Blog

  • پہلی سے آٹھویں تک کلاسز 28 اپریل تک بند رکھنے کا فیصلہ

    اسلام آباد(اےا یف بی) وفاقی حکومت نے ملک کے کورونا سے متاثرہ اضلاع میں پہلی سے آٹھویں تک کلاسز 28 اپریل اور 9 ویں سے 12 ویں تک کلاسز 18 اپریل تک بند کرنے کا فیصلہ کرلیا۔کورونا وباء کی تیسری لہر کے باعث تعلیمی اداروں میں تدریسی عمل سے متعلق نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کا اجلاس ہوا، جس میں وفاقی و صوبائی وزرائے تعلیم و صحت شریک ہوئے۔اجلاس میں تعلیمی اداروں کے حوالے سے اہم فیصلے کیے گئے اور ساتھ ہی امتحانات کی صورتحال کا بھی جائزہ لیا گیا۔وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے میڈیا بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ کوروناسےمتاثرہ اضلاع میں پہلی سے8 ویں جماعت تک کلاسیں 28 اپریل تک بند رہیں گی، 28 اپریل کو دوبارہ اجلاس ہوگا جس میں اسکول کھولنے یا عید تک بند رکھنے سے متعلق جائزہ لیں گے۔

    وزیر تعلیم نے کہا کہ نویں سے بارہویں تک کلاسز 19 اپریل سے کھل جائیں گی اور طلبا سخت ایس او پیز کے ساتھ اسکول آئیں گے اور امتحانات کی تیاری کریں گے، متاثرہ اضلاع میں یونیورسٹیز بھی بند رہیں گی اور آن لائن کلاسیں جاری رہیں گی، لیکن جو اضلاع متاثر نہیں ہیں وہاں جامعات کھلی رہیں گی۔شفقت محمود نے کہا کہ نویں سے بارہویں جماعت کے 40 لاکھ طلبہ ہیں، جن کے امتحانات مئی کے تیسرے ہفتے میں لینے کا فیصلہ کیا گیا ہے، مختلف صوبوں نے اپنے اپنے ٹائم ٹیبل بنائے ہیں، کچھ امتحانات جون اور کچھ جولائی میں بھی ہوں گے، اس لیے یونیورسٹیز سے داخلہ ٹیسٹ کی تاریخیں بڑھانے کا کہا ہے، اے اور او لیول کے 85 ہزار طلبہ ہیں جن کے امتحانات مکمل ایس او پیز کے ساتھ اپنے وقت پر مئی میں ہوں گے جس کی تاریخ میں کوئی تبدیلی نہیں ہوگی۔

  • تعلیمی اداروں کی بندش ؛احتجاجی دھرناسینکڑوں اساتذہ اسلام آباد میں پہنچ گئے

    راولپنڈی(اے ایف بی)کورونا وبا کے باعث تعلیمی اداروں کی بندش کے خلاف سپریم کونسل آف آل پاکستان سکولز اینڈ کالجز ایسوسی ایشن کے ڈی چوک میں دھرنے میں شرکت کے لیئے ملک بھر سے نجی تعلیمی اداروں کے مالکان،حقوق کے کام کرنے والی ایسو سی ایشن کے عہدیداران اور سینکڑوں اساتذہ اسلام آباد میں پہنچنا شروع ہوگئے ہیں،جہاں پر کنوینئر ڈاکٹر محمد افضل بابر،جنرل سیکرٹری حافظ محمد بشارت،ابراراحمد خان،چوہدری ناصر محمود، ملک اظہر محمود، چوہدری محمد عبید اللہ، راجہ ارشد، چوہدری عمران، شہباز قمر، چوہدری محمد طیب، زعفران الٰہی، انعام الدین قریشی، صابر رحمٰن بنگش، افتخار علی حیدر، چوہدری محمد ایاز، محمد آصف، مظہر الاسلام، محمد جاوید، محمد عثمان ودیگرخطاب کریں گے،ہمارااحتجاج  پرامن ہے،جس کے لیئے آج ڈی چوک میں دھرنا دیں گے۔ہمارا مطالبہ ہے کہ حکومت گیارہ اپریل سے تعلیمی ادارے کھولنے کا اعلان کرے۔

    اس حوالے سے ابرار احمد خان نے بتایاہے کہ ہزاروں تعلیمی اداروں کے مالکان، مر د و خواتین اساتذہ،طلباء و طالبات، بچوں کے والدین، سول سوسائیٹی کے نمائندے، پبلشرز، سٹیشنری، یونیفارم، سکول بیگ دکان مالکان، پک اینڈ ڈراپ کی سروس دینے والے، کینٹین مالکان، پرنٹنگ کا کام کرنے والے ورکرز، چوکیدار، آیا و دیگرافراد ہمارے ساتھ اس پْر امن دھرنے میں شریک ہونگے، اگر انتظامیہ نے پولیس کے ذریعے رکاوٹ ڈالی تو نتائج کی ذمہ دار اسلام آباد انتظامیہ ہوگی۔ بلڈنگ کے کرائے اور یوٹیلیٹی بلز اور تنخواہوں کی عدم ادائیگی کی بنیاد پر پچیس ہزار تعلیمی ادارے اب تک مستقل طور پر بند ہو چکے ہیں۔ حکومت نجی تعلیمی اداروں کی بحالی کے لیے ابھی تک کوئی پروگرام نہیں بنا سکی الٹا ان سے پانی بجلی،گیس کمرشل ٹیکسیز،پراپرٹی ٹیکس،انکم ٹیکس، اولڈ ایج بینیفٹ کنٹریبیوشن، سوشل سیکورٹی کنٹریبیوشن جرمانوں کے ساتھ وصول کیے جا رہے ہیں۔

  • بچوں کو بلا امتحان دو بار پاس نہیں کیا جاسکتا’

    لاہور(اے ایف بی) وزیرتعلیم پنجاب مراد راس نے تعلیمی ادارے بند کرنے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا بچوں کو بلا امتحان دو بار پاس نہیں کیا جاسکتا۔میں اسکول بندکرنے کے سب سےزیادہ خلاف ہوں۔ بچوں کو بلا امتحان دو بار پاس نہیں کیا جاسکتا ، این سی اوسی میں اسکول بند کرنے کی تجویز کی مخالفت کریں گے۔ کورونا کی تیسری لہرمیں بھی سترفیصد پنجاب کھلا ہوا ہے، بڑے شہربند ہیں تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ پنجاب بند ہے۔

    یاد رہے کورونا کی تشویشناک صورتحال کے پیش نظر ملک میں تعلیمی اداروں کے حوالے سے فیصلہ کل کیا جائے گا، این سی او سی کے تحت وزیر تعلیم و صحت کا اجلاس کل ہوگا، اجلاس کی صدار وزیرتعلیم شفقت محمود کریں گے۔اجلاس میں تعلیمی اداروں کوکھلا رکھنے یہ نہ رکھنے کا فیصلہ متوقع ہے ، شفقت محمود کا کہنا تھا کہ تعلیمی سرگرمیوں کی بندش کا فیصلہ مشاورت سے کیا جائے گ

  • سکولوں کی بندش، آوٹ آف سکول بچوں کی تعدادبڑھنے کاخدشہ

    راولپنڈی (اے ایف بی ) تمام اداروں کو کھلا رکھ کر تعلیمی اداروں کو بند کرنا تعلیم دشمنی ہے، حکومت کے منفی اقدامات کی وجہ سے آؤٹ آف سکول بچوں کی تعداد دن بدن بڑھ رہی ہے، کورونا کی تیسری لہر میں تعلیمی ادارے بند ہونے کی وجہ سے مزید تعلیمی ادارے ختم ہو جائیں گے، حکومت کے بچوں میں کورونا وائرس کی نشاندہی WHO کی رپورٹ کے متصادم ہے، تعلیمی ادارے بند ہونے کے باوجود بچوں میں کورونا وائرس حکومت کی ناقص پالیسی کا نتیجہ ہے، حکومت تعلیمی سرگرمیاں فلفور بحال کرے، 8 اپریل کا لانگ مارچ تعلیم کی بحالی کے لئے ہے، حکومت نے ٹھوس اقدامات نہ کئے تو مطالبات کی منظوری تک دھرنا دیا جائے گا،

    ان خیالات کا اظہار آل پاکستان پرائیویٹ سکولز اینڈ کالجز ایسوسی ایشن پنجاب کے صدر راجہ محمد الیاس کیانی, سیکرٹری جنرل محمد اشرف ہراج، ڈویژنل صدر عرفان مظفر کیانی ،سردار گل زبیر ، جاوید اقبال راجہ ،محمد ابراہیم نے لانگ مارچ کے حوالے سے مشاورتی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا، قائدین نے کہا کہ لانگ مارچ کے انتظامات مکمل ہیں، راولپنڈی اسلام آباد کے رہنما اور کارکن میزبانی کے فرائض انجام دیں گے، راولپنڈی اسلام کے مختلف مقامات پر استقبالیہ کیمپ لگائے جائیں گے، جی روڈ اور موٹر وے سے آنے والے قافلوں کا الگ الگ استقبال کیا جائے گا، لانگ مارچ کے روٹ کو حتمی شکل دی جا رہی ہے جس کا باقاعدہ اعلان جلد کر دیا جائے گا،

    لاہور سے کاشف مرزا، اور تاجر رہنما نعیم میر کی قیادت میں لانگ مارچ کا قافلہ بذریعہ جی ٹی روڈ اسلام آباد کی طرف روانہ ہو گا، تاجر تنظیمیں ، سول سوسائٹی، ٹرانسپورٹر، طلباء تنظیمیں بھرپور شرکت کریں گی ہوں،لانگ مارچ پرامن ہو گا حکومت نے لانگ مارچ میں رخنہ ڈالنے کی کوشش کی تو حالات کی خرابی کی خود ذمہ دار ہوں گی، انہوں نے کہا کہ ہمارے کوئی سیاسی عزائم نہیں، پرائیویٹ سیکٹر کے حقوق کے حصول کی جنگ ہے جو مطالبات منظور ہونے تک جاری رہے گی،

  • سوشل میڈیا اسٹار نے 12 گھنٹے میں 47 ارب کا سامان آن لائن فروخت کروادیا

    بیجنگ (اے ایف بی )چین کے ایک مشہور سوشل میڈیا اسٹار نے صرف 12 گھنٹے کی لائیو اسٹریمنگ میں تقریباً 30 کروڑ 60 لاکھ ڈالر (47 ارب پاکستانی روپے) مالیت کا سامان فروخت کرکے ایک نیا عالمی ریکارڈ قائم کردیا ہے۔خبروں کے مطابق، چین میں ویڈیو اسٹریمنگ کے مشہور پلیٹ فارم ’’کوائی شو‘‘ پر 4 کروڑ سے زائد فالوورز رکھنے والے سوشل میڈیا انفلوئنسر، شِن یؤژی المعروف ’’سمبا‘‘ نے گزشتہ ہفتے بارہ گھنٹے تک مسلسل لائیو اسٹریمنگ میں مختلف مصنوعات اپنے چاہنے والوں کے سامنے ’’برائے فروخت‘‘ پیش کیں جو ہاتھوں ہاتھ فروخت ہوئیں۔لائیو اسٹریمنگ ختم ہونے کے بعد جب حساب لگایا کیا گیا تو معلوم ہوا کہ ’’سمبا‘‘ نے ان بارہ گھنٹوں میں مجموعی طور پر دو ارب چینی یو آن (306 ملین ڈالر/ 47 ارب پاکستانی روپے) مالیت کی چیزیں فروخت کردی ہیں۔بتایا جارہا ہے کہ ’’سمبا‘‘ نے 12 گھنٹے میں جتنی مالیت کی چیزیں بیچی ہیں، وہ ہانگ کانگ کے ایک بڑے شاپنگ مال سے 12 ماہ میں ہونے والی فروخت کی مالیت سے بھی زیادہ ہے۔

    شِن یؤژی، المعروف ’’سمبا‘‘ کا تعلق چین کے ایک دور افتادہ قصبے سے ہے جہاں کھیتی باڑی کی جاتی ہے۔اسٹریمنگ کے دوران چیزیں فروخت کرنے کےلیے وہ مارکیٹنگ کے نت نئے طریقے آزمانے کے ساتھ ساتھ اپنے مداحوں کو جتاتے ہیں کہ وہ ایک معمولی کسان کے بیٹے ہیں جنہیں اپنے ’’کسان بھائیوں‘‘ کی جانب سے سراہے جانے کی توقع ہے۔وہ اس لیے بھی ایسا کرتے ہیں کیونکہ ان کے فالوورز میں بھاری اکثریت کسان طبقے سے تعلق رکھتی ہے۔دوسرے سوشل میڈیا انفلوئنسرز کے برعکس، وہ لائیو اسٹریمنگ پر معمولی سے معمولی چیز بھی فروخت کرنے کےلیے تیار رہتے ہیں۔ان کی اصل آمدنی بھی وہی کمیشن ہے ان چیزوں کے فروخت کروانے پر کمپنیاں انہیں ادا کرتی ہیں۔

    سوشل میڈیا اسٹار ہونے کی وجہ سے انہیں آئے دن تعریف و تنقید کا سامنا کرتے رہنا پڑتا ہے۔دسمبر 2020 میں لائیو اسٹریمنگ کے دوران جعلی انڈے فروخت کرنے پر کوائی شو کی جانب سے ان پر 60 دن کی پابندی لگائی گئی تھی، جو کچھ دن پہلے ہی ختم ہوئی ہے۔اس کے باوجود سمبا کی مقبولیت میں اضافہ ہورہا ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی بتائی جاتی ہے کہ وہ ویڈیو اسٹریمنگ سے صرف کماتے نہیں، بلکہ دوسروں کی مدد بھی کرتے رہتے ہیں۔فروری 2020 میں انہوں نے کورونا وائرس سے متاثرہ ووہان کے شہریوں کےلیے 14 کروڑ یوآن سے زیادہ کی رقم عطیہ کی تھی۔

  • تعلیمی ادارے کھلے رہیں گے یا نہیں؟ این سی اوسی کا اجلاس 6 اپریل کو طلب

    اسلام آباد(اےا یف بی) ملک میں کورونا وبا کی تیسری لہر کے باعث تعلیمی اداروں میں تدریسی عمل جاری رکھنے سے متعلق این سی اوسی کا اجلاس 6 اپریل کو طلب کرلیا گیا ہے۔وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے اپنی ٹوئٹ میں کہا ہے کہ تعلیمی اداروں سے متعلق این سی او سی کا اہم اجلاس 6 اپریل کو طلب کیا گیا ہے۔ اجلاس میں وزرائے تعلیم ، صحت اور این سی او سی حکام شریک ہوں گے، اجلاس میں امتحانات سے متعلق امور پر بھی مشاورت ہو گی۔ تعلیمی اداروں سے متعلق فیصلہ وزرائے تعلیم ، وزرائے صحت اور این سی او سی کا متفقہ ہو گا۔

    پنجاب اور خیبر پختونخوا کے مخصوص مخصوص اضلاع میں 11 اپریل تک تعلیمی ادارے بند ہیں جب کہ سندھ حکومت نے ملک بھر میں 15 روز کے لیے آتھویں جماعت تک کے بچوں کے لیے تعلیمی ادارے بند کرنے کی تجویز دے رکھی ہے۔واضح رہے کہ گزشتہ روز این سی او سی کی جانب سے رمضان المبارک کے حوالے سے گائیڈ لائنز جاری کر دی ہیں ، نئی گائیڈ لائنز مساجد، امام بارگاہوں میں نماز، تراویح کے حوالے سے جاری کی گئی ہیں ، جن کے تحت صحن والی مساجد اور امام بارگاہوں میں نماز ہال میں ادا نہیں ہو گی، صلوٰۃ تراویح کا اہتمام مساجد اور امام بارگاہ کے احاطے میں کیا جائے۔شہری سڑکوں، فٹ پاتھ پر نماز پڑھنے سے گریز کریں، مساجد، امام بارگاہوں میں وضو کرنے پر پابندی ہوگی، نمازی حضرات گھر سے وضو کر کے مسجد، امام بارگاہ آئیں۔

  • سی پی اوراولپنڈی کا سودکاکاروبارکرنے اورسودخوروں کے خلاف اعلان جنگ


    راولپنڈی (اے ایف بی ) سی پی اوراولپنڈی محمد احسن یونس نے راولپنڈی شہر وچھائونی سمیت ضلع بھر میں سود کا کاروبار کرنے اور سود خوروں کے خلاف اعلان جنگ کردیاجس کے لئے سی پی او نے راولپنڈی کے تمام ایس ایچ او کوسودخوروںکے خلاف سخت کاروائی کے احکامات جاری کرنے کے ساتھ شہریوں اوربالخصوص تاجر برداری سے سود کے خلاف اس جنگ میں کردار ادا کرنے کی اپیل کر دی  سی پی اونے ایس ایچ اوز کو ہدایت کی کہ سود کے خلاف شکایت موصو ل ہونے پر فوری اور موثر کاروائی کو یقینی بنایا جائے سی پی اونے کہاکہ راولپنڈی پولیس چند روز قبل سود کی رقم وصول کرنے کی غرض سے شہری کو اغوا کرنے والے ملزم پیرزادہ کو گرفتارکر چکی ہے

     ،ملزم کے والد نے اسد اللہ کو 2003میں 6لاکھ روپے کی رقم سود پر دی تھی اور18سال سود کی رقم اکھٹی کرکے 3کروڑ بنالی تھی اوررقم کی وصولی کے لئے اسد اللہ کو اغوا کیاتھاسی پی اونے کہاکہ سود خود شہریوں کی مجبوری کا فائد ہ اُٹھاتے ہوئے سود پر رقم فراہم کرتے ہیں اورمظلوم شہری سا لہا سال سود در سود کی چکی میں پستا رہتا ہے سود کاکاروبار بہت سے معاشرتی واخلاقی جرائم کی جڑ ہے،سو دکے ذریعے شہریوں کا استحصال کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی راولپنڈی پولیس سو دکیخلاف قانونی کاروائی کے لئے پرعزم ہے شہری بالخصوص تاجر برداری سود کے خلاف اس جنگ میں اپنا کردار ادا کریں،شہری سو دکا کاروبار کرنے والوں کے خلاف شکایت متعلقہ تھانے ،ہیلپ لائن پکاراوررکھلی کچہری میں کی جاسکتی ہے

  • نجی تعلیمی اداروں کا 8 اپریل لانگ مارچ کے حوالے سے انتظامات مکمل،

    راولپنڈی (اے ایف بی ) 8 اپریل لانگ مارچ کے حوالے سے انتظامات مکمل، مرکزی کمیٹیاں تشکیل ،ایگزیکٹیو باڈی کے ممبران کی کثیر تعداد میں شرکت، انتظامی کمیٹی، رابطہ کمیٹی، مذاکراتی کمیٹی اور استقبالی کمیٹی کی تشکیل مکمل، ملک ابرار حسین مذاکراتی کمیٹی کے سربراہ، راجہ الیاس کیانی ڈپٹی سربراہ، ممبران میں اشرف ہراج، عرفان مظفرکیانی ،رانا سہیل ،سردار گل زبیر ،ملک حفیظ الرحمان و دیگر شامل ،انتظامی کمیٹی کا سربراہ رانا سہیل، فنانس کمیٹی کے سربراہ ملک حفیظ الرحمان جبکہ استقبالیہ کمیٹی کے سربراہ عرفان مظفر کیانی ہوں گے،

    ملک بھر کے قافلے 8 اپریل کو اسلام آباد پہنچیں گے، سکولز مالکان پرنسپلز اساتذہ طلباء تاجر تنظیمیں، سول سوسائٹی، وکلاء، ٹرانسپورٹرز نے شرکت کی مکمل یقین دہانی کرا میڈیا سے گفتگو کرتےمرکزی صدر ملک ابرارحسین ،اشرف ہراج ،صوبائی صدر پنجاب راجہ محمد الیاس کیانی ، رانا سہیل ،عرفان کیانی نے کہا کہ ہم نے لانگ مارچ کو زون لیول پر کمیٹیاں تشکیل دی گئی ہیں، لانگ مارچ کو ملک بھر سے کثیر تعداد میں شرکاء شامل ہوں گے،،

  • نجی تعلیمی اداروں کا 6 اپریل کو ڈی چوک اسلام آباد میں احتجاجی مارچ کا اعلان


    راولپنڈی (اے ایف بی ) راولپنڈی و اسلام آباد کی تمام تنظیموں پر مشتمل سپریم کونسل نے 6 اپریل کو ڈی چوک اسلام آباد میں احتجاجی مارچ کا اعلان کر دیا اور مختلف امور کی انجام دہی کے لیے کمیٹیاں تشکیل دے کر ورکنگ کرنے کی ہدایات جاری کردیں۔ہمیں حکومت کے کسی وعدے کا اعتبار نہیں رہا۔ اب سپریم کونسل نے متفقہ طور پر 6 اپریل کو ڈی چوک اسلام آباد میں احتجاجی مظاہرے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ اس مظاہرے میں ملک بھر کی سکولز تنظیموں کے علاوہ پیرینٹس، سول سوسائیٹی، پبلشرز، طلباء و طالبات، سٹیشنری مالکان، کینٹین کے مالکان،بک بائنڈرز ڈرائیور پک اینڈ ڈراپ، یونیفارم اور سکول بیگز بنانے والے بھی شریک ہونگے۔

    ۔ میڈیا کوارڈینٹر ابرار احمد خان کے مطابق سپریم کونسل کا ایک اجلاس سپریم کونسل کے کنوینئرڈاکٹر محمد افضل بابر کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں حافظ محمد بشارت،  چوہدری محمد طیب، چوہدری ناصر محمود، زعفران الہی، افتخار احمد، چوہدری ایاز، چوہدری عبیداللہ، زاہد بشیر ڈار،راجہ ارشد،  محمد آصف، ملک نسیم احمد، صابر رحمن بنگش، چوہدری عمران،انعام قریشی راجہ ارشد، عبدالوحید اور مظہر الاسلام شرکت کی۔ شرکاء اجلاس نے نجی تعلیمی اداروں کی بندش سے نجی شعبہ کو ہونے والے غیر معمو لی نقصان اور اس کے ساتھ روا رکھے جانے والا حکومتی رویہ پر انتہائی دکھ کا اظہار کیا۔   شرکاء نے اس بات پر اتفاق کیا کہ نجی تعلیمی ادارے تو ایک ماہ سے بند ہیں اب جو کورونا پھیل رہا ہے اس کا ذمہ دار کون ہے۔ اس کا واضع مطلب ہے کہ کورونا کے پھیلاؤ کا سبب نجی تعلیمی ادارے نہیں ہیں۔

     زعفران الہی کے کہا کہ حکومت کو چاہئے تھا کہ 15 مارچ کو پورے ملک میں دو ہفتوں کے لیے لاک ڈاؤن لگا دیتی اور اس وقت تک صورتحال کافی بہتر ہوتی۔ سپریم کونسل میں اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا کہ گزشتہ سال رمضان المبارک میں سکولوں کی بمدش کے باعث لاکھوں اساتذہ تنخواہوں سے محروم ہوگئے تھی اور ہم اس رمضان المبارک میں انھیں حالات کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ حکومتی وزراء  بیانات کی حد تک رہے اور صرف طفل تسلیاں دیتے رہے لیکن عملی طور پر کچھ نہ کیا۔ سپریم کونسل کے سامنے یہ بات بھی لائی گئی کہ تین ماہ قبل سپریم کونسل کے ممبران کی وفاقی وزیر شفقت محمود سے میٹنگ ہوئی جس میں انھوں نے واضع طور پر کہا تھا کہ نجی تعلیمی اداروں کے لیے ہم نے بلاسود آسان شرائط پر قرضوں کی فراہمی کا جامع پروگرام تیار کرلیا ہے۔ بس کابینہ سے منظوری لینی باقی ہے۔ اس کے بعد کابینہ نے بہت سے بل منظور کیئے مگر سکولوں کے لیے کسی پیکج پر کام نہ ہوسکا۔ 

  • نجی سکولوں کی آن لائن رجسٹریشن کا معاملہ, تاریخ میں توسیع

    لاہور(اےا یف بی)پنجاب بھر کے نجی سکولوں کی آن لائن رجسٹریشن کا معاملہ، پرائیوٹ سکولز ریگولیٹری اتھارٹی نے نجی سکولوں کی رجسٹریشن کیلئے تاریخ میں دو ہفتہ کی توسیع دے دی۔  پنجاب بھر کے نجی سکولوں کی آن لائن رجسٹریشن کی تاریخ میں توسیع کر دی گئی ۔تفصیلات کے مطابق پرائیویٹ سکولز ریگولیٹری اتھارٹی نے نجی سکولوں کی رجسٹریشن کیلئے تاریخ میں دو ہفتہ کی توسیع کی۔ اب نجی سکول مالکان 15 اپریل تک اپنی رجسٹریشن مفت کرواسکیں گے۔اس سے قبل مفت رجسٹریشن کیلئے 31 مارچ آخری تاریخ مقرر کی گئی تھی۔

     واضح رہے کہ صوبہ بھر میں ٹوٹل رجسٹرڈ سکولوں کی تعداد 9 ہزار سے زائد ہے۔ابھی تک رجسٹرڈ سکولوں میں 1000 ہائرسکینڈری اور 2800 ہائی سکول شامل ہیں۔دیگر سکولوں میں 3200 مڈل اور 1800 پرائمری شامل ہیں۔پرائیوٹ سکول رجسٹریشن اتھارٹی کے مطابق تاریخ میں توسیع کا فیصلہ کورونا کی صورتحال کے پیش نظر کیا گیا ہے۔ رجسٹریشن اتھارٹی کا کہنا ہے کہ 15 اپریل کے بعد غیر رجسٹرڈ سکولوں کیخلاف کاروائی کیجائے گی۔ رجسٹریشن نہ کروانے کی صورت میں متعلقہ سکول کو سیل کردیا جائے گا۔