Blog

  • اسلام آباد کے تعلیمی ادارے کھولنے کا نوٹیفیکیشن جاری

    اسلام آباد (اے ایف بی ) وفاقی حکومت نے اسلام آباد کے تعلیمی ادارے کھولنے کا فیصلہ کرلیا۔وفاقی وزارت تعلیم نے تعلیمی ادارے کھولنے سے متعلق نوٹیفیکیشن جاری کر دیا جس کے مطابق گرمیوں کی چھٹیوں کے بعد تعلیمی ادارے 2 اگست سے کھول دئیے جائیں گے، تعلیمی اداروں کے اسٹاف کیلئے کورونا ویکسینشن لازمی قرار دی گئی ہے۔

    وزارت تعلیم نے ہدایت کی کہ تعلیمی اداروں میں کورونا ایس او پیز پر سختی سے عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے، ویکسینیشن کے بغیر اسٹاف کو متعلقہ ادارے میں داخل نہیں ہونے دیا جائے گا، ضلعی انتظامیہ اچانک کسی بھی تعلیمی ادارے کا دورہ کر سکتی ہے، پرائیویٹ تعلیمی ادارے اپنے اسٹاف کی ویکسینیشن کو یقینی بنائیں۔

  • الیکشن کمیشن نے وزیراعظم عمران خان کو شوکاز جاری کر دیا

    اسلام آباد (اے ایف بی )الیکشن کمیشن نے انٹراپارٹی الیکشن نہ کرانے پر وزیراعظم عمران خان کو شوکاز نوٹس جاری کر دیا، الیکشن کمیشن نے وزیراعظم عمران خان سے 14 دن کے اندر جواب طلب کر لیا ہے،دوسری طرف پنجاب حکومت کا مارچ 2022ء میں بلدیاتی الیکشن کرانے کا فیصلہ کیا۔ انٹراپارٹی الیکشن نہ کروانے پر الیکشن کمیشن نے وزیراعظم عمران خان کو شوکاز نوٹس جاری کر دیا ہے اور الیکشن کمیشن نے وزیراعظم عمران خان سے 14 دن کے اندر جواب طلب کر لیا ہے

    ،عمران خان کو بطور چئیرمین پی ٹی آئی انٹرا پارٹی الیکشن نہ کرانے پر شوکاز نوٹس جاری کیا گیا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ انٹرا پارٹی الیکشن نہ کرانے پر کیوں نہ پارٹی کا انتخابی نشان واپس لے لیا جائے۔ذرائع الیکشن کمیشن کاکہنا ہے کہ الیکشن ایکٹ کے تحت تمام سیاسی جماعتیں مقررہ وقت پرانٹراپارٹی انتخابات کرانے کی پابند ہیں، اور پی ٹی آئی نے 13جون 2021 کو انٹرا پارٹی الیکشن کی تفصیلات الیکشن کمیشن کو فراہم کرنا تھی، جو تاحال جمع نہیں کرائی گئیں۔

  • تعلیمی ادارے کب کھلیں گے؟ فیصلہ ہو گیا

    اسلام آباد (اے ایف بی ) این سی او سی کا اجلاس بغیر کسی نتیجہ کے ختم وزرا کی عدم دستیابی کے سبب اجلاس صرف پندرہ منٹ ہی جاری رہا۔تفصیلات کے مطابق تعلیمی ادارے کھولنے یا بند کرنے سے متعلق این سی او سی کا اجلاس وزراء کی عدم دستیابی کے سبب بغیر کسی نتیجہ ختم ہو گیا۔ قبل ازیں سکول کھولنے سے متعلق این سی او سی کے اجلاس کے لئے 18جولائی کی تاریخ دی گئی تھی اجلاس میں وزرائے تعلیم بذریعہ ویڈیولنک شرکت کرنا تھی سکول 15اگست سےکھلیں گےیایکم ستمبر سے تا ہم اس حوالے سے این سی او سی کا اجلاس بغیر کسی نتیجہ کے ختم ہو گیا

    ۔ ذرائع کے مطابق اب تمام صوبے کورونا کی صورتحال کا خود ہی جائزہ لیں گے اور امتحانات لینے یا چھٹیاں بڑھانے سے متعلق از خود فیصلہ کریں گے۔ یعنی این سی او سی کا اجلاس نتیجہ خیز نہ ہونے پر صوبائی حکومتیں سابقہ فیصلوں پر قائم ہیں۔ذرائع کے مطابق،پنجاب بھر کے تعلیمی ادارے 2 اگست سے ہی کھلیں گے،کورونا کیسز بڑھنے پر بچوں کو ہفتے میں ایک یا دو روز کے لئے سکول بلایا جا سکتا ہے جبکہ بورڈ امتحانات بھی شیڈول کیمطابق لیے جائیں گے۔

  • سکولوں میں ناظرہ قرآن کی تعلیم لازمی قرار

    لاہور(اے ایف بی )سکولوں میں ناظرہ قرآن کی تعلیم لازمی کر دی گئی، نوٹیفکیشن کا اطلاق نئے تعلیمی سیشن2021سے ہو گا۔تفصیلات کے مطابق پہلی سے پانچویں جماعت تک بچوں کو قرآن مجید کی تلاوت کروائی جائے گی، چھٹی سے آٹھویں جماعت کے بچوں کو ترجمہ کے ساتھ آیات پڑھائی جائیں گی، اساتذہ ہفتہ میں3 روز پرائمری سکول کے بچوں کو ناظرہ قرآن پڑھائیں گے۔

    نہم سے بارہویں جماعت کے بچوں کی ہفتے میں4 کلاسز ہوں گی۔ ناظرہ قرآن کے ضروری مضامین کے علاوہ 50نمبر ہوں گے، نہم سےبارہویں جماعت کے بچوں کوبھی ناظرہ قرآن ترجمہ کے ساتھ پڑھایا جائےگا۔واضح رہے کہ نوٹیفکیشن کا اطلاق سرکاری ونجی سکولز دونوں پر عائد ہو گا۔

  • جعلی ہاؤسنگ سوسائٹیز کے نام پر لوٹ مار، نیب راولپنڈی نے بڑی کامیابی حاصل کرلی

    راولپنڈی (اے ایف بی) قومی احتساب بیورو (نیب ) نے جعلی ہاؤسنگ سوسائٹیز کیس میں 1 ارب 8 کروڑ 29لاکھ روپے سے زائد کی پلی بارگین منظور کرلی، گلشن رحمان زون فور کے نام پر دھوکہ دہی سے رقم لی گئی تھی۔تفصیلات کے مطابق جعلی ہاؤسنگ سوسائٹیز کے نام پر لوٹ مار کے معاملے پر نیب راولپنڈی کو بڑی کامیابی مل گئی ، میسرزایکوریٹ بلڈرز اینڈ کنسٹرکٹرز پرائیویٹ لمیٹڈ کی پلی بارگین منظور کرلی گئی۔نیب نے 1ارب 8 کروڑ 29لاکھ روپے سے زائد کی پلی بارگین منظور کی، ملزمان میں جنید اصغر ،بازید اصغر،محمد نعیم خان ،محمد فاروق انصاری شامل ہیں، گلشن رحمان زون فور کے نام پر دھوکہ دہی سے رقم لی گئی تھی۔

    نیب راولپنڈی کے تفتیشی افسر نے درخواست احتساب عدالت میں جمع کرادی ، جس میں کہا ہے کہ ملزمان کے خلاف 2011میں بدعنوانی کا ریفرنس دائر کیا گیا، ملزمان کے ذمےواجب الادا رقم 1ارب روپے سے زائد تھی۔نیب راولپنڈی میں 4ہزارسے زائد کلیم کی ویری فکیشن کا مرحلہ جاری ہے، اس حوالے سے اعلامیہ میں کہا گیا کہ نیب راولپنڈی کی سوسائٹیز کے نام پر دھوکہ دہی مقدمے میں تاریخی ریکوری کی اور فراڈ مقدمات میں یہ سب سے بڑی ریکوری ہے۔نیب راولپنڈی کا کہنا تھا کہ برآمد رقم متاثرین کو اسکروٹنی کے بعد واپس کی جا رہی ہے، ہاؤسنگ سوسائٹی انتظامیہ نے پلی بارگین کیلئےدرخواست دائر کی ،ملزم نے پرنٹ،الیکٹرانک میڈیا پر غیر قانونی سوسائٹی کی تشہیر کی جبکہ ملزمان نےہاؤسنگ سوسائٹی کےاین اوسی کیلئےاپلائی نہیں کیاتھا

    ۔ڈی جی نیب راولپنڈی عرفان منگی نے کہا کہ نیب راولپنڈی لوٹی رقم قومی خزانےمیں جمع کرانے کیلئےپرعزم ہے، عوام بغیراین اوسی ہاؤسنگ سوسائٹی میں سرمایہ کاری سے باز رہیں۔عرفان منگی کا کہنا تھا کہ جعلی سوسائٹیز کے نام پر لوگوں کومحنت کی کمائی سےمحروم کیاجاتاہے، شہری سوسائٹیز میں سرمایہ کاری سے قبل محتاط رہیں ، نیب کرپشن کے خلاف زیرو ٹالرینس کی پالیسی پر عمل پیرا ہے ، افسران میگا کیسز کو جلد منطقی انجام تک پہنچائیں۔

  • آزاد کشمیر انتخابات؛ سیاسی جماعتوں کی مخصوص نشستوں کے لیے صف بندی

    مظفر آباد(اے ایف بی) آزاد کشمیر اسمبلی کی 45 عمومی نشستوں پر انتخابات کے بعد اب سیاسی جماعتوں نے مخصوص نشستوں کے لیے صف بندی کرنا شروع کردی ہے۔آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی 53 ارکان پر مشتمل ہوتی ہے، جن میں سے 45 عمومی نشستیں ہیں جن پر براہ راست پولنگ ہوتی ہے۔ ایوان میں خواتین کے لیے 5 جب کہ علماء و مشائخ، ٹیکنو کریٹ اور اوورسیز کشمیریوں کی ایک ایک نشست ہے۔

    عام انتخابات میں پاکستان تحریک انصاف نے 25 نشستیں حاصل کرکے میدان مارلیا ہے جبکہ پیپلز پارٹی نے 11 اور مسلم لیگ (ن) نے 6 نشستیں حاصل کی ہیں۔ اس کے علاوہ جموں کشمیر پیپلز پارٹی اور مسلم کانفرنس نے بھی ایک ایک نشست پر کامیابی حاصل کی ہے۔ پیپلز پارٹی کے چوہدری یاسین بیک وقت 2 نشستوں پر کامیاب ہوں گے، حلف برداری سے پہلے انہیں ایک نشست چھوڑنی ہوگی ، اس طرح ایوان میں پیپلز پارٹی کی نمائندگی 11 کے بجائے 10 ارکان پر مشتمل ہوگی۔

    خواتین کی 5 نشستوں پر انتخاب کے لئے 9،9 ارکان اسمبلی کے پینل بنیں گے، عددی اعتبار سے پی ٹی آئی خواتین کی 3 جب کہ پیپلز پارٹی کم از کم ایک نشست پر کامیاب ہوجائے گی، خواتین کی ایک نشست پر اگر پیپلز پارٹی، (ن) لیگ، مسلم کانفرنس اور جے کے پی پی اتفاق کر لیں تو ایک سیٹ جیت سکتی ہیں۔اسمبلی میں علماء و مشائخ،ٹیکنو کریٹ اور اوورسیز کشمیریوں کی ایک ایک نشست ہے، جن پر پورا ایوان ووٹ دے گا، اس بات کا قوی امکان ہے کہ عددی اکثریت کی بنیاد پر تحریک انصاف تینوں نشستیں بھی جیت لے گی۔

  • آّزاد کشمیرانتخابات؛ مختلف مقامات پر سیاسی کارکنوں میں تصادم، 2 افراد جاں بحق

    مظفر آباد( اے ایف بی)آزاد کشمیر کے انتخابات کے دوران مختلف مقامات پر سیاسی کارکنوں کے درمیان تصادم ہوا ہے جس کے نتیجے میں 2 افراد جاں بحق ہوگئے ہیں۔ آزاد کشمیر کی قانون ساز اسمبلی کی 45 نشستوں پر پولنگ کا عمل جاری ہے، پولنگ کے درمیان مختلف مقامات پر سیاسی جماعتوں کے درمیان تصادم بھی ہوا ہے۔کوٹلی میں حلقہ ایل اے 12 میں پولنگ اسٹیشن میں پیپلز پارٹی اور پی ٹی آئی کے کارکنوں کے زبانی تلخ کلامی نے خونی تصادم کی شکل اختیار کرلی، جھگڑے کے دوران فائرنگ سے 2 افراد جاں بحق ہوگئے۔

    باغ میں حلقہ ایل اے 15 ہاڑی گہل پدر محمد علی پولنگ اسٹیشن پر پی ٹی آئی اور پیپلز پارٹی کے کارکن گتھم گتھا ہوگئے ، دونوں جانب سے لاٹھیوں کا بھی آزادانہ استعمال کیا گیا،جس کے نتیجے میں 10 افراد زخمی ہوگئے۔ پرتشدد کارکنوں کو منتشر کرنے کے لیے وہاں تعینات ایف سی اہلکاروں نے ہوائی فائرنگ بھی کی۔مظفرآباد میں حلقہ ایل اے 3 کے پولنگ اسٹیشن 25 اور 26 میں سیاسی جماعتوں کے کارکنوں کے درمیان وقفے وقفے سے ہونے والی ہاتھا پائی کے باعث پولنگ کا عمل متاثر ہوا۔ پولنگ اسٹیشن میں تناؤ کو دیکھتے ہوئے پولیس کی مزید نفری تعینات کردی گئی۔

    ہٹیاں بالا میں جسکول پولنگ اسٹیشن پر بھی (ن) لیگ اور پیپلز پارٹی کے کارکن آمنے سامنے آگئے اور ایک سیاسی جماعت کی جانب سے پولنگ بند کرانے کی کوشش کی گئی، حلقہ ایل اے 27 کے کوپرا گلی پولنگ اسٹیشن میں دو گروپوں کے مابین جھگڑا ہوگیا جس پر پولنگ کا عمل کچھ دیر کے لیے روک دیا گیا۔پشاور میں آزاد کشمیر کی قانون ساز اسمبلی کے حلقہ ایل اے 45 کے لیے قائم پولنگ اسٹیشن پر بدنظمی کی وجہ سے پولنگ روک دی گئی، پولیس نے پی ٹی آئی کے 2 اور آزاد امیدوار کے 6 کارکنان کو گرفتار کرلیا، حالات کنٹرول کرنے کے بعد پولنگ کا عمل دوبارہ شروع کردیا گیا۔کراچی کے علاقے نارتھ ناظم آباد بلاک ایم میں قائم پولنگ اسٹیشن کا ماحول بھی کشیدہ ہے، پیپلز پارٹی اور پی ٹی آئی کارکنان وقفے وقفے سے ایک دوسرے کے خلاف نعرے بازی کررہے ہیں۔

  • آزاد کشمیرانتخابات کے لئے متعین پولنگ عملہ روانہ

    مظفر آباد( اے ایف بی)آزادکشمیر یں پولنگ اتوار کو ہوگی، پولنگ سامان کی ترسیل کا آغاز کر دیا گیا، قانون ساز اسمبلی کی 45 نشستوں کیلئے 32 لاکھ سے زائد ووٹرز حق رائے دہی استعمال کریں گے، تحریک انصاف، نون لیگ اور پیپلزپارٹی میں تگڑا مقابلہ متوقع ہے،تخت مظفرآ باد پر حکمرانی کے لئے سیاسی جماعتوں کو دیا گیا انتخابی مہم کا وقت تمام ہوگیا،الیکشن کمیشن کی جانب سےآزادکشمیر کے 33 اور مہاجرین مقیم پاکستان کے 12 انتخابی حلقوں میں امیدواروں نے ووٹرز کو منانے کے لئے انتخابی مہم چلائی،

    آزاد کشمیر انتخابات کے لئے اتوار کے روز 32 لاکھ 20 ہزار 546 ووٹرز 742 امیدواران میں سے خفیہ رائے دہی سے اپنے نمائندگان کا انتخاب کریں گے ۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے انتخابی عمل کے لئے 45 حلقوں میں مردوں کے 1398 خواتین کے 1353 اور مشترک 1992 سمیت کل 6139 پولنگ اسٹیشن قائم کئے جائیں گے ۔ آزاد کشمیر کے مجموعی طورپر 45 حلقوں بشمول مہاجرین مقیم پاکستان کےلئے 33 ہزار 616 ملازمین پر مشتمل پولنگ عملہ تعینات کیا گیا ہے، آزاد کشمیر کے 33 حلقوں میں 27 ہزار 131 ملازمین خدمات سرانجام دیں گے، ان 33 حلقوں میں 5123 پریذائیڈنگ افسر، 7 ہزار 336 پولنگ افسر اور 14 ہزار 672 پولنگ اسسٹنٹ تعینات کئے گئے ہیں۔

  • کشمیر میں ن لیگ کی حکومت اور الیکشن کمیشن ہے، ہم دھاندلی کیسے کرسکتے ہیں، وزیراعظم

    تراڑ کھل(اے ایف بی) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ آزاد کشمیر میں ن لیگ کی حکومت اور پسند کا الیکشن کمیشن ہے، ہم دھاندلی کیسے کرسکتے ہیں۔کشمیریوں نے اپنی آزادی کیلئے بے حد قربانیاں دیں اور بار بار اپنی آزادی کے لیے کھڑے ہوئے ، پورا یقین ہے کہ کشمیریوں کی قربانیاں ضائع نہیں ہوں گی، کہا جارہا ہے کہ میں آزاد کشمیر کو صوبہ بنانا چاہتا ہوں یہ بات کہاں سے آئی اس کا علم نہیں، اقوام متحدہ کی قراردادوں کی روشنی میں انشااللہ ریفرنڈم ہوگا اور کشمیری فیصلہ کریں گے کہ انہوں نے کس کے ساتھ رہنا ہے، کشمیری اپنا فیصلہ خود کریں گے کہ وہ ہندوستان کے ساتھ نہیں بلکہ پاکستان کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں۔
    آزاد کشمیر کے علاقے تراڑ کھل میں جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ اس کے بعد میری حکومت ایک اور ریفرنڈم کروائے گی کہ کشمیری پاکستان کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں یا آزاد، ابھی سے الیکشن میں دھاندلی کا شور مچایا جارہا ہے، ن لیگ نے آج تک کوئی کام ایمانداری سے نہیں کیا، آزاد کشمیر میں آپ کی حکومت ہے، عملہ آپ کا ہے، الیکشن کمیشن آپ کا اور آپ کی پسند کا ہے، تو دھاندلی ہم کیسے کریں گے، پورا یقین ہے الیکشن ہارنے کے بعد ن لیگ دھاندلی کا رونا روئے گی۔

    وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ایک مرتبہ جم خانہ کلب میں ایک موٹا ساآدمی میچ کھیلنے آگیا اس کا نام نوازشریف تھا، اس نے جس طرح کی سیاست کی اسی طرح کی کرکٹ تھی، وہ جب میچ کھیلنے آتا تھا تو اپنے ایمپائر لاتا تھا، جب نوازشریف آؤٹ ہوتا تھا تووہ ایمپائر نو بال کردیتے تھے، ان کے لیے صرف وہ ٹھیک ہوتا ہے جب ان کا اپنا ایمپائر ہو، میں کرکٹ کی دنیا میں نیوٹرل ایمپائر لے کرآیا، ہم ایک سال سے کہہ رہے ہیں الیکشن سسٹم ٹھیک کریں، لیکن اپوزیشن کوئی جواب نہِیں دیتی، ٹیکنالوجی میں فوری رزلٹ آجاتا ہے ،ووٹ چوری نہیں ہوتے۔عمران خان نے مزید کہا کہ پچھلی حکومتوں کا دور دیکھ لیں اور ہمارا دور دیکھ لیں، نواز شریف نے مودی کو شادیوں پر بلایا، نواز شریف نے نیپال میں مودی سے خفیہ میٹنگ کی تھی، وہ اپنی فوج سے ڈرا ہوا تھا، آج کل تو بڑی فوج کی تعریفیں ہورہی ہیں میں دیکھ رہا ہوں، زرداری کو پیسہ بنانے سےوقت ملتا توکشمیر کی بات کرتا، کشمیر کمیٹی پر ایک ڈیزل بیٹھا تھا، میری سب سے پہلے کوشش ہوگی کہ آزاد کشمیر میں غربت کم کروں، کھانے پینے کی چیزوں میں سبسڈی دیں گے۔

  • بھارتی ویرینٹ کا پھیلاؤ، دوبارہ پابندیاں، مارکیٹس اور تعلیمی ادارے بند کرنے کافیصلہ

    کراچی(اے ایف بی) ملک میں بھارتی کورونا قسم ‘ڈیلٹا’ کے پھیلاؤ کے پیش نظر سندھ حکومت نے دوبارہ پابندیوں کا فیصلہ کرلیا، پیر سے تعلیمی ادارے بند ہوں گے جبکہ دیگر کاروباری امور سے متعلق بھی قوائد وضوابط تبدیل کیے گئے ہیں۔تفصیلات کے مطابق وزیراعلیٰ سندھ مرادعلی شاہ کی زیر صدارت کورونا ٹاسک فورس کا اہم اجلاس ہوا جس میں فیصلہ کیا گیا کہ پیر سے تعلیمی ادارے بند کردیے جائیں گے تاہم صوبے بھر میں امتحانات اپنے شیڈول کے تحت ہوں گے، پیر سے شاپنگ مالز اور مارکیٹس شام 6بجے بند کرنے کا فیصلہ ہوا ہے۔

    سندھ حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ جمعہ اور اتوار کو شاپنگ مالز سمیت مارکیٹس بھی بند رہیں گی۔صوبے میں کریانہ، بیکری اور فارمیسی پابندی سے مستثنیٰ ہوں گی۔ حکومت نے پیر سے شادی ہالز اور دیگر تقریبات پر بھی پابندی کا فیصلہ کیا ہے۔ترجمان وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے درگاہیں بھی بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، ریسٹورنٹس پر انڈور اور آؤٹ ڈور بند ہوگا تاہم ٹیک اووے کی اجازت ہوگی، سندھ میں پیر سے تعلیمی ادارے بند ہوں گے۔پابندیوں سے متعلق ترجمان نے کہا کہ سرکاری اور نجی سیکٹر میں 50 فیصد اسٹاف کی اجازت ہوگی، تمام فیصلوں پر پیر سے عمل درآمد کرایا جائے گا۔