی تکمیل 2029 کے بجائے 2026 تک کرنے کی ہدایت

    چلاس(اے ایف بی) وزیراعظم شہبازشریف نے دیا میر بھاشا ڈیم میں کام کی رفتار تیز کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ منصوبے کو 2029 کے بجائے 2026 تک مکمل کیا جائے۔ وزیرِ اعظم شہبازشریف اچانک دیامر بھاشا ڈیم پر تعمیراتی کام کے جائزے کیلئے پہنچ گئے، جہاں انہیں چیئرمین واپڈا لیفٹیننٹ جنرل(ر) مزمل حسین نے دیا مر بھاشا ڈیم کی تعمیر کے حوالے سے بریفنگ دی۔ بریفنگ کے بعد بات کرتے ہوئے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ڈیمز نہ ہونے سے پانی وافر مقدار میں ضائع ہو رہا ہے، بھاشا ڈیم کی تکمیل مستقبل میں ملک کی معیشت میں اہم کردار ادا کرے گی۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ڈیم سے بجلی کی پیداوار میں اضافہ ہوگا اور زرعی سرگرمیاں بڑھیں گی، یہ بہت بڑا منصوبہ ہے او ر اس کی جلد ازجلد تکمیل کےلئے وفاقی حکومت کی طرف سے مکمل تعاون کیا جائے گا۔ وزیراعظم نے ٹیم کو کام کی رفتار تیز کرنے کی ہدایت کی تاکہ منصوبے کو 2029 کے بجائے 2026 تک مکمل کیا جاسکے۔اس موقع پروزیراعظم نے سال بھر ٹریفک کی روانی یقینی بنانے کے لئے 13 کلو میٹر طویل بابو سر ٹاپ ٹنل تعمیر کرنے کا اعلان کیا اور حکام کو اس حوالے سے جائزہ رپورٹ ان کے دفتر میں پیش کرنے کی ہدایت کی۔ وزیراعظم نے علاقے کی آبادی کو صحت کی جدید سہولیات کی فراہمی کے لئے چلاس میں نئے اسپتال کی تعمیر کا اعلان کیا، اور کہا کہ اسپتال کی تعمیر سے متعلق رپورٹ ایک ہفتے میں پیش کی جائے، اسپتال کی تعمیر کے لیے دن رات کام ہوگا، اسپتال میں علاج فری ہوگا، چلاس اسپتال کی میں ذاتی طور پر نگرانی کروں گا۔

  • ‘کینسر کا پتہ چلا تو بچوں اور اہلیہ کا سوچ کر گھنٹوں روتا رہا

    ممبئی (اے ایف بی) اداکار سنجے دت نے کینسر کی تشخیص کو اپنی زندگی کا مشکل ترین مرحلہ قرار دیا اور ایک انٹرویو میں اس کی تفصیلات بتائیں۔اگست 2020 میں جب دنیا عالمی وبا کورونا وائرس کے چنگل میں جکڑی ہوئی تھی تو اس وقت سنجے دت میں پھیپھڑوں کے کینسر کی تشخیص ہوئی جو کہ چوتھے اسٹیج پر تھا۔اب حال ہی میں سنجے دت نے اپنی بیماری پر تفصیلی گفتگو کی اور مداحوں سے شیئر کیا کہ کس طرح انہیں اس بیماری کا پتہ چلا اور انہوں نے اس پر کیا ردعمل دیا تھاانہوں نے بتایا کہ ‘کووڈ لاک ڈاؤن کے دوران وہ ایک عام دن تھا، میں گھر میں تھا لیکن محسوس کر رہا تھا کہ جیسے طبیعت خراب ہو رہی ہے، میرا سانس اکھڑ رہا تھا’۔سنجے دت نے بتایا کہ ‘میں نہایا لیکن میں پھر بھی سانس نہیں لے پا رہا تھا، میری سمجھ سے باہر تھا کہ ہو کیا رہا ہے، میں نے اپنے ڈاکٹر کو فون کیا، جس کے بعد فوری طور پر میرا ایکسرے کیا گیا جس سے معلوم ہوا کہ پھیپھڑے آدھے سے زیادہ پانی سے بھرے ہوئے ہیں’۔اداکار نے کہا کہ ‘سب کو لگ رہا تھا شاید یہ ٹیوبر کلوسس ہے لیکن بعدازاں انہیں پتہ چلا کہ یہ کینسر ہے، میرے اہلخانہ کو اس وقت جو سب سے بڑی مشکل پیش آئی وہ یہ تھی کہ مجھے کیسے بتایا جائے’۔’میں اپنے لیے ایسی بات سن کر کسی کا بھی منہ توڑ سکتا تھا’انہوں نے بتایا کہ ‘میں اپنے لیے ایسی بات سن کر کسی کا بھی منہ توڑ سکتا تھا لہٰذا میری بہن میرے پاس آئی اور اس نے مجھے بتایا، جس پر میں نے کہا کہ اب آگے کیا کرنا ہے’۔سنجے دت نے انکشاف کیا کہ ‘میں اپنی زندگی، بچوں اور اہلیہ کے بارے میں سوچ کر گھنٹوں روتا رہا۔اداکار کے مطابق انہیں اداکار ہریتھک روشن کے والد ہدایتکار راکیش روشن نے ڈاکٹر بتائے تھے جن سے ان کا علاج کیا گیا۔واضح رہے کہ سنجے دت اب بالکل صحت مند ہیں اور انہوں نے کینسر کو شکست دے دی ہے۔

  • حمزہ شہباز 197 ووٹ حاصل کرکے پنجاب کے 21ویں وزیراعلیٰ منتخب

    لاہور(اے ایف بی)پنجاب اسمبلی میں شدید ہنگامہ آرائی کے دوران ووٹنگ کے بعد مسلم لیگ (ن) کے رہنما حمزہ شہباز 197 ووٹ حاصل کرکے پنجاب کے 21ویں وزیراعلیٰ منتخب ہوگئے جبکہ حریف امیدوار پرویز الہٰی کی جماعت مسلم لیگ (ق) اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے ووٹنگ کے عمل کا بائیکاٹ کیا۔ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی دوست محمد مزاری نے ووٹنگ کا عمل مکمل ہونے کے بعد ایوان سے مخاطب ہوکر کہا کہ آج جمہوریت کی کامیابی ہوئی ہے۔۔انہوں نے کہا کہ ووٹنگ کی گنتی کرلی گئی ہے جس کے مطابق چوہدری پرویز الہٰی نے کوئی ووٹ حاصل نہیں کیا جبکہ محمد حمزہ شہباز نے 197ووٹ حاصل کیے ہیں۔وزیراعلیٰ منتخب ہونے کے بعد حمزہ شہباز نے ایوان سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں کسی کے بارے میں ایسی کوئی بات نہیں کرنا چاہتا لیکن یہ کیا بات ہے کہ جس نے ایوان کی پاسداری کو حلف لیا ہے ان کو جب اپنی ہار نظر آئے تو وہ دروازے بند کردوادیں اور ہال سیل کرکے آپ پر حملےکروائیں۔انہوں نے کہا کہ اسپیکر صاحب آپ نے جس طرح اپنا فرض بہادری سے ادا کیا، میں اس معزز ایوان کے توسط سے آپ کو خراج تحشین پیش کرتا ہوں، ہر طرح سے آپ کو زچ کیا گیا، آپ کے احکامات کو نہیں مانا گیا، عدالت نے آپ کو بلا کر اختیارت دیے گئے اس کے باوجود آج تیسری بار آئین کے ساتھ مذاق کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ قوم 15 دن سے ہیجان کا شکار تھی، لیکن آج جمہویرت کی فتح ہوئی ہے، یہ میری فتح نہیں اس ایوان میں بیٹھے ایک ایک رکن کی فتح ہوئی ہےحمزہ شہباز نے کہا کہ میں اس رب کا شکر ادا کرتا ہوں، ورکرز، پارٹی ارکان، معزز اتحادی، پیپلزپارٹی کے پارلیمانی لیڈر حسن مرتضی، علیم خان، جہانگیر ترین، ملک اسد کھوکھر، راۃ حق پارٹی کے معاویہ اعظم اور جگنو محسن سمیت دیگر کا شکریہ ادا کرتا ہوں

  • پنجاب اسمبلی میں ہنگامہ آرائی، تشدد سے پرویز الہٰی زخمی

    لاہور،(اے ایف بی)پنجاب اسمبلی میں ہنگامہ آرائ کے دوران متعدد ارکان اسمبلی زخمی ہوگئے، وزارت اعلیٰ کے امیدوار چوہدری پرویز الہٰی بھی ہنگامہ آرائی کے نرغے میں آگئے اور تشدد سے زخمی ہوگئے۔ہنگامہ آرائی کے دوران چوہدری پرویز الہٰی کو ایوان سے باہر نکال لیا گیا۔نجی ٹی وی سے گفتگو میں پرویز الہیٰ کا کہنا تھا کہ میرا بازو ٹوٹ گیا ہے اور سینے پر بھی چوٹیں آئی ہیں، اپوزیشن نے اپنے غنڈے بلائے ہیں، شریفوں کا اصل چہرہ سب نے دیکھ لیا ہے، سارے معاملے میں آئی جی پنجاب ملوث ہیں۔انہوں نے الزام لگایا کہ میں نے دیکھا کہ رانا مشہور مجھ پر تشدد کررہے تھے اور حمزہ دور سے بیٹھے انہیں ہدایات دے رہے تھے، مجھ پر حملہ کروا کر جان سے مارنے کی کوشش کی گئی۔ان کا کہنا تھا کہ میں کہاں جاؤں، میرے لیے کوئی عدالت نہیں ہے، میں نے معاملہ اللہ پر چھوڑ دیا ہے، از خود نوٹس ان کے لیے لیا جاتا ہے جن کی کوئی سفارش ہو ، ‏یہ شریفوں کی جمہوریت ہے۔

  • اب سرکاری اسکولز کے طلبا فیل نہیں ہوں گے

    لاہور(اے ایف بی)سرکاری اسکولز کے طلبا کے لئے پہلی دفعہ رزلٹ کارڈ جاری کرنیکا فیصلہ، قرآن مجید کے پچاس نمبر بھی شامل کردئیے گئے ۔ رپورٹ کے مطابق رواں سال سرکاری سکولوں کے طلباء کو تعلیمی کارکردگی کی بنیاد پر رزلٹ کارڈ بھی جاری کیے جائیں گے۔رزلٹ کارڈ میں قرآن مجید کے پچاس نمبر شامل کیے گئے ہیں۔80 فیصد سے زائد نمبر لینے والے طلباء کو اے پلس گریڈ دیا جائے گا۔۔کسی بھی طالبعلم کو ایف گریڈ یا فیل نہیں کیا جائے گا ۔رپورٹ کارڈ پر ٹیچر طالبعلم کی کارکردگی سے متعلق اپنے تاثرات کا بھی اظہار کریں گے۔رپورٹ کارڈ پر حاضری کے ساتھ نصابی اور غیرنصابی سرگرمیوں میں شمولیت کا خانہ بھی رکھا گیا ہے۔

  • وزیراعلیٰ کا انتخاب؛ پنجاب اسمبلی اجلاس میں ڈپٹی اسپیکر پر حکومتی ارکان کا حملہ اور شدید تشدد

    لاہور(اے ایف بی) وزیراعلیٰ پنجاب کے انتخاب کے لیے صوبائی اسمبلی کے اجلاس میں ڈپٹی اسپیکر سردار دوست محمد مزاری پر حکومتی ارکان نے حملہ کرکے انہیں تشدد کا نشانہ بنایا۔ڈپٹی اسپیکر سردار دوست محمد مزاری کی زیر صدارت پنجاب اسمبلی کا اجلاس تاخیر سے شروع ہوا تو ڈپٹی اسپیکر کے کرسی پر بیٹھتے ہی تحریک انصاف کے اراکین نے اسپیکر پر حملہ کردیا اور ان پر لوٹوں کی بارش کر دی۔ حکومتی اراکین اسمبلی نے ایوان میں لوٹے لہرادیے۔سیکیورٹی اہلکار دوست محمد مزاری کو بمشکل بچا کر واپس چیمبر میں لے گئے۔ حکومتی اراکین نے اسپیکر ڈائس پر قبضہ کرکے علیم خان کا جو یار ہے، غدار ہے غدار ہے کے نعرے لگائے۔ ڈپٹی اسپیکر پر تشدد کیا گیا۔ حکومتی اراکین نے ڈپٹی اسپیکر کو لوٹے اور تھپٹر بھی مارے۔رانا شہباز ، خیال احمد کاسترو اور دیگر اراکین نے ڈپٹی اسپیکر کو تشدد کا نشانہ بنایا۔ ڈپٹی اسپیکر کو مکے مارنے والوں میں محمد اعجاز، لاریب ستی، واسق قیوم، تنویر بٹ، رانا شہباز، شجاعت نواز، مہندر پال سنگھ شامل تھے۔ میاں شفیع محمد نے انھیں چھڑانے کی کوشش کی۔ دھکم پیل کی وجہ سے ڈپٹی اسپیکر کو واپس بھیج دیا گیا۔ شجاعت نواز اور مہندر پال سنگھ نے اسپیکر کی میز پر اور ڈائس پر لگے مائک پر لوٹے رکھ دیے۔اراکین کی جانب سے ڈپٹی اسپیکر کے بال کھینچے گئے اور دھکے بھی دیے گئے۔ ہنگامہ آرائی، بدنظمی کے باعث اجلاس روک دیا گیا۔ صورتحال پر قابو پانے کے لیے پولیس اسمبلی ہال میں داخل ہوگئی اور پنجاب اسمبلی کو گھیرے میں لے لیا۔ آئی جی پنجاب پولیس راؤ سردار بھی اسمبلی پہنچ گئے۔وزیراعلیٰ کے امیدوار چوہدری پرویز الہی نے اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پولیس کیسے ایوان کے اندر داخل ہوئی، ملکی تاریخ میں کبھی ایسا نہیں ہوا، اس کا ذمہ دار آئی جی پنجاب ہے اس کو ایوان میں بلا کر ذمہ دار ٹھہرایا جائے گا، آئی جی کو ایک ماہ کی سزا دی جائے گی۔پرویز الہی اور حکومتی اراکین کے شدید احتجاج پر پولیس ایوان سے واپس نکل گئی۔ –

  • سپریم کورٹ آزاد جموں وکشمیر کا وزیراعظم کشمیر کا انتخاب کرنے کا حکم

    مظفرآباد(اے ایف بی)سپریم کورٹ آزاد جموں وکشمیر نے وزیراعظم کشمیر کا انتخاب کرنے کا حکم دے دیا۔ آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی میں نیا قائد ایوان منتخب نہ ہوسکا، گزشتہ روز اسپیکر اسمبلی اور سیکرٹری اسمبلی کو ہائی کورٹ کے دو رکنی بینچ نے قائد ایوان کے انتخاب سے روک دیا تھا، جس پر تحریک انصاف کی طرف سے وزارت عظمیٰ کی امیدوار سردار تنویر الیاس نے سپریم کورٹ سے رجوع کرلیا۔آزاد جموں سپریم کورٹ نے ہائی کورٹ کی جانب سے اسپیکر اور سیکرٹری اسمبلی کو وزیراعظم کا انتخاب کرانے سے روکنے سے متعلق دائر اپیل سماعت کیلئے منظور کرلی. سپریم کورٹ کے فل کورٹ پینچ نے مظفرآباد ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف دائر رٹ پر سماعت کی۔ عدالت عظمیٰ نے وزیراعظم آزاد جموں وکشمیر کے انتخاب کے لیے اسمبلی اجلاس طلب کرنے کا حکم دیا اور نیا اجلاس طلب کرکے وزیراعظم کا انتخاب عمل میں لانے کا حکم جاری کردیا۔دوسری جانب حکمران جماعت تحریک انصاف کی جانب سے عدالتی جنگ سے بچنے کیلئے متبادل آپشنز پر غور کیا جارہا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ صدر آزاد کشمیر سے آئین کے آرٹیکل 16 ذیلی آرٹیکل 3 کے تحت وزیراعظم کے انتخاب کیلئے اسمبلی کا اجلاس طلب کرنے کی تجویز زیر غور ہے، اور اسپیکر کی طرف سے اجلاس غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کر نے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔