Blog

  • رکن پنجاب اسمبلی کا ن لیگ میں شمولیت کا اعلان

    لاہور(اے ایف بی) رکن پنجاب اسمبلی جگنو محسن نے باضابطہ طورپر ن لیگ میں شمولیت کا اعلان کردیا۔آزاد رکن پنجاب اسمبلی جگنو محسن کا حمزہ شہباز شریف کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہنا تھا کہ حمزہ شہباز اور انکے بڑوں کی شکر گزار ہوں ہمیشہ عزت دی۔شریف فیملی سے تعلق ہمارا بہت پرانا ہے ۔ میں آزاد حیثیت میں الیکشن لڑی اور اللہ تعالیٰ نے کامیابی سے نوازا۔ عطاء تارڑ سے رابطے میں رہیں اور میں نے بتایا کہ حکمران جماعت میں شمولیت اختیار نہیں کرنا چاہتی ۔ حلقے کے لوگوں کے کام کرنے ہیں اور تجویز دی گئی کہ آزاد حیثیت برقرار رکھیں۔ وقت آنے پر آپ سے بات کی جائے گی اور جب پچھلے سال اپوزیشن کے استعفوں کی بات کی گئی تو میں نے نواز شریف کو کہا کہ میرا استعفیٰ حاضر ہے ۔ جب کہیں گے تو استعفیٰ سپیکر کی میز پر ہوگا۔ حمزہ شہباز نے جگنو محسن کو پارٹی میں خوش آمدید کہتے ہوئے شکریہ ادا کیا۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے قائد حزب اختلاف پنجاب اسمبلی کا کہنا تھا کہ چار سال میں ایک بات سچی کی وہ تھی سونامی والی تباہی والی۔ہر طرف تباہی ہی تباہی دیکھنے کو مل رہی ہے۔ یہاں ایک دوسرے کی عزت اچھالنے کو اچھا سمجھا جاتا ہے۔ اسے شاباش ملتی ہے۔حمزہ شہباز نے مزید کہا کہ بندوق کے نشانے والی کون سی جمہوریت ہے۔ ہمارے تمام قائدین کو جیل میں ڈالا گیا۔این سی اے کی رپورٹ میں سب سامنے آ گیا۔قوم کو مہنگائی اور بے روزگاری کے علاوہ کچھ نہیں دیا اور اب مگرمچھ کے آنسو روتے ہیں۔سفارتی تعلقات کا مزاق بناتے ہیں۔ قومی اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد بھاری اکثریت سے کامیاب ہوگی۔یادرہے گذشتہ روز میاں نوازشریف نے آزاد رکن پنجاب اسمبلی جگنو محسن کو ٹیلی فون کیا تھا اور ن لیگ میں شمولیت کے لئے کہا گیا تھا۔

  • وزیراعظم عمران خان پر قاتلانہ حملے کا منصوبہ وفاقی وزیرکاانکشاف

    اسلام آباد (اے ایف بی)وزیراعظم عمران خان پرقاتلانہ حملےکامنصوبہ سامنے آگیا ، جس کے بعد وزیراعظم کی سیکیورٹی میں اضافہ کردیا گیا ہے۔تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر اطلاعات فوادچوہدری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے بیان میں کہا کہ سیکیورٹی ایجنسیزنے رپورٹ کیا عمران خان پرقاتلانہ حملے کامنصوبہ سامنے آیا ہے حکومتی فیصلے کےمطابق وزیراعظم کی سیکیورٹی میں اضافہ کیا گیااس حوالے سے فواد چوہدری نے نجی ٹی وی سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ وزیراعظم پہلے بھی خاص سیکیورٹی پر توجہ نہیں دیتے تھے تاہم موجودہ حالات میں سیکیورٹی میں اضافہ انتہائی ضروری ہے۔وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ سنگین دھمکیوں کے بعد سیکیورٹی بڑھانے کا فیصلہ کیاگیاہے، وزیراعظم آج اپنی معمول کی مصروفیات جاری رکھیں گے۔انھوں نے بتایا کہ قاتلانہ حملے کامنصوبہ وفاقی ایجنسیوں کی طرف سے رپورٹ کیاگیا ہے، ایجنسیوں کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ انتہائی سنجیدہ ہے۔فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ اس بار جو تھریٹ ہے وہ ماضی کے برعکس زیادہ سنگین ہے، قاتلانہ حملےکی منصوبہ بندی موجودہ سیاسی صورتحال میں بہت سنگین ہے۔

  • میٹرک اور انٹر کے سالانہ امتحانات کی تاریخوں کا اعلان

    راولپنڈی ( اے ایف بی)راولپنڈی سمیت پنجاب بھر کے تعلیمی بورڈز نےمیٹرک اور انٹر کیلئے سالانہ امتحانات2022 کاشیڈول جاری کردیا۔ تفصیلات کے مطابق پنجاب بھر کے تعلیمی بورڈز کے تحت سالانہ امتحانات کاشیڈول جاری کردیا جس کے تحت میٹرک کے امتحانات کا آغاز10 مئی اور نہم کے امتحانات 26 مئی سے شروع ہونگے۔ انٹر پارٹ ٹو کے امتحانات کا آغاز18 جون اور پارٹ ون کے امتحانات 4 جولائی سے ہونگے۔ انٹرپارٹ ون/ٹو کے سالانہ امتحان 2022 کے داخلے سنگل فیس کیساتھ 31 مارچ تک جمع کروائے جا سکیں گے۔ میٹرک سالانہ امتحان کے داخلے 22 مارچ سے بند ہوچکے ہیں۔ امتحانات کیلئے حتمی ڈیٹ شیٹ پنجاب بھر کے تعلیمی بورڈز خودسے جاری کریں گے۔

  • صدقہ الفطر کی رقم کا اعلان اہل اسلام کے لئے اہم خبر

    ابوظبی(اے ایف بی)متحدہ عرب امارات میں رمضان المبارک کی مناسبت سے صدقہ الفطر کی رقم کا اعلان کردیا گیا۔
    عرب میڈیا کی رپورٹ کے مطابق یو اے ای کی فتویٰ کونسل نے اعلان کیا ہے کہ رواں سال زکوٰۃ الفطر کی قیمت 25 درہم فی کس مقرر کی گئی ہے۔فتویٰ کونسل کا کہنا ہے کہ زکوٰۃ الفطر صدقہ ہے جو رمضان کے مقدس ماہ میں مستحق افراد کو دیا جاتا ہے، یہ رقم رمضان کے دن سے اور عید الفطر کی صبح تک عید کی نماز کے وقت سے پہلے دی جاسکتی ہے۔ترجمان فتویٰ کونسل کا کہنا تھا کہ ہر مسلمان مرد اور عورت جو صاحب حیثیت ہے اس پر فطرہ ادا کرنا واجب ہے۔یو اے ای کی فتوی کونسل نے رمضان المبارک سے متعلق دیگر رقوم کا بھی اعلان کیا۔ترجمان کا کہنا ہے کہ صاحب حیثیت افراد ضرورت مندوں کے لیے افطار کا انتظام کرنا چاہیں تو اس کی رقم 15 درہم مقرر کی گئی ہے۔فتویٰ کونسل کے مطابق اگر کوئی شخص بڑھاپے یا بیماری کی وجہ سے روزہ نہ رکھ سکے تو اس کے فدیے کی رقم بھی 15 درہم ہوگی

  • کورونا وبا سے 24 گھنٹوں میں مزید 4 افراد جاں بحق ہوگئے

    اسلام آباد(اے ایف بی) ملک بھر میں 24 گھنٹوں کے دوران کورونا وائرس سے مزید 4 افراد انتقال کرگئے۔نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک میں کورونا کی تشخیص کے لیے 30 ہزار 417 ٹیسٹ کیے گئے جن میں سے 189 افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی۔گزشتہ روز کورونا وائرس نے 4 افراد کی جان لے لی، جب کہ مثبت کیسز کی شرح 0.62 فیصد ریکارڈ کی گئی۔ اس کے علاوہ 451 مریضوں کی حالت تشویشناک ہے

  • دلہا دلہن کی گاڑی کو آگ لگ گئی دونوں‌نے کیسے جان بچائی جانئے

    لاہور(اے ایف بی)لاہور میں رائیونڈ روڈ پر ڈگری کالج کے قریب دلہا دلہن کی گاڑی کو آگ لگ گئی۔پولیس کے مطابق دلہا دلہن کی گاڑی کو آگ بارات کی واپسی پر لگی، آگ لگتے ہی دلہا دلہن فوری گاڑی سےنکل گئے جس کے بعد آگ نےگاڑی کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ اطلاع ملنے پر ریسکیو ٹیم نےموقع پر پہنچ کر آگ پر قابو پا لیا تاہم گاڑی جل کرتباہ ہوگئی۔ابتدائی تحقیقات کے مطابق گاڑی میں آگ شارٹ سرکٹ سے لگی

  • آئین میں کہیں واضح نہیں کہ پارٹی سے وفادار رہنا ہے یا نہیں، چیف جسٹس

    اسلام آباد(اے ایف بی) چیف جسٹس سپریم کورٹ عمر عطا بندیال نے کہا ہے کہ کیا کوئی رکن ڈیکلریشن دیتا ہے کہ پارٹی ڈسپلن کا پابند رہے گا؟ آئین میں کہیں واضح نہیں کہ پارٹی سے وفادار رہنا ہے یا نہیں۔ آرٹیکل 63 اے کی تشریح سے متعلق صدارتی ریفرنس پر چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بنچ کیس کی سماعت کر رہا ہے۔ بنچ میں جسٹس منیب اختر، جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس مظہر عالم خان اور جسٹس جمال خان مندوخیل شامل ہیں۔دوران سماعت اٹارنی جنرل نے دلائل دیے اور کہا کہ پارلیمنٹ میں خواتین اور اقلیتوں کی مخصوص نشستیں ہوتی ہیں، مخصوص نشستوں والے ارکان نے عوام سے ووٹ نہیں لیا ہوتا، مخصوص نشستوں والے ارکان بھی سندھ ہاؤس میں موجود تھے، مخصوص نشستیں پارٹی کی جانب سے فہرست پر ملتی ہیں۔چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ امانت میں خیانت کرنا بہت بڑا گناہ ہے، خیانت کی قرآن میں بہت سخت سزا ہے اور اعتماد توڑنے والے کو خائن کہا جاتا ہے آپ کے مطابق پارٹی کو ووٹ نہ دینے والے خیانت کرتے ہیں؟ کیا کوئی رکن بھی ڈیکلریشن دیتا ہے کہ پارٹی ڈسپلن کا پابند رہے گا، آئین میں کہیں واضح نہیں کہ پارٹی سے وفادار رہنا ہے یا نہیں۔جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ کیا ممبر شپ فارم میں رکن ڈیکلریشن دیتا ہے کہ ڈسپلن کا پابند رہے گا؟ اگر پارٹی ممبر شپ میں ایسی یقین دہانی ہے تو خلاف ورزی خیانت ہوگی۔جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ وزیراعظم نے اپنے عہدے کا حلف اٹھایا ہوتا ہے، اگر وزیراعظم آئین کی خلاف ورزی کرے تو کیا ممبر پھر ساتھ دینے کا پابند ہے؟ کیا کوئی بھی رکن وزیراعظم پر عدم اعتماد کا اظہار کرسکتا ہے؟اٹارنی جنرل نے کہا کہ پارٹی ٹکٹ ایک سرٹیفیکٹ ہے جس پر انتحابی نشان ملتا ہے، وزیراعظم اور رکن اسمبلی کے حلف میں فرق ہے۔ اس پر جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ ووٹر انتحابی نشان پر مہر لگاتے ہیں کسی کے نام پر نہیں، پارٹی کے نشان پر الیکشن لڑنے والے جماعتی ڈسپلن کے پابند ہوتے ہیں۔اٹارنی جنرل نے کہا کہ برصغیر میں بڑے لیڈرز کے نام سے سیاسی جماعتی آج بھی قائم ہیں، مسلم لیگ اور کانگریس بڑے لیڈرز کی جماعتیں ہیں، پارلیمانی جہموریت میں پارلیمانی پارٹی اجلاس ہوتے ہیں، اراکین اسمبلی ربڑ اسٹمپ نہیں ہوتے کیوں کہ اگر پارٹی فیصلے سے متفق نہ ہوں تو مستعفی ہوا جاسکتا ہے اور پارٹی اختلاف کا یہ مطلب نہیں کہ حکومت کے خلاف جایا جائے، رضا ربانی نے پارٹی ڈسپلن کے تحت فوجی عدالتوں کے حق میں ووٹ دیا، یقین ہے رضا ربانی نے نااہلی کے ڈر سے ووٹ نہیں دیا ہوگا۔جسٹس مظہر عالم نے کہا کہ پارٹی پالیسی سے اختلاف کرنے والا استعفی کیوں دے؟ اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ پارٹی ٹکٹ پر الیکشن لڑنے والا جماعت کے ڈسپلن کا بھی پابند ہوتا ہے۔ اس پر جسٹس جمال خان مندوخیل بولے کہ آئین پاکستان ہر شخص کو اپنے خیالات کے آزادانہ اظہار کا حق دیتا ہے تو کیا خیالات کے اظہار پر تاحیات نااہلی ہونی چاہیے؟اٹارنی جنرل نے کہا کہ اراکین اسمبلی صرف چار مواقع پر آزادی سے ووٹ نہیں دے سکتے، بطور ایڈووکیٹ جنرل سندھ ہاؤس میں رہتا تھا، سندھ ہاؤس میں ایسی کوئی ڈیوائس نہیں تھی جو ضمیر جگائے۔چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ ذاتی مفاد کے لیے اپنے لوگوں کو چھوڑ کر جانا بے وفائی ہے، پارٹی کے اندر جمہوریت ہو تو آرٹیکل 63 اے کی ضرورت نہیں رہتی، آرٹیکل 63 اے کی خوبصورتی ہے کہ اسے استعمال کرنے کا موقع ہی نہ ملے۔جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ کیا مناسب نہ ہوتا کہ صدر پارلیمانی جماعتوں کا بلا کر مشورہ کرتے، کیا عدالت سے پہلے سیاسی جماعتوں سے مشورہ کرنا مناسب نہیں ہوتا؟ پارلیمانی جماعتوں سے مل کر آئین میں ترمیم ہو سکتی تھی۔ اس پر اٹارنی جنرل بولے کہ غلام اسحاق خان اسی طرح سب کو بلایا کرتے تھے۔جسٹس مظہر عالم نے کہا کہ ابھی تو کسی نے انحراف کیا ہی نہیں آپ ریفرنس لے آئے جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ جرم کو ہونے سے روکنا مقصد ہے۔ جسٹس مظہر نے کہا کہ جرم ہونے سے پہلے سزا کیسے دی جا سکتی ہے؟ جس پر اٹارنی جنرل بولے کہ قانون واضح کرنے کے لیے عدالت آئے ہیں۔چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ اٹارنی جنرل صاحب آپ کو بتانا ہوگا کہ رکن تاحیات نااہل کب ہوگا؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ جرم ہو تو سزا دینے کے لیے قانون واضح ہونا چاہیے جس پر جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ آئین کی تشریح کرنا ہی اس سپریم کورٹ کا کام ہے۔اٹارنی جنرل نے کہا کہ حسبہ بل کے ڈرافٹ پر ہی حکومت عدالت آگئی تھی، حسبہ بل ریفرنس میں بھی قانون نہ بننے کا اعتراض آیا تھا، سپریم کورٹ نے بل کی منظوری نہ ہونے کا اعتراض مسترد کر دیا تھا۔چیف جسٹس نے کہا کہ 62 ون ایف کوالیفیکشن کی بات کرتا ہے، 62 ون ایف میں نااہلی کی بات نہیں کی گئی، حکومتی جماعت کے لوگوں کا سندھ ہاؤس میں جاتے ہی ضمیر جاگ گیا۔ جسٹس جمال خان نے کہا کہ وزیراعظم ملک کے خلاف کوئی فیصلہ کرے تو کیا رکن مخالفت نہیں کرسکتا؟ جس پر اٹارنی جنرل بولے کہ ملک کے خلاف کام ہونے پر رکن خود کو پارٹی سے الگ کرسکتا ہے۔جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ پارٹی سے اختلاف کرنے والا شخص کیا دوبارہ مینڈیٹ لے سکتا ہے؟ عدالت نے ارٹیکل 63 A کے تحت اعتراف کے نتائج کا تعین کرنا ہے۔ جسٹس جمال خان مندوخیل بولے کہ کیا عدالت ریفرنس میں جوڈیشل اختیارات استعمال کرسکتی ہے؟اٹارنی جنرل نے اٹھارہویں ترمیم پر ہونے والے پارلیمانی بحث عدالت میں پیش کردی اور کہا کہ عدالت نے آرٹیکل باسٹھ ون ایف کی تشریح کر دی ہے آرٹیکل باسٹھ ون ایف میں بھی خالی جگہ موجود ہے جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ کیا خالی جگہ عدالت کو پر کرنی ہے؟جسٹس جمال بولے کہ کیا عدالت آئین میں کسی فل سٹاپ کا بھی اضافہ کرسکتی ہے؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ آرٹیکل باسٹھ اور تریسٹھ میں براہ راست تعلق ثابت کروں گا۔ جسٹس اعجاز نے کہا کہ آئین کے کسی آرٹیکل کو الگ سے نہیں پڑھا جاسکتا باسٹھ اور تریسٹھ کو ملا کر پڑھا جاتا ہے، پارلیمانی بحث میں ہارس ٹریڈنگ کو کینسر قرار دیا گیا ہے۔ عدالت کو آرٹیکل 63 A کے تحت انحراف کے نتائج کا تعین کرنا ہے۔جسٹس جمال خان نے کہا کہ پارٹی سے انحراف کرنے والے کے خلاف الیکشن کمیشن کا فورم موجود ہےجس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ کسی کی بھوک مٹانے کے لیے چوری کرنا بھی جرم ہے۔ جسٹس جمال نے کہا کہ کوئی چوری کرنے والے کے ساتھ جائے تو کیا ہوگا؟ صدر مملکت کو ایسا مسئلہ کیا ہے؟ جو رائے مانگ رہے ہیں؟ صدر کے سامنے ایسا کون سا مواد ہے جس پر سوال پوچھے؟ تو اٹارنی جنرل بولے کہ عدالت صدارتی ریفرنس پر رائے دینے کی پابند ہے۔جسٹس اعجاز نے کہا کہ صدر نے آئین کی تشریح کا کہا ہے ہم تشریح سے ادھر ادھر نہیں جاسکتے اور ممکن ہے ریفرنس واپس بھیج دیں۔جسٹس منیب اختر نے کہا کہ کیا آرٹیکل 63 A سے انحراف پر آرٹیکل 62 ون ایف لگے گا؟ آرٹیکل 63 A نشست خالی ہونے کا جواز فراہم کرتا ہے۔ جسٹس جمال خان نے استفسار کیا کہ کوئی رکن ووٹ ڈالنے کے بعد استعفی دےتو کیا ہوگا؟اٹارنی جنرل بولے کہ بھارت میں ایک رکن نے پارٹی کے خلاف ووٹ دے کر استعفی دیا تھا، بھارتی عدالتوں نے مستعفی رکن کو منحرف قرار دیا تھا، پارٹی سے انحراف پر کسی کی حوصلہ افزائی نہیں کی جاسکتی۔چیف جسٹس نے پوچھا کہ الیکشن ایکٹ 2017ء بناتے وقت کس چیز کا خوف تھا؟ پارلیمنٹ نے ڈی سیٹ سے زیادہ کچھ نہیں لکھا۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت تاحیات نااہلی بھی پارلیمنٹ نے نہیں کی۔چیف جسٹس نے کہا کہ آرٹیکل 62 ون ایف میں عدالت کا کردار شامل ہے، ڈیکلریشن دینے والی عدالت الیکشن ٹربیونل بھی ہوسکتی ہے، کیا الیکشن کمیشن عدالت ہے؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ میری نظر میں الیکشن کمشن عدالت نہیں جس پر چیف جسٹس نے پوچھا کہ الیکشن کمیشن عدالت نہیں تو ڈیکلریشن کون دے گا؟جسٹس جمال نے کہا کہ اگر تمام جماعتیں متفق ہیں تو آئین میں ترمیم کرلیں جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ آئین ازخود نہیں بلکہ عدالتوں کے ذریعے بولتا ہے، آئین کی درست تشریح عدالت ہی کرسکتی ہے۔چیف جسٹس نے کہا کہ قانون سازی کے ذریعے بھی آرٹیکل 63 A کے تحت نااہلی شامل کی جاسکتی تھی۔ جسٹس منیب اختر بولے کہ اگر ووٹ شمار نہ ہو تو دوسری کشتی میں جانے کی ضرورت نہیں رہے گی۔ جسٹس جمال نے کہا کہ کیا آرٹیکل 63 اے آزادی اظہار رائے پر پابندی نہیں؟ تو اٹارنی جنرل بولے کہ دفعہ 302 بھی قتل سےنہیں روکتی لیکن جیل جانا پڑتا ہے۔

  • منحرف ارکان کی رکنیت معطل کروانے سے بھی حکومت نہیں بچے گی، دعویٰ نے حکومتی صفوں میں کھلبلی مچا دی

    اسلام آباد(اے ایف بی)معروف صحافی فہد حسین نے دعویٰ کیا ہے کہ اگر حکومت اپنے کسی منحرف ارکان کی رکنیت معطل کروا بھی دے تو وہ نہیں بچے گی کیونکہ ان کے خلاف پھر بھی نمبرز پورے ہیں۔نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے فہد حسین کا کہنا تھا کہ حکومتی اتحادیوں کا جھکاو کافی عرصے سے اپوزیشن کی طرف تھا اس کا اندازہ آپ ان کےبیانات سے بھی لگا سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کچھ ملاقاتیں تو ان کیمرہ ہوتی ہیں لیکن کئی ملاقاتیں بند کمروں میں بھی ہو رہی ہیں۔اپوزیشن اور اتحادیوں کے درمیان اتفاق ہو چکا ہے،معاملات بھی طے ہو چکے ہیں لیکن ایشو صرف ٹائمنگ کا ہے کہ وہ کب اس کا اعلان کرتےہیں۔ان کا کہنا تھا کہ میرے خیال میں اتحادی او آئی سی کانفرنس کا انتظار کررہے تھے کہ اجلاس ہو جائے اور اس کےبعد ہم اعلان کریں یا پھر پی ٹی آئی ایک دفعہ اپنا جلسہ کر لے پھر ہم حمایت کا اعلان کریں گے۔

  • میں نوازشریف کو چوتھی بار بھی وزیراعظم بناؤں گا، آصف زرداری نے دبنگ اعلان کر دیا

    اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک )قومی اسمبلی کا اجلاس جاری ہے جس دوران مرحوم اراکین کیلئے دعائے مغفرت کی جارہی ہے تاہم کچھ دیر قبل جب آصف زرداری اسمبلی پہنچے تو انہوں نے صحافیوں کے سوالات کے دلچسپ جوابات دیئےتفصیلات کے مطابق آصف زرداری نے کہا کہ ” میں کوئی کام یا بات بے بنیاد نہیں کرتا ، نوازشریف کو بھی چوتھی بار وزیراعظم بناوں گا ۔“اس کے علاوہ سابق صدر کا کہناتھا کہ سپیکر قومی اسمبلی نے تحریک پیش کرنے کی اجازت نہ ملی تو پھر ہنگامہ کریں گے، انشا اللہ تحریک عدم اعتماد 100 فیصد کامیاب ہوگی۔ غیر جمہوری قوتوں سے متعلق آصف زرداری نے کہا کہ اگر کسی کو اتنا شوق ہے تو ہاتھ سنبھال لے۔سپیکر قومی اسمبلی نے قومی اسمبلی کا اجلاس ممبر اسمبلی کے انتقال کے باعث اجلاس پیر تک ملتوی کر دیا ہے

  • قومی اسمبلی کا اجلاس کب تک ملتوی کیا گیا انتہائی اہم خبرآگئی

    اسلام آباد (اے ایف بی ) سپیکر اسد قیصر نے قومی اسمبلی کا اجلاس پیر تک ملتوی کر دیا۔قومی اسمبلی کے آج ہونے والے اجلاس کا 15 نکاتی ایجنڈا جاری کر دیا گیا ہے جس کے مطابق تحریک عدم اعتماد کی قرارداد 152 ارکان کی جانب سے پیش کی جائے گی۔تحریک کے محرکین میں 147 ارکان شامل ہیں، وزیراعظم کے خلاف آرٹیکل 95 اے کے تحت تحریک عدم اعتماد پیش کی جائے گی، اپوزیشن کی قرارداد میں کہا گیا ہے کہ ایوان کی رائے ہے وزیر اعظم عمران خان ایوان کا اعتماد کھو چکے ہیں، لہٰذا انہیں عہدے سے ہٹا دیا جائے