Month: August 2021

  • آزاد کشمیر میں کرکٹ اکیڈمی بنانے اور کشمیر پریمیئر لیگ کو ٹی 20 لیگ کا درجہ دینے کا اعلان

    مظفر آباد(اے ایف بی )وزیراعظم آزاد کشمیر نے آزاد کشمیر میں کرکٹ اکیڈمی بنانے اور کشمیر پریمیئر لیگ کو ٹی20لیگ کا درجہ دینے کا اعلان کردیا اور کہا کشمیرپریمیئرلیگ کی کامیابی نے بھارت کی چیخیں نکال دیں۔تفصیلات کے مطابق وزیراعظم آزاد کشمیر نے آزاد کشمیر میں کرکٹ اکیڈمی بنانے کا فیصلہ کرتے ہوئے کے پی ایل کوٹی20لیگ کادرجہ دینے کابھی اعلان کردیا اور حکام کوکرکٹ اکیڈمی کےانتظامات کی ہدایت کردی ہے۔اس حوالے سے وزیراعظم آزادکشمیر سےشہریار آفریدی اور شاہد آفریدی کی ملاقات ہوئی ، ملاقات میں آزادکشمیر میں کھیلوں کے فروغ پر تبادلہ خیال کیاگیا، شاہد آفریدی نے کہاکہ آزادکشمیر کےنوجوانوں میں بہترین ٹیلنٹ ہے، میں ہروقت کشمیرکےنوجوانوں کیلئےدستیاب ہوں، کشمیرپریمیئرلیگ کی کامیابی سے دنیا میں مثبت پیٖغام گیا۔

    چیئرمین کشمیرکمیٹی شہریارآفریدی نے کہا کہ آوزیراعظم پاکستان کاوزیراعظم آزادکشمیرپربھرپوراعتمادہے، آزادکشمیرحکومت کیلئےوفاق تمام وسائل مہیا کرے گا۔وزیراعظم آزادکشمیر نےشاہد آفریدی کوآزادکشمیرآمد پرخوش آمدید کہتے ہوئے کہا آپ کے آباؤاجدادنےآزادکشمیرکیلئے جانوں کی قربانیاں دیں، کشمیرپریمیئرلیگ کی کامیابی نےبھارت کی چیخیں نکال دیں، ہم ہر وہ کام کریں گے جس سے بھارت کی چیخیں نکلیں۔سردار عبد القیوم نیازی کا کہنا تھا کہ کشمیرپریمیئرلیگ سےمقبوضہ کشمیرکےلوگوں کواچھا پیغام ملا، دنیا نےدیکھاآزاد کشمیر امن کا قلعہ ہے، شاہد آفریدی کی آزاد کشمیر میں کرکٹ کےلیے بڑی خدمات ہیں، پہلی کرکٹ اکیڈمی کا نام شاہد آفریدی رکھیں گے۔

  • خاتون ٹک ٹاکر کو ہراساں کرنے کا واقعہ، 400 افراد کیخلاف مقدمہ درج

    لاہور(اے ایف بی ) مینار پاکستان پر خاتون ٹک ٹاکر کو ہراساں کرنے کے واقعے میں ملوث 400 نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا۔ لاہور گریٹر اقبال پارک میں 14 اگست کے روز ویڈیو بنانے آنے والی ٹک ٹاکر عائشہ اکرام کو ہجوم نے ہراساں کیا تھا، واقعے میں ملوث 400 نامعلوم افراد کیخلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے واقعے نوٹس لیا اور سی سی پی او سے رپورٹ طلب کرتے ہوئے کارروائی کا حکم دیا

    پولیس کا کہنا ہے کہ متاثرہ خاتون کی مدعیت میں مقدمہ درج کیا گیا ہے۔متاثرہ خاتون نے درخواست میں موقف اپنایا کہ ان پر تشدد کیا گیا، موبائل فون اور نقدی بھی چھین لی گئی۔۔لاہور پولیس کا کہنا ہے کہ 400 افراد کیخلاف مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔ فوٹیج اور دیگر شواہد کو سامنے رکھتے ہوئے ملزمان کی شناخت کی جا رہی ہے، جلد ہی گرفتاریاں عمل میں لائی جائیں گی۔

  • عاشورہ میں موبائل فون سروس کو صرف حسب ضرورت بند کیا جائے، وزیرداخلہ کی ہدایت

    اسلام آباد(اے ایف بی ) وزیر داخلہ شیخ رشید نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہدایت کی ہے کہ عاشورہ کے دوران موبائل فون سروس کو صرف حسب ضرورت ہی بند کیا جائے۔وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد کی سربراہی میں محرم الحرام کے دوران امن و امان کے حوالے سے خصوصی اجلاس ہوا جس میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے نمائندوں سمیت وفاقی سیکریٹری داخلہ نے شرکت کی۔ اجلاس میں وفاقی دارالحکومت، چاروں صوبوں، آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان میں امن و امان کی صورت حال کا جائزہ لیا گیا۔

    اس موقع پر سیکریٹری داخلہ نے اجلاس کے شرکا کو بتایا کہ امن وامان برقرار رکھنے کیلئے انتظامیہ کی مدد کے لئے سول آرمڈ فورسز تعینات کی گئی ہے، حساس علاقوں کی سکیورٹی کے لئے قانون نافذ کرنے والے اجلاس میں یوم عاشور پر امن او امان برقرار رکھنے کے حوالے سے باہمی مشاورت سے حکمت عملی طے کی گئی اور صورت حال کے مسلسل جائزے کے لئے وزارت داخلہ میں خصوصی سیل قائم کیا گیا۔اداروں نے خصوصی اقدامات اٹھائے ہیں۔

    وزیر داخلہ شیخ رشید نے کہا کہ وفاقی حکومت صوبوں کوامن وامان کے لئے تکنیکی اور دیگر معاونت یقینی بنائے گی، خصوصی سیل عاشور کے دوران 24 گھنٹے کام کرتا رہے گا، انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ محرام الحرام میں سیکیورٹی ہائی الرٹ رکھی جائے، عوام کے جان و مال کا خیال رکھا جائے، امن امان کو ہر صورت یقینی بنایا جائے، سیکیورٹی اقدامات سے عوام کو پریشانی نہیں ہونی چاہیے، عاشورہ کے دوران موبائل فون سروس کی بندش صرف حسب ضرورت کی جائے۔

  • افغان طالبان کے رہنما کون ہیں، کہاں سے آئے؟ تفصیلی رپورٹ

    افغانستان (اے ایف بی ) افغان طالبان کے لیڈران عبدالحکیم حقانی، سراج الدین حقانی، مُلا عبدالغنی اور شیرمحمد عباس ستانکزی کون ہیں اور ان کا تعلق کہاں سے ہے ؟افغان طالبان کا اقتدار 2001 میں ختم ہو اجس کے بعد سے اب تک طالبان مغربی حمایت یافتہ افغان حکومت کے خلاف کابل میں لڑ رہے ہیں۔ طالبان نے 1980 میں امریکی مدد سے سویت یونین کی جانب سے افغانستان پر قبضے کی کوشش کو ناکام کیا۔ بعد ازاں طالبان 1994 میں ابھرے اور 1996 تک ملک کے بیشتر حصے پر قابض ہوگئے اور اسلامی قانون کا نفاذ کیا، دورہ حاضر کی طالبان تحریک میں شامل عبدالحکیم حقانی، سراج الدین حقانی، ملا عبدالغنی اور شیرمحمد عباس ستانکزی کی مقبولیت زبان زد عام ہیں۔

    عبدالحکیم حقانی:
    عبدالحکیم حقانی طالبان کی مذاکراتی جماعت کے سربراہ ہیں، انہیں طالبان کے امیر ملا ہیبت اللہ اخونزادہ کا سب سے قابل اعتماد ساتھی بھی تصور کیا جاتا ہے، وہ طالبان کے متوازی قاضی القضاۃ کے عہدے پر بھی براجمان رہے ہیں، عبدالحکیم حقانی طالبان کی طاقتور مذہہبی علماء پر مشتمل کونسل کے سربراہ بھی ہیں۔

    شیرمحمد عباس ستانکزی:
    طالبان کےخارجہ امورکے ماہر شیرمحمد عباس ستانکزی 1963 میں صوبہ لوگر کے ضلع براکی برک میں پیدا ہوئے ، وہ سیاست کے مضمون میں ماسٹر ڈگری کے حامل ہیں اور 1970 کی دہائی میں افغان فوج کی تربیتی پروگرام کے تحت آئی ایس آئی ہیڈکوارٹر میں بھی زیر تعلیم رہے ہیں ، انہوں نے روس کے خلاف افغان جہاد میں بھی حصہ لیا اور طالبان کے پہلے دور حکومت میں بطور نائب وزیر خارجہ اور نائب وزیر صحت کے فرائض سرانجام دئے۔ 1996 میں بطور قائمقام وزیر خارجہ امریکا کا سرکاری دورہ بھی کیا اور دوہا میں 2012 میں طالبان کے دفتر کے قیام میں اہم کردار ادا کیا ، 2015 میں وہ طالبان کے دوہا میں سیای دفتر کے سربراہ مقرر ہوئے اور امن مزاکرات اور مختلف ممالک کے طالبان کے نمائندہ کے طور پر دورے بھی کئے۔

    ملا عبدالغنی برادر:
    ملا عبدالغنی برادرطالبان کے بانیوں میں سے ہیں اور ان کا نام افغانستان کے نئے صدر کے طور پر سامنے آرہا ہے۔ عبدالغنی برادر طالبان کے سیای معاملات کی سربراہی کر رہے ہیں اور دوہا میں ہونے والے مزاکرات میں شرکت کرتے رہے ہیں، 1968 میں افغانستان کے اورگزان صوبے کے گاؤں وتیمک میں پیدا ہونے والے عبدالغنی کا درانی پشتون ہیں اور ان کا تعلق پوپلزائی قبیلہ سے ہے ۔ ان کا شمار ملا عمر کے انتہائی قابل اعتماد ساتھیوں میں ہوتا ہے۔ انہوں نے روس کے خلاف افغان جہاد میں بھی حصہ لیا اور 1994 میں ملا عمرکے ساتھ مل کر طالبان کی بنیاد رکھی۔ انہیں فروری 2010 میں کراچی سے گرفتار کیا گیا لیکن اکتوبر 2018 میں امریکی ایما پر انہیں رہا کر دیا گیا، رہائی کے بعد امریکا کے ساتھ امن مزاکرات میں انہوں نے اہم کردار ادا کیا۔ اس سے قبل وہ ملا عمر کے دور میں متعدد اہم عہدوں پر فرائض سرانجام دے چکے ہیں جن میں افغان فوج کے سپہ سالار وزیر دفاع اور نائب وزیر داخلہ جیسے اہم عہدے شامل ہیں۔

    سراج الدین حقانی:
    سراج الدین حقانی افغان مجاہدین کے مشہور رہنما جلاالدین حقانی کے صاحبزادے ہیں وہ طالبان کے زیلی گروہ حقانی نیٹ ورک اور حقانی قبیلے کی سربراہ بھی ہیں 2016 میں انہیں طالبان کا مرکزی نائب امیر بھی منتخب کیا گیا مگر 2020 میں کورونا شکار ہونے کے بعد وہ طالبان کی قیادت کے فرائض سے دور رہے ہیں۔حقانیوں کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ افغانستان میں خودکش حملوں کا رواج انہوں نے ڈالا، سراج حقانی کے سر پر امریکہ نے 10 میلین ڈالر کا انعام بھی رکھا ہے اور ان کو مارنے کے لئے متعدد درون حملے بھی کئے ہیں ۔ وہ سابق افغان صرر حامد کرزائی سمیت افغانستان میں اہم نوعیت کے حملوں میں بھی ملوث رہے ہیں۔حقانی گروہ طالبان کے معاشی اور دوجی اثاثہ جات کی دیکھ بھال کرتا ہے، 2010 میں سراج حقانی نے پشتون زبان میں فوج اسباق پر مبنی ایک کتاب میں بھی لکھی جس میں وہ طالبان کی نسبت زیادہ شدت پسند نظر آئے اور انہوں نے سر قلم کرنے خودکش حملوں اور مغربی اقوام پرحملوں کی کھل کر حمایت کی۔

  • اشرف غنی قریبی ساتھیوں کو بغیر بتائے ملک چھوڑ گئے

    کابل(اے ایف بی ) جب طالبان کا ایک وفد صدارتی محل میں حکومتی نمائندوں سے اقتدار کی پُرامن منتقلی کے لیے مذاکرات کر رہا تھا اور مسلح طالبان کابل کا گھیراؤ کیے ہوئے تھے کہ جیسے ہی مذاکرات کا کوئی حل نکلے اور وہ اپنے رہنماؤں کی ہدایت پاتے ہی دارالحکومت میں داخل ہوجائیں، ایسے میں صدر اشرف غنی اچانک اپنے سیاسی رفقاء کو تنہا چھوڑ کر ملک سے روانہ ہوجاتے ہیں۔ جب افغان صدر اشرف غنی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بک پر ملک چھوڑنے کی اطلاع دی تو یہ بات سب کے لیے جتنی حیران کن تھی اس سے زیادہ ان کے سیاسی رفقاء اور صدارتی محل میں طالبان سے مذاکرات کرنے والے سیاسی قائدین کے لیے پریشان کن تھی۔

    عالمی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ اشرف غنی کے افغانستان چھوڑنے سے ان کے قریبی ساتھی بھی لاعلم تھے حتیٰ کے قومی مصالحتی کونسل کے سربراہ عبد اللہ عبداللہ اور سابق صدر حامد کرزئی بھی بے خبر تھے۔رپورٹ کے مطابق افغان صدر صرف چند انتہائی قریبی ساتھیوں اور اہل خانہ کے ہمراہ جلا وطن ہوئے۔ اُن کی روانگی بھی اسی طرح ہوئی جیسے وہ صدر بننے کے لیے کابل ایئرپورٹ پر اترے تھے یعنی حامیوں کے ہجوم کے بغیر تنہا اور اکیلے۔

    یہ واضح نہیں کہ اشرف غنی کس ملک گئے ہیں تاہم ایسی غیر مصدقہ اطلاعات ہیں کہ اشرف غنی کی جائے پناہ تاجکستان ہے۔ملک سے روانگی کی تصدیق کرتے افغان صدر نے فیس بک پر لکھا تھا کہ مسلح طابان کا مقابلہ کرکے خون ریزی کے بجائے انھوں نے ملک چھوڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔صدر غنی کی اس بے وفائی پر دل برداشتہ ان کے حکومتی اتحادی ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ نے ویڈیو پیغام میں کہا کہ دارالحکومت کو تنہا چھوڑنے پر اشرف غنی خدا کو جواب دہ ہوں گے۔اسی طرح سابق صدر حامد کرزئی جو صدارتی محل میں جاری مذاکرات کی کامیابی کے لیے آخری لمحے تک پُرامید تھے نے اشرف غنی کے اس اقدام پر انتہائی مایوس کا اظہار کیا ۔افغان میڈیا میں بھی اشرف غنی کے ملک چھوڑ کر جانے کے عمل کو بزدلانہ قرار دیا جا رہا ہے۔ افغان نشراتی ادارے ‘طلوع’ کے مالک سعد محسنی کا کہنا ہے کہ غنی نے ہمیں دھوکا دیا ہے۔

  • طالبان کابل میں داخل؛طورخم سرحد پربھی طالبان کا قبضہ؛بارڈر سیل

    پشاور(اے ایف بی )طور خم سرحد پر طالبان نے قبضہ کرکے بارڈر بھی بند کردیا۔ چمن سے متصل باب دوستی گیٹ کا کنٹرول سنبھالنے کے بعد اب طالبان نے طور خم بارڈر پر بھی مکمل کنٹرول حاصل کرلیا ہے، اور پولیس کا کہنا ہے کہ طالبان نے کنٹرول حاصل کرنے کے بعد بارڈر بند کر دیا ہے۔دوسری جانب جس کے بعد پاکستان نے بھی پاک افغان سرحد سیل کردی ہے، اور سیکیورٹی فورسز کی اضافی نفری تعینات کردی گئی ہے۔

    طالبان جلال آباد اور مزار شریف کو فتح کرنے کے بعد کابل کے مضافات میں داخل ہوگئے اور ترجمان طالبان نے دارالحکومت میں پُرامن طریقے سے داخل ہونے اور کسی سے انتقام نہ لینے کا اعلان کیا ہے۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق افغانستان کے وزیر داخلہ نے بتایا ہے کہ طالبان کابل میں تمام اطراف سے داخل ہوگئے۔ سائرن بج رہے ہیں اور چاروں طرف سے فائرنگ کی آوازیں سنائی دے رہی ہیں جب کہ فضا میں ہیلی کاپٹر پرواز کر رہے ہیں۔افغانستان میں ترجمان طالبان نے اعلان کیا ہے کہ وہ دارالحکومت کو طاقت کے ذریعے فتح کرنے کا منصوبہ نہیں رکھتے اور نہ ہی کسی سے انتقام لیں گے۔ ہمارے جنگجو کابل کے داخلی دروازوں پر کھڑے ہیں اور پُر امن طریقے سے داخل ہونا چاہتے ہیں۔

  • کچھ اور رہے نہ رہے افغان کرکٹ ٹیم برقرار رہے گی، طالبان

    افغانستان (اے ایف بی ) طالبان نے اعلان کیا ہے کہ افغانستان میں کرکٹ کا مستقبل روشن ہے افغان کرکٹ ٹیم نہ صرف برقرار رہے گی بلکہ اس کی تعمیر وترقی کے لئے ہر ممکن کوشش کی جائے گی۔رپورٹ کے مطابق غنی حکومت کے روز بروز کمزور ہونے کے بعد اسپورٹس حلقے افغان کرکٹ ٹیم کے حوالے سے پریشان تھے کہ امن وامان کی اس بدترین حالات میں افغان کرکٹ ٹیم کے مستقبل قریب میں ہونے والے بیرون ملک دوروں کا مستقبل کیا ہے لیکن اس حوالے سے جب دوحہ میں طالبان رہنماؤں سے سوال کیا گیاتو ان ک جواب نے ساری فکریں دور کردیں۔

    طالبان ترجمان کا کہنا تھا کہ کرکٹ کو انہوں نے ہی متعارف کرایا تھا اور اب بھی کرکٹ جاری رہے گی بلکہ اس میں بہتری لائیں گے انہوں نے افغان کرکٹ ٹیم کو برقرار رکھنے کا اعلان بھی کیا ترجمان طالبان سہیل شاہین نے کہا کہ یہی لوگ ہوں گے اور یہی ہمارے کھلاڑی ہیں۔ دوسری طرف افغانستان کرکٹ بورڈ کے ترجمان حکمت حسن کا کہنا تھا کہ افغانستان کی ٹیم اگلے ماہ پاکستان کے ساتھ سری لنکا میں ہونے والی سیریز کے لیے اتوار کو روانہ ہو جائے گی ۔ ٹیم میں دو مزید تبدیلیاں کرتے ہوئے نور علی زاردان اور حضرت زادہ کو شامل کیا گیا ہے اور حشمت اللہ شہیدی کی بطور کپتان یہ پہلی سیریز ہو گی۔

  • پنجاب : چھ ہوٹلوں کو شراب کے لائسنس جاری

    لاہور(اے ایف بی )1977 سے 2019 تک 6 بڑے ہوٹلوں کوشراب کی فروخت کے لائسنس جاری کئے گئے۔تفصیلی رپورٹ پنجاب اسمبلی میں پیش کردی گئی۔محکمہ آبکاری،محصولات اور انسدادِ منشیات کی جانب سے پنجاب اسمبلی میں رپورٹ پیش کی گئی ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ1977 سے 2019 تک 6 بڑے ہوٹلوں کو ایل 2 لائسنس جاری ہوئے۔رپورٹ کے مطابق 1977 میں پیپلزپارٹی کے پہلے دور حکومت میں فلیٹیز ہوٹل اور پرل کانٹیننٹل لاہور کو شراب پرچون میں فروخت کے لائسنس جاری ہوئے، فلیٹیز ہوٹل کا لائسنس بعض وجوہات کی بنا پر معطل ہے۔

    رپورٹ کے مطابق 1981 میں ضیا دور میں اواری ہوٹل لاہور کو شراب کا لائسنس جاری کیا گیا۔2001 میں مشرف دور حکومت میں ایمبیسیڈر ہوٹل کو ایل 2 لائسنس جاری ہوا۔2004 میں مسلم لیگ ق کے دور حکومت میں ہاسپٹیلٹی ان ہوٹل لاہور کو شراب کا لائسنس دیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق 2019 کو تبدیلی سرکار نے بھی یونیکورن پریسٹج لمیٹڈ لاہور کو ایل 2 کا لائسنس جاری کیا

  • شوگر ملز کو چینی 97 روپے فی کلو گرام پر فروخت کرنے کی مشروط اجازت مل گئی

    اسلام آباد (اے ایف بی) سپریم کورٹ نے شوگر ملز کو مقرر کردہ ایکس مل ریٹ 97 روپے فی کلو گرام پر چینی فروخت کی مشروط اجازت دے دی۔جسٹس عمر عطاء بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی بنچ نے چینی کی قیمت مقرر کرنے سے متعلق حکومتی اپیل پر سماعت کی، ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ حکومت کا ایکس مل ریٹ 84 اور شوگر مل مالکان کا 97 ہے۔ حکومت عوام کے حقوق کی محافظ ہے، قیمت مقرر کرنے کا اختیار حکومت کا ہے، حکومت نے چینی کی ایکس مل قیمت مقرر کی تھی، لاہور ہائی کورٹ نے حکومت کی ایکس مل قیمت پر حکم امتناع جاری کیا۔ عدالت عالیہ کا عبوری حکم ختم نہ ہوا تو مل مالکان مہنگی چینی فروخت کریں گے۔

    وکیل شوگر ملز مالکان نے موقف اختیار کیا کہ لاہور ہائی کورٹ کا عبوری حکم ختم کیا تو اس کا نقصان ہوگا، عبوری حکم ختم ہوا تو سارا اسٹاک اٹھا لیا جائے گا۔فریقین کے دلائل سننے کے بعد سپریم کورٹ نے شوگر ملز کو مقرر کردہ ایکس مل ریٹ پر چینی فروخت کی مشروط اجازت دے دی۔ حکومت اور شوگر ملز مالکان کی مقرر کردہ ریٹ میں فرق پر مبنی رقم ہائی کورٹ میں جمع ہوگی، شوگر ملز ایکس مل ریٹ میں فرق پر مبنی رقم رضاکارانہ طور پر جمع کرائیں گی۔ عدالت نے قرار دیا کہ شوگر ملز کی طرف سے صرف مچلکے جمع کرانا کافی نہیں، متعلقہ کین کمشنر چینی کے سٹاک اور فروخت کا ریکارڈ مرتب رکھیں۔

    سپریم کورٹ نے کیس لاہور ہائی کورٹ کو واپس بھجوا تے ہوئے درخواستوں پر 15 دن میں فیصلے کی ہدایت کردی۔ عدالت نے ریمارکس دیئے کہ لاہور ہائی کورٹ میں چینی کی قیمت کا کیس زیرالتواء ہے، ہائی کورٹ نے حکومت کی مقررہ قیمت کے خلاف یکطرفہ حکم امتناع جاری کیا، عدالت کی ذمہ داری ہے کہ قانونی نقطے پر فیصلہ کرے، قیمتوں اور نفع نقصان کا تعین کرنا عدلیہ کی ذمہ داری نہیں ہے، ہائی کورٹس کی قیمتوں کے معاملے میں مداخلت غیر متعلقہ حدود میں داخلے کے مترادف ہے، عدلیہ کی غیر متعلقہ حدود میں مداخلت شرمندگی کا باعث بنتی ہے۔

  • کوروناکی لہر راولپنڈی کے 28 مقامات پر سمارٹ لااک ڈوان کا نفاذ

    راولپنڈی (اے ایف بی)کورونا وائرس کی چوتھی لہر کے بڑھنے کے پیش نظر راولپنڈی انتظامیہ نے 28 مقامات پردس روز کےلیے سمارٹ لاک ڈاون لگادیا جن علاقوں میں سمارٹ لاک ڈاون لگایا گیا ہےان علاقوں میں 10 اگست سے 20 اگست تک سمارٹ لاک ڈاون کا نفاذکردیاگیا ہے

    چوہڑرہرپال پشاور روڈ کینٹ۔ایئر پورٹ ہاؤسنگ سوسائٹی ، گلزار قائد گلزار قائد ، ایئرپورٹ روڈ ،چکلالہ سکیم 3 کینٹ۔ٹینچ بھاٹہ، عابد مجید روڈ کینٹ۔لالہ رخ ، واہ کینٹ ، ٹیکسلا۔گلشن آباد ، اڈیالہ روڈ ، وارث خان ، مری روڈ ،شمس آباد ، مری روڈ ، شکریال ، آئی جے پی روڈ ،سیٹلائٹ ٹاؤن ، صادق آباد ،افشاں کالونی رینج روڈ کینٹ۔امر پورہ چاہ سلطان،اریہ محلہ لیاقت باغ،اصغر مال ،ڈھوک چودہریان بوستان خان روڈ ڈھوک الہی بخش کمیٹی چوک ،ڈھوک پراچہ 6 ویں روڈ،ڈھوک رٹہ ،عید گاہ اصغر مال روڈ خیابان ای سر سید روڈ کری روڈ ، مورگاہ ، مسلم ٹاؤن بینڈ خانہروڈ ،پیر ودہائی ، پیر ودہائی روڈ ،فیز 8 بحریہ ٹاؤن ، راولپنڈی، پنڈورا ، سید پور روڈ ، راولپنڈی شامل ہیں