Blog

  • شوکت صدیقی خاموشی سے انٹیلیجنس اہلکاروں سے ملتے رہے، جسٹس بندیال

    اسلام آباد(اے ایف بی)سپریم کورٹ کے جج جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا ہے کہ ہمیں ملک کے اداروں کا دفاع کرنا ہے، اداروں کا تحفظ ہم نہیں کریں گے تو کون کرے گا۔جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 5 رکنی لارجر بنچ نے سابق جج شوکت عزیز صدیقی برطرفی کیس کی سماعت کی شوکت عزیز کے وکیل حامد خان نے کہا کہ یہ ریفرنس صدر مملکت نے نہیں بھیجا تھا، سپریم جوڈیشل کونسل نے خود نوٹس لیا، سپریم جوڈیشل کونسل نے شوکاز نوٹسز اور ان کے جوابات کی بنیاد پر جج کو برطرف کیا۔ وکیل حامد خان نے جسٹس قاضی فائز عیسی صدارتی ریفرنس کا حوالہ دیا تو جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ وقت قلیل ہے اتنی تفصیل میں مت جائیں، اس تقریر کا ہونا، اس کا متن، اس کے حقائق سب معلوم ہیں، آپ نے تقریر میں اپنا بغض نکال دیا، آپ نے لوگوں کے بارے میں شکایتیں کرنے کے لیے پبلک فورم چنا، ہمیں ملک کے اداروں کا دفاع کرنا ہے، اداروں کا تحفظ ہم نہیں کریں گے تو کون کرے گا، ادارے پر حملے کی صورت میں شکایت کے لیے اندرونی طریقہ کار موجود تھا، یہ نئی روش شروع ہوئی ہے کہ سب کچھ پبلک کر دیں۔

    جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ آپ صرف دو سوالوں کے جواب دیں، کیا یہ تقریر جج کے کوڈ آف کنڈکٹ کی خلاف ورزی تھی یا نہیں، ہمیں یہ بھی سمجھا دیں کہ کونسل کو مزید انکوائری کی ضرورت تھی یا نہیں۔وکیل حامد خان نے کہا کہ سپریم جوڈیشل کونسل میں اوپن ٹرائل کی درخواست دی جو مسترد کر دی گئی، جج کی مدت ملازمت کے تحفط کے لیے اس کو بہت سے طریقے کار دیے گئے ہیں، انکوائری ہونا چاہئے تھی تا کہ سچ سامنے آ جاتا۔جسٹس اعجازلاحسن نے استفسار کیا کہ کیا یہ بہتر نہیں تھا ادارے پر حملے کی صورت میں پہلے تحفظات سے آگاہ کر دیا جاتا؟۔ اس پر حامد خان بولے کہ چیف جسٹس پاکستان سے ملنے کے لیے شوکت صدیقی نے چار مرتبہ اپائنٹمنٹ لی، قبول نہیں کی گئی۔جسٹس سجاد علی شاہ نے پوچھا کہ یہ مان بھی لیں کہ شوکت عزیز صدیقی نے جو کہا سچ تھا تو کیا انھیں عدلیہ کے اندر معاملہ حل نہیں کرنا چاہئے تھا؟۔ وکیل حامد خان نے جواب دیا کہ شوکت عزیز صدیقی نام نہ لیتے تو بھی جرم نام لے لیا تو بھی جرم۔

    جسٹس سجاد علی شاہ نے کہا کہ شوکت عزیز صدیقی کو ایسے معاملے پر خود توہین عدالت کا نوٹس کرنا چاہئے تھا۔ وکیل حامد خان نے جواب دیا کہ جب معاملہ چیف جسٹس صاحبان کے علم میں آیا تو انھوں نے بھی توہین عدالت کا نوٹس نہیں کیا، شوکت عزیز صدیقی کیخلاف جو کرنا ہے کریں، شوکت صدیقی نے تقریر میں جن کا نام لیا ان سے بھی پوچھا جائے۔جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ شوکت عزیز صدیقی چیف جسٹس کو رپورٹ بھیجتے تو وہ اس پر ایکشن لیتے، شوکت عزیز صدیقی نے ایسا کچھ نہیں کیا، اگر مداخلت کی بات ہے تو عدلیہ کی آزادی کے کئی اور پہلو بھی ہیں، اگر ایک جج غلط کرتا ہے تو پوری عدلیہ کا ٹرائل شروع ہو جاتا ہے، شوکت عزیز صدیقی کا مداخلت کے لیے پبلک فورم کا استعمال غلط تھا، شوکت عزیز صدیقی خاموشی سے انٹیلیجنس اداروں کے اہلکاروں سے ملتے رہے، شوکت عزیز صدیقی اگر بنچ کی تشکیل کے لیے چیف جسٹس کو خط لکھ سکتے تھے تو اس معاملے پر کیوں نا لکھا۔

    وکیل حامد خان نے اپنے موکل کا بیان بتایا کہ مجھے اجازت دینی چاہئے تھی کہ تقریر کا مقصد بتاتا، میری تقریر کا مقصد عدلیہ کو بدنام کرنے کی نہیں نظام کو بہتر کرنے کی تھی، سپریم جوڈیشل کونسل کو خطرہ تھا کہ اگر انکوائری شروع ہوئی تو میرا موکل جرنیلوں کو بلانے کا کہے گا، اسی خطرے سے بچنے کے لیے سپریم جوڈیشل کونسل نے میرے خلاف ایسے باتیں کی۔جسٹس عمر عطا نے کہا کہ ہمیں 30 جون کا خیال ہے، آرڈر کر رہے ہیں کہ جیسے ہی بنچ دستیاب ہو گا مقدمہ سماعت کے لیے مقرر کیا جائے۔

  • اساتذہ کیلئے بری خبر، جبری ریٹائرڈ کرنے کا فیصلہ

    راولپنڈی (اے ایف بی) سرکاری کالجوں کے اساتذہ کے گرد گھیرا تنگ کرنے کی تیاریاں ، ناقص کارکردگی، ناقص تعلیمی نتائج دینے والے کالجوں کے پروفیسرز کو جبری ریٹائرڈ کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا۔تفصیلات کے مطابق دو سالانہ اے سی آرز مسلسل خراب ہونے پر اساتذہ کو سروس سے ریٹائرڈ کر دیا جائے گا۔ کالجوں میں تعینات سرکاری ملازمین کو بھی اے سی آرز خراب ہونے پر ریٹائرڈ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

    دوسری جانب ڈی پی آئی کالجز نے پرنسپلز کو خراب اے سی آرز پر مشتمل اساتذہ کی تفصیلات مانگ لیں ہیں۔ کالجوں کے لیکچرار، اسسٹنٹ پروفیسرز، ایسوسی ایٹ پروفیسر اور پروفیسرز کو جبری ریٹائرڈ کیا جائے گا، کالجوں میں تعینات اساتذہ کے اپنے مضامین میں طلباء کے تعلیمی بورڈز اور یونیورسٹی رزلٹ بھی دیکھیں جائیں گے

  • ملک میں بجلی کا شدید بحران، شارٹ فال 5000 میگا واٹ ہوگیا

    اسلام آباد(اے ایف بی) بجلی کی مجموعی پیداوار19 ہزارمیگاواٹ اورطلب 24 ہزارمیگاواٹ ہے۔ ملک بھر میں بحلی کا بحران سنگین صورتحال اختیار کرگیا ہے، اور مجموعی شارٹ فال 5000 میگا واٹ تک پہنچ چکا ہے، اور متعدد علاقوں میں غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ کی جارہی ہے اور عوام سراپا احتجاج ہیں، تاہم وزارت توانائی دعوے کررہی ہے کہ شارٹ فال 1500 میگا واٹ ہے اور لوڈشیڈنگ بھی کم ہورہی ہے۔

    پاور ڈویژن ذرائع کا کہنا ہے کہ ملک میں اس وقت بجلی کی مجموعی پیداوار 19 ہزارمیگاواٹ اور طلب 24 ہزار میگاواٹ ہے، اور ملک بھرمیں 8 گھنٹے تک بجلی کی لوڈشیڈنگ کی جارہی ہے، بجلی کی تقسیم کارکمپنیوں کا سسٹم اوورلوڈڈ ہے، 80 فیصد ٹرانسفارمر اوورلوڈڈ ہیں، طلب بڑھنے کےباعث فیڈرزٹرپ کررہےہیں۔دوسری جانب ترجمان وزارت توانائی کا کہنا ہے کہ کم پانی کے اخراج کی وجہ سے تربیلااورمنگلا سے اس وقت 3300 میگاواٹ کی کم بجلی پیدا ہو رہی ہے،

    ملک کی کل بجلی کی ڈیمانڈ 24100 میگاواٹ جب کہ سسٹم میں موجود پیداوار 22600 میگاواٹ ہے، تقسیم کار کمپنیوں کو نظام بہتر بنانے کی ہدایات جاری کردی گئی ہیں، بجلی کی پیداوار آنے والے دنوں میں بڑھ جائے گی، بجلی صارفین سے عارضی طور پر لوڈ منیجمنٹ پرمعذرت خواہ ہیں، اور گزارش کرتے ہیں بجلی استعمال میں اعتدال اپنائیں۔

  • گھوٹکی ٹرین حادثہ ، وفاقی وزیر ریلوے بات کرتے ہوئے آبدیدہ ہوگئ

    گھوٹکی (اے ایف بی)س وفاقی وزیرریلوےاعظم سواتی نے ریلوے کے کرپٹ افسران کے خلاف جہاد کااعلان کرتے ہوئے کہا انسانی جانوں سےکھیلنےوالوں کونشان عبرت بنائیں گے۔ وفاقی وزیرریلوے اعظم سواتی نے شیخ زید اسپتال میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا انسانی جانوں سےکھیلنےوالوں کونشان عبرت بنائیں گے، ریلوےحکام کی غفلت سےحادثےپرحادثہ ہوا۔اعظم سواتی کاکہنا تھا کہ ریلوےکےکرپٹ افسران کےخلاف جہادکااعلان کردیاہے ، کرپشن کے خلاف جاری جہادکو انجام تک پہنچاؤں گا، عملے کی بجائے ذمہ دارافسران کے خلاف کارروائی ہوگی۔وفاقی وزیر ریلوے بات کرتے ہوئے آبدیدہ ہوگئے اور کہا معصوم بچیوں کی لاشیں دیکھ کراپنےپوتےاورپوتیاں یادآگئیں ، کل تک رپورٹ مرتب اورذمہ داروں کا تعین ہوگا۔ا

    نھوں نے کہا وزیراعظم عمران کوحقائق سےآگاہ کردیاہے، سکھرڈویژن کاریلوےٹریک بوسیدہ ہوچکاہے ، ریسکیوعملے اور ریلوے کےمزدوروں کوسلام پیش کرتاہوں ، المناک حادثے میں ابتک58 لوگ جاں بحق ہوئےہیں ، 100سےزائدزخمی ، 23افرادشیخ زیداسپتال میں زیرعلاج ہیں ۔وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ سگنل سسٹم کی ناکامی اوربروقت اقدام نہ اٹھانے کے باعث حادثہ ہوا، سرسید ایکسپریس کے ڈرائیور نے ایمرجنسی بریک کا استعمال کیا، سگنل سسٹم پر20ارب خرچ ہو چکا ہے ، جومکمل فعال نہیں ہو سکا ، اسی لئے اب تک ٹرینوں کو جھنڈی کے ذریعے چلا رہے ہیں ، 1971 کا بنا ہوا ٹریک30 سال بعد تبدیل ہونا تھا۔

  • سی ٹی ڈی کی بڑی کارروائی، بھارتی خفیہ ایجنسی را کا تربیت یافتہ ٹارگٹ کلر گرفتار

    کراچی(اے ایف بی)س کاؤنٹرٹیرارزم ڈیپارٹمنٹ نے بڑی کارروائی کرتے ہوئے بھارتی خفیہ ایجنسی را کے تربیت یافتہ ٹارگٹ کلر کو گرفتار کرلیا،گرفتار ملزم ایم کیو ایم گلبہار ناظم آباد کاسابقہ سیکٹرانچارج ہے۔تفصیلات کے مطابق کراچی میں کاؤنٹرٹیرارزم ڈیپارٹمنٹ نے سولجر بازارمیں بڑی کارروائی کی ، کارروائی کے دوران بھارتی خفیہ ایجنسی را کے تربیت یافتہ ٹارگٹ کلرشمشادخان کو گرفتار کرلیا۔انچارج سی ٹی ڈی چوہدری صفدر نے بتایا کہ گرفتار ملزم ایم کیو ایم گلبہار ناظم آباد کاسابقہ سیکٹرانچارج ہے، گرفتارملزم ٹارگٹ کلنگ کی 10سے زائد وارداتوں میں ملوث ہے۔چوہدری صفدر کا کہنا تھا کہ ملزم 1992 میں کراچی آپریشن شروع ہوتےہی بھارت فرارہوگیاتھا اور مفروری کےدوران ایم کیوایم قیادت نے را سے رابطہ کرایا، بمبئی میں را افسران نے شمشاد خان کو عسکری تربیت دی۔

    انچارج سی ٹی ڈی نے کہا کہ بھارتی ایجنسی را نےملزم کوکراچی میں دہشتگردی کیلئےتیارکیا، ملزم کوکراچی پہنچ کرپولیس ، خفیہ ایجنسی کے اہلکار اور مخالفین کو قتل کا ٹاسک دیا گیا اور کراچی میں افراتفری پھیلانے کی ہدایت دی۔چوہدری صفدر نے بتایا کہ شمشاد خان نے کراچی واپس آ کر ٹارگٹ کلنگ کی، 1994 میں حقیقی کارکنان آصف کیپسن اورفہیم فہمی کوقتل کیا، 1995 میں حقیقی کارکنان انصار، کامران ،رفیق پپوکو ٹارگٹ کیا اور 2013میں ایم کیو ایم کارکن حامد کو قتل کیا۔ان کا کہنا تھا کہ ملزم نے 2014میں ایم کیو ایم کارکنان تراش اور حیدر حسین اور ایم کیوایم یونائیٹڈ 4 ناظم آباد فراز کو قتل کرایا اور سرفراز باڈی بلڈرکو ٹارگٹ کیا ، ملزم سزا یافتہ اور دو مرتبہ جیل بھی جا چکا ہے۔

  • اکثرصبح نیند سے جاگنے پر طبیعت بوجھل اورموڈ کیوں خراب ہوتا ہے؟

    یشتر لوگ نیند سے اٹھنے کے بعد موڈ میں کچھ تبدیلیاں محسوس کرتے ہیں، مثال کے طور پر اداسی، مایوسی، غصہ، انتہائی کاہلی وغیرہ لیکن کیا یہ معاملہ صرف سستی اور چڑچڑے پن کی حد تک محدود ہے یا پھر کوئی عارضہ ہے۔حتیٰ کہ بستر سے اٹھ کر بیت الخلاء تک جانے کا فاصلہ طے کرنا بھی طبیعت پر گزراں گرتا ہے، ایسا کیوں ہوتا ہے ؟طبی ماہرین کے مطابق عموماً ایسے لوگ جو صبح موڈ کی خرابی محسوس کرتے ہیں وہ وقت گزرنے کے ساتھ دن میں بہتر ہوجاتے ہیں اور ان کی حالت صبح جیسی نہیں رہتی۔ایسے افراد بغیر کسی وجہ کے موڈ کی خرابی محسوس کرتے ہیں، یہ ان کے مزاج کا حصہ بن جاتا ہے جس کا کوئی واضح سبب نہیں ہوتا۔طبی ماہرین نے صبح کے وقت افسردگی کی کوئی ایک خاص وجہ نہیں بتائی لیکن افسردگی کی مختلف وجوہات ہیں اور ہارمونل عوامل علامات کے وقت پر اثرانداز ہوسکتے ہیں۔ ہارمونل تبدیلیاں دن بھر ہوتی ہیں لیکن صبح کے وقت افسردگی کا ایک سبب ہوسکتی ہیں۔ تحقیق کے مطابق جب اندھیرا ہوتا ہے تو جسم میلاٹونن نامی ہارمون تیار کرتا ہےجس سے انسان کو بہت نیند آتی ہے اور کورٹیسول صبح کے وقت تناؤ اور افسردگی کا جواب دینے میں کردار ادا کرتا ہے۔ کسی شخص کے جسم میں عدم توازن، نیند کی مقدار اور روشنی کی نمائش مزاج میں تبدیلی کا باعث بن سکتی ہے۔

    بیماریوں کے کنٹرول اور روک تھام کے مراکز (سی ڈی سی) کے مطابق صبح کے وقت افسردگی میں دیگر کچھ عوامل ہوسکتے ہیں، جن میں خاندانی یعنی موروثی بیماری، طبی مسئلہ، الکحل یا ایسی دوائیں جن میں الکحل ہو، ادویات کا استعمال کرنا، زندگی کے واقعات جیسے طلاق یا کوئی اور بڑا غم اور زندگی کے مشکل حالات وغیرہ شامل ہیں۔ صبح کے وقت افسردگی کا شکار افراد کواکثر ان علامات کا سامنا ہوتا ہے۔ صبح اٹھنے اور بستر سے باہر نکلنے میں دشواری، دن کے آغاز میں توانائی کی شدید کمی، نہانا یا کافی بنانا جیسے سادہ کام کرنے میں دشواری پیش آنا ۔اس کے علاوہ تاخیر سے جسمانی یا عملی کام کرنا، توجہ کی کمی یا توجہ کا فقدان، شدید اکتاہٹ یا مایوسی، ایسی سرگرمیوں میں دلچسپی کا فقدان جو کبھی ان کے لیے خوشگوار تھیں۔ماہرین صبح کے وقت افسردگی سے نکلنے کے لیے کچھ تجاویز دیتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ورزش کرنے کے علاوہ یہ بھی کہا گیا ہے کہ رات کو جلدی سونے کی عادت بنائیں اور دیر تک مت جاگیں، پوری طرح آرام کریں صورتحال زیادہ خراب ہونے پر کسی ماہر نفسیات سے لازمی مشورہ کریں۔

  • اساتذہ کی ویکسی نیشن کرانے کا معاملہ؛محکمہ تعلیم نے مسئلہ حل کردیا

    لاہور(اے ایف بی)سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ نے اساتذہ کی ویکسنیشن کا آن لائن ڈیٹا مرتب کرنا شروع کردیا، پی آئی ٹی بی نے سکول انفرمیشن سسٹم کو اپ ڈیٹ کرکے اس میں اساتذہ کی ویکسنیشن کیلئے مخصوص خانہ ڈال دیا۔ تفصیلات کے مطابق اساتذہ کی ویکسنیشن کرانے کا معاملہ سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ نے حل کر دیا، اساتذہ کی ویکسنیشن کا آن لائن ڈیٹا مرتب کرنا شروع کردیا،سکول انفارمیشن سسٹم پر اساتذہ کی ویکسنیشن کے لئےمخصوص خانہ ڈال دیا گیا،ڈیٹا مرتب کرنے کے لئےسیس ایپ کو بھی اپ ڈیٹ کردیا گیا،صرف حاملہ یا فیڈ کروانے والی ٹیچرز کو ویکسنیشن سےمستشنی قرار دیا گیا ہے

    واضح رہے کہ سکول ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ نے اساتذہ کے لئےلازمی ویکسی نیشن کی شرط رکھی تھی تاہم حاملہ ٹیچرز اور بچوں کو فیڈ کروانے والی اساتذہ کو ویکسی نیشن سے استثنیٰ دے دیا گیا ہے، وہ اپنی صحت کو مدنظر رکھتے ہوئے ویکسی نیشن کا فیصلہ کر سکتی ہیں
    ،صوبائی وزیر تعلیم مراد راس کا کہنا تھا کہ کسی بھی ضلع میں حاملہ خواتین ٹیچرز کو ویکسی نیشن کے لئےمجبور نہیں کیا جائے گا،شکایات کی صورت میں متعلقہ افسران کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

  • پہلی سے چوتھی، چھٹی اور ساتویں کے طلبا بغیر امتحان پاس کرنے کا فیصلہ

    اسلام آباد(اے ایف بی) وفاقی سرکاری تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کرنے والے طلبا کے لئے بڑی خبر ہے کہ کچھ کلاسز کے امتحانات جبکہ کچھ کے امتحانات لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ وفاقی سرکاری تعلیمی اداروں میں پہلی سے چوتھی، چھٹی ساتویں کلاس کو بغیر امتحان پروموٹ کرنےکا فیصلہ کیا گیا ہے جبکہ پانچویں اور آٹھویں کے امتحانات لیےجائیں، اس طریقہ کار کی وزارت تعلیم نےمنظوری دے دی ہے۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈائریکٹر جنرل وفاقی نظامت تعلیمات نے امتحانات سےمتعلق سمری بھجوائی، سمری میں پانچویں اور آٹھویں کے امتحانات لازمی لینےکی سفارش کی گئی۔ پہلی سے چوتھی،چھٹی ساتویں کلاسز کے طلبا کو گزشتہ سال کے نتائج کی بنیاد پربچوں کو پروموٹ کیا جائےگا۔حکام وزارت تعلیم کے مطابق گزشتہ سال پہلی سےآٹھویں تک کے طلباکو بغیر امتحان پروموٹ نہیں کیا گیا تھا، 90 فیصد طلبا کےامتحانات ہوئے تھے اور نتائج کی بنیاد پر انہیں پاس کیا گیا تھا۔ پانچویں اور آٹھویں کے سینٹرلائزڈ امتحانات کا شیڈول وفاقی نظامت تعلیمات جاری کرےگا۔

  • سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ نے اساتذہ سے متعلق اہم حکم جاری کر دیا

    لاہور(اے ایف بی)سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب نے لاہورسمیت پنجاب بھر کے سکول سربراہان کو سٹاف کی ویکسنیشن کا سرٹیفکیٹ جمع کروانے کی ہدایت کردی،ویکسنیشن نہ کروانے والے سٹاف کیخلاف پیڈا ایکٹ کے تحت کاروائی عمل میں لائی جائے گی۔ تفصیلات کے مطابق سکول سربراہان کو سٹاف کی ویکسنیشن کا سرٹیفکیٹ 5 جون تک جمع کروانے کی ہدایت جاری کی گئی۔

    سکولوں میں تمام ٹیچنگ اور نان ٹیچنگ سٹاف کورونا ویکسنیشن کروانے کے پابند ہونگے۔تمام سٹاف کی ویکسنیشن کروانے کی ذمہ داری سکول سربراہان کی ہوگی۔ویکسنیشن کے حوالے سے سکول سربراہان 5 جون کو رپورٹ جمع کروانا ہو گی۔احکامات نہ ماننے والے اساتذہ ونان ٹیچنگ سٹاف کیخلاف پیڈا کے تحت کاروائی کیجائے گی۔سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ نے ویکسی نیشن کے حوالے سے اتھارٹیز کو مراسلہ جاری کردیا۔

  • سرکاری ملازمین کیلئے تنخواہوں میں اضافہ، وزیراعلیٰ پنجاب نے خوشخبری سنادی

    لاہور(اے ایف بی) وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے بجٹ میں سوشل سیکٹرکیلئےزیادہ فنڈزمختص کرنےکی ہدایت کرتے ہوئے کہا سرکاری ملازمین کے لئے تنخواہوں میں اضافہ کرکے اچھی خبردیں گے۔تفصیلات کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدارکی زیرصدارت اجلاس ترقیاتی منصوبوں،مالیاتی امورکاجائزہ اجلاس ہوا، جس میں سڑکوں کی تعمیر و مرمت میں شفافیت ،معیاریقینی بنانے کے لئے اقدام کرتے ہوئے پنجاب کی سڑکوں کی بحالی کاخصوصی پروگرام شروع کرنے کا اصولی فیصلہ کرلیا۔

    وزیراعلیٰ پنجاب نے سی ایم پیکیج برائےبحالی روڈزکی منظوری دیتے ہوئے کہا ٹوٹ پھوٹ کاشکارسڑکوں کومکمل طورپربحال کیاجائےگا، سڑکیں بحال کرکے عوام کےلئےآسانیاں پیداکرنےکی حکمت عملی بنا لی۔عثمان بزدار کا کہنا تھا کہ خطیررقم خرچ کرنےکے باوجودسڑکوں کی حالت خراب ہوناافسوسناک ہے ، سرکاری وصولیوں میں20فیصداضافہ شفاف پالیسیوں کاثمرہے۔وزیر اعلیٰ پنجاب نے زیرتکمیل منصوبوں کےلئےفنڈزترجیحی بنیاد وں پرجاری کرنےحکم دیتے ہوئے کہا فنڈزکےدرست استعمال کیلئےماہانہ مانیٹرنگ رپورٹ طلب کی جائےگی، پی ایس ڈی پی کےتحت خوشاب،میانوالی سرگودھاروڈتعمیرکیاجائےگا۔

    ان کا کہنا تھا کہ کوٹلی ستیاں ٹورازم ہائی وےبنائی جائےگی، گوجرانوالہ انڈسٹریل اسٹیٹ کو موٹروے سے منسلک کیاجائےگا، جنوبی پنجاب شہروں میں نکاسی آب کےلئے10منصوبےلائےجائیں گے ۔عثمان بزدار نے بجٹ میں سوشل سیکٹرکیلئےزیادہ فنڈزمختص کرنےکی ہدایت کرتے ہوئے کہا تعلیم، صحت اور فراہمی ونکاسی آب کے لئے بجٹ بڑھایا جائے، سرکاری ملازمین کے لئے تنخواہوں میں اضافہ کرکے اچھی خبردیں گے۔